کوئی بھی ڈرامہ جب لکھا جاتا ہے تو ایسا نہیں ہوتا اس کا ایک ایک جملہ یا سین حقیقت سے حکایت ہو بلکہ ڈرامہ ایک اسکرپٹ رائٹر کے قلم کی حرکت اور اس کے تخیلات کے نتیجے میں پرورش پاتا ہے پھر ڈائریکٹر اور پروڈیوسر اس میں حقیقت کا رنگ بھرنے کے لئے لاکھ جتن کرتے ہیں کسی بھی تاریخی ڈرامے کے لئے زیادہ سے زیادہ اتنا کہا جا سکتا ہے کہ اگر حقائق کو توڑ مروڑ کر پیش نہیں کیا گیا تو صرف ایسا ہو سکتا ہے کہ کوئی واقعہ یا کوئی پیش رفت سامنے رکھ کر پورے سین چلائے گئے ہوں گے لیکن ہر جملہ اور ہر سین حقیقت سے مطابقت رکھتا ہو تو پھر فن ڈرامہ سے اسکرپٹ رائٹر تو فارغ ہی ہو جائے گا۔
ڈرامہ کوئی بھی ہو وہ حقائق کی مکمل عکاسی نہیں کر سکتا پھر اگر ڈرامے میں بے پردہ عورتیں ہوں میوزک ہو اجنبی مرد و عورت کو محارم یا میاں بیوی کے برتاؤ میں دکھایا گیا ہو تو ایسے ڈرامے کو مقدس ہونے کا درجہ تو کوئی بھی صاحب عقل نہیں دے گا. پھرخلاف شرع امورکو کیسے صرفِ نظر کیا جا سکتا ہے؟۔
تعلیم و تربیت کے لئے کتاب اور استاد بہترین ذرائع ہیں تاریخی واقعات بھی مستند کتابوں سے پڑھے جائیں جب ہی حقیقت تک رسائی ہوتی ہے۔
أرطغرل غازی بلا شبہ ایک عظیم شخصیت کا نام ہے کیا ہی اچھا ہوتا کہ ان کی شخصیت پر مستند کتب کے ریفرنس کے ساتھ اخبارات مسلسل تاریخی واقعات بیان کرتے پھر کتابی صورت میں بھی یہ مواد شائع ہوتا لیکن کچھ محققین کا کہنا ہے کہ ڈراموں میں اصل واقعات تک بیان نہیں ہوتے فرضی واقعات کا سہارا لیا جاتا ہے۔لہذا کتاب ہی وہ بہترین ذریعہ ہے جو مشاہیر امت کی شخصیت کو بہتر انداز میں واضح کر سکتا ہے۔
از قلم مفتی علی اصغر
5 رمضان المبارک 1441 بمطابق 29 اپریل وقت سحر