logo logo
AI Search
تازہ ترین 10-07-2025

ارتغرل ڈرامے کی شرعی حیثیت

کوئی بھی ڈرامہ جب لکھا جاتا ہے تو ایسا نہیں ہوتا اس کا ایک ایک جملہ یا سین حقیقت سے حکایت ہو بلکہ ڈرامہ ایک اسکرپٹ رائٹر کے قلم کی حرکت اور اس کے تخیلات کے نتیجے میں پرورش پاتا ہے پھر ڈائریکٹر اور پروڈیوسر اس میں حقیقت کا رنگ بھرنے کے لئے لاکھ جتن کرتے ہیں کسی بھی تاریخی ڈرامے کے لئے زیادہ سے زیادہ اتنا کہا جا سکتا ہے کہ اگر حقائق کو توڑ مروڑ کر پیش نہیں کیا گیا تو صرف ایسا ہو سکتا ہے کہ کوئی واقعہ یا کوئی پیش رفت سامنے رکھ کر پورے سین چلائے گئے ہوں گے لیکن ہر جملہ اور ہر سین حقیقت سے مطابقت رکھتا ہو تو پھر فن ڈرامہ سے اسکرپٹ رائٹر تو فارغ ہی ہو جائے گا۔

ڈرامہ کوئی بھی ہو وہ حقائق کی مکمل عکاسی نہیں کر سکتا پھر اگر ڈرامے میں بے پردہ عورتیں ہوں میوزک ہو اجنبی مرد و عورت کو محارم یا میاں بیوی کے برتاؤ میں دکھایا گیا ہو تو ایسے ڈرامے کو مقدس ہونے کا درجہ تو کوئی بھی صاحب عقل نہیں دے گا. پھرخلاف شرع امورکو کیسے صرفِ نظر کیا جا سکتا ہے؟۔

تعلیم و تربیت کے لئے کتاب اور استاد بہترین ذرائع ہیں تاریخی واقعات بھی مستند کتابوں سے پڑھے جائیں جب ہی حقیقت تک رسائی ہوتی ہے۔

أرطغرل غازی بلا شبہ ایک عظیم شخصیت کا نام ہے کیا ہی اچھا ہوتا کہ ان کی شخصیت پر مستند کتب کے ریفرنس کے ساتھ اخبارات مسلسل تاریخی واقعات بیان کرتے پھر کتابی صورت میں بھی یہ مواد شائع ہوتا لیکن کچھ محققین کا کہنا ہے کہ ڈراموں میں اصل واقعات تک بیان نہیں ہوتے فرضی واقعات کا سہارا لیا جاتا ہے۔لہذا کتاب ہی وہ بہترین ذریعہ ہے جو مشاہیر امت کی شخصیت کو بہتر انداز میں واضح کر سکتا ہے۔

از قلم مفتی علی اصغر

5 رمضان المبارک 1441 بمطابق 29 اپریل وقت سحر

متعلقہ مضامین

تازہ ترین

شرم و حیا کا پیکر بننے کا طریقہ

مسلمان مَردوں کو حکم دو کہ اپنی نگاہیں کچھ نیچی رکھیں اور اپنی شرمگاہوں کی حفاظت کریں، یہ ان کے لئے زیادہ پاکیزہ ہے، بیش...

تازہ ترین

!!!پہلے قومیت بعد میں اسلام

علم وہ روشنی ہے جو شب ظلمات میں روشن چراغ کا کام کرتی ہے اور صحیح سمت کی جانب رہنمائی کر کے دینی و دنیاوی فوائد سے ہمکنا...

تازہ ترین

100 شہیدوں کا ثواب

حضرت سیّدنا ابوہُریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسولِ مقبول، بی بی آمنہ کے گلشن کے مہکتے پھول صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ و...