logo logo
AI Search
Maut Ki Tamanna Karna Kaisa?
جائز و ناجائز 30-07-2026

موت کی تمنّا کرنا کیسا؟

رسولُ اللہ صلَّی اللہ تعالٰی علیہ و اٰلہٖ و سلَّم نے ارشاد فرمایا: لَا یَتَمَنَّیَنَّ اَحَدٌ مِّنْکُمُ الْمَوْتَ اِمَّا مُحْسِنًا فَلَعَلَّہٗ اَنْ یَّزْدَادَ خَیْرًا وَ اِمَّا مُسِیْئًا فَلَعَلَّہٗ اَنْ یَّسْتَعْتِبَ یعنی تم میں سے کوئی موت کی تمنّا ہرگز نہ کرے (کیونکہ) یا تو وہ نیکوکار ہوگا تو شاید وہ نیکیاں بڑھائے یا وہ گنہگار ہوگا تو شاید وہ توبہ کرلے۔ (نسائی، ص 311، حدیث: 1815)

مؤمن کے لئے دُنیاوی زندگی اللّٰہ تعالٰی کی عظیم نعمتوں میں سے ایک نعمت ہے کیونکہ اسی دنیا میں وہ اپنے ربّ عَزَّوَجَلَّ کو راضی کرنے والے کام کرسکتا ہے اور اپنی آخرت کو بہتر بنا سکتا ہے۔ اور اگر اس سے گُناہ سَرزَد ہوئے ہیں تو یہاں اس کو توبہ کی مُہلت بھی ملی ہوئی ہے۔ اس لئے موت کی تمنّا نہیں کرنی چاہئے۔

مُفَسِّرِ قراٰن، حکیمُ الاُمّت حضرت مفتی احمد یار خان نعیمی علیہ رحمۃ اللہ القَوی فرماتے ہیں: مؤمن کی زندگی بہرحال اچھی ہے کیونکہ اعمال اسی میں ہوسکتے ہیں۔ مزید فرماتے ہیں: زندگی کا زمانہ تُخْم (بیج) بونے کا زمانہ ہے جو بوئے گا، آگے چَل کر کاٹے گا، بدکار اگر توبہ کرے گا تو اسی زندگی میں، نیک کار نیکیاں بڑھائے گا تو اسی زندگی میں۔ (مراٰۃ المناجیح، 2/436، ملتقطاً)

مؤمن کا طویل عُمر پانا اور اس میں نیک عمل کرنا باعثِ سعادت ہےچنانچہ مسندِاحمد کی حدیث میں ہے: وَ اِنَّ مِنَ السَّعَادَةِ اَنْ يَطُوْلَ عُمْرُ الْعَبْدِ وَ يَرْزُقَہُ اللہُ الْاِنَابَةَ یعنی نیک بختی میں سے یہ ہے کہ بندے کی عُمر طویل ہو اور اللّٰہ تعالٰی اسے (اپنی طرف) رجوع کرنا نصیب کرے۔ (مسند احمد، 5/87، حدیث: 14570)

حافظ ابنِ حَجر ہَیْتَمِی رحمۃ اللہ تعالٰی علیہ فرماتے ہیں: یعنی اللّٰہ تعالٰی کے احکام کی بَجا آوَرِی، اس کی منع کردہ باتوں سے بَچ کر اور سچی توبہ اوراِخلاص کے ساتھ اسے اللّٰہ تعالٰی کی طرف رجوع کرنا نصیب ہوجائے (تو یہ سعادت کی بات ہے نیز موت کی تمنّا کرنا اس لئے منع ہے کہ) انسان اپنے ربّ کی عبادت اور اُخْرَوِی کامیابی کو حاصل کرنے کے لئے پیدا کیا گیا ہے اور اس کی زندگی اس کا رَأسُ المال ہے (یعنی اسی کے ذریعے وہ یہ سعادَت حاصل کرتا ہے) تو اس زندگی کا ختم ہوجانا اس فائدے کے ختم ہونے کو لازم ہے اور یہ بہت بڑا نقصان ہے۔ (فتح الالہ فی شرح المشکاۃ، 6/20، تحت الحدیث: 1613)

یہ یاد رہے موت کی تمنّا اس صورت میں ممنوع و ناجائز ہے جبکہ یہ دُنیاوی مصیبت کی وجہ سے ہو، اگر یہ تمنّا اللّٰہ تعالٰی سے ملاقات، سیّدُنَا وَحَبِیْبُنَا آقائے کریم صلَّی اللہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم کی زیارت و ملاقات یا نیک صالح بزرگوں سے ملاقات کے لئے ہو یا جب اس کے دِین میں نقصان ہو رہا ہو تو  موت کی تمنّا کرنا جائز ہے۔ جیساکہ رئیسُ المتکلمین حضرت علامہ مولانا نقی علی خان علیہ رحمۃ  الرَّحمٰن فرماتے ہیں: یہ دعا (یعنی مرنے کی دعا) بسببِ شوقِ وَصْلِِ الٰہی (اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں حاضری کے شوق) و اِشْتِیاقِ لِقائے صالحین (نیکوں سے ملاقات کی تمنّا کی وجہ سے) دُرست ہے۔ اسی طرح جب دین میں فتنہ دیکھے تو اپنے مرنے کی دعا جائز ہے۔ (فضائلِ دعا، ص 182)

امامِ اہلِ سنّت امام احمد رضا خان علیہ رحمۃ  الرَّحمٰن فرماتے ہیں: خلاصہ یہ کہ دُنْیَوی مَضَرَّتوں(نقصانات) سے بچنے کے لئے موت کی تمنّا ناجائز ہے اور دینی مَضَرَّت (دینی نقصان) کے خوف سے جائز کَمَا فِی الدُّرِّ الْمُخْتَار وَ الْخُلَاصَۃِ وَ غَیرِہِمَا (جیسا کہ در مختار، خلاصہ اور دیگر کتب میں ہے)۔ (ملخص اَز فضائلِ دعا، ص 183)

 

ماہنامہ فیضان مدینہ ذوالقعدۃ الحرام 1438ھ اگست2017ء

متعلقہ مضامین

جائز و ناجائز

زمین پر قبضہ کرنا کیسا؟

جو شخص ظلمًا بالشت بھر زمین لے لے اللہ تعالٰی اسے اس بات کاپابند کرے گا کہ اسے سات زمینوں کی تہ تک کھودے پھر قیامت کے دن...