logo logo
AI Search
علم روشنی ہے
تازہ ترین 06-08-2026

!!!پہلے قومیت بعد میں اسلام

علم وہ روشنی ہے جو شب ظلمات میں روشن چراغ کا کام کرتی ہے اور صحیح سمت کی جانب رہنمائی کر کے دینی و دنیاوی فوائد سے ہمکنار کرتی ہے اور علم کے مقابل جہالت ہے جو کہ ایک گھٹا، ٹوپ اندھیرا ہے۔ جہالت جتنی بڑی ہو گی اندھیرا بھی اتنا ہی گہرا ہو گا اور یہ جہالت کا اندھیرا دینی ودنیاوی نقصانات کا بنیادی سبب ہے۔
دورِ جاہلیت کی سیاہ ترین تاریخ سب کے سامنے ہے۔

نہاں ابر ظلمت میں تھا مہر انور
اندھیرا تھا فاران کی چوٹیوں پر

اس دور جاہلیت میں قوم پرستی کا عالم یہ تھا کہ اپنے قبیلے کی شان میں قصائد پڑھے اور لکھے جاتے جن سے مقصود اپنے قبیلے کی بڑائی یعنی اپنی شجاعت و بہادری، سخاوت اور دانش کو بیان کرنا اور اپنے آباء کے کارناموں پر فخر کرنا، اور اس کے ساتھ دوسروں کی ہجو یعنی کمتری و نقائص لوگوں کے سامنے بیان کرنا ہو تا۔ اپنی زبان و فصاحت پر اتنا فخر و تکبر کیا جاتا کہ دوسروں کو گونگا سمجھا جاتا۔ پھر اسی قوم پرستی پر برسوں تک جنگیں جاری رہتیں اور سینکڑوں افراد تلوار کا رزق بن جاتے۔

 وہ بکر و تغلب کی باہم لڑائی
صدی جس میں آدھی انھوں نے گنوائی
قبیلوں کی کر دی تھی جس نے صفائی
تھی اک آگ ہر سو عرب میں لگائی 
نہ جھگڑا کوئی ملک و دولت کا تھاوہ
کر شمہ اک ان کی جہالت کا تھا وہ

لیکن اسلام نے دور جاہلیت کی عصبیت و قوم پرستی کا مکمل خاتمہ فرما کر سب مسلمانوں کے مابین مساوات اور رشتہ اُخوت قائم فرمایا کہ تمام مسلمان بھائی بھائی اور سب برابر ہیں، کوئی شخص رنگ، قبیلہ ، زبان وغیرہ میں دوسرے پر کسی قسم کا شرف و فضل نہیں رکھتا۔ جیسا کہ اللہ پاک فرماتا ہے:

اِنَّمَا الْمُؤْمِنُوْنَ اِخْوَةٌ  ترجمہ: بیشک مسلمان بھائی بھائی ہیں۔ سورۃ الحجرات، آیت:10)

 حضور علیہ السلام نے خطبہ حجۃ الوداع میں فرمایا: يا أيها الناس ألا إن ربكم واحد ألا وإن أباكم واحد ألا لا فضل لعربي على عجمي ألا لا فضل لأسود على أحمر إلا بالتقوى

ترجمہ: اے لوگو! تمہارا رب ایک ہے اور تمہارا باپ بھی ایک ہے۔ یاد رکھو! کسی عربی کو کسی عجمی پر کسی عجمی کو کسی عربی پر کسی سرخ کو سیاہ پر اور کسی سیاہ کو کسی سرخ پر کوئی فضیلت نہیں
سوائے تقویٰ کے۔ (جامع الاحادیث، ج 39، ص 399، حدیث 42785، مطبوعه مصر)

 یہ جان لینا چاہیے کہ اللہ پاک نے یہ خاندان و قبائل صرف و صرف تعارف و باہمی پہچان کیلئے بنائے ہیں، کہ آپس میں ایک دوسرے کی پہچان رہے ، ان کا مقصد تفاخر و تکبر ہر گز نہیں اور نہ ہی یہ کوئی ایسی چیز ہے جس پر فخر و تکبر کیا جائے بلکہ عزت و وقار کا معیار صرف تقوی و خوفِ الہی ہے۔ جیسا کہ قرآن مجید میں اللہ پاک فرماتا ہے : ﴿ يَأَيُّهَا النَّاسُ إِنَّا خَلَقْنَكُمْ مِنْ ذَكَرٍ وَأُنثَى وَجَعَلْنَكُمْ شُعُوبًا وَقَبَابِلَ لِتَعَارَفُوا إِنَّ أَكْرَمَكُمْ عِنْدَ اللهِ أَتْقَكُمْ إِنَّ اللهَ عَلِيمٌ خَبِيرٌ ۔ ترجمہ کنز العرفان: اے لوگو! ہم نے تمہیں ایک مرد اور ایک عورت سے پیدا کیا اور تمہیں قو میں اور قبیلے بنایا تاکہ تم آپس میں پہچان رکھو، بیشک اللہ کے یہاں تم میں زیادہ عزت والا وہ ہے جو تم میں زیادہ پر ہیز گار ہے بیشک اللہ جاننے والا خبر دار ہے۔ سورة الحجرات، آیت:13۔

اس آیت کے تحت تفسیر صراط الجنان میں ہے: "اے لوگو! ہم نے تمہیں ایک مرد حضرت آدم علیہ الصلاۃ والسلام اور ایک عورت حضرت حوا رضی اللہ عنھا سے پیدا کیا اور جب نسب کے اس انتہائی درجہ پر جا کر تم سب کے سب مل جاتے ہو تو نسب میں ایک دوسرے پر فخر اور بڑائی کا اظہار کرنے کی کوئی وجہ نہیں ، سب برابر ہو اور ایک جد اعلیٰ کی اولاد ہو (اس لئے نسب کی وجہ سے ایک دوسرے پر فخر کا اظہار نہ کرو) اور ہم نے تمہیں مختلف قومیں ، قبیلے اور خاندان بنایا تا کہ تم آپس میں ایک دوسرے کی پہچان رکھو اور ایک شخص دوسرے کا نسب جانے اور اس طرح کوئی اپنے باپ دادا کے سوا دوسرے کی طرف اپنے آپ کو منسوب نہ کرے، نہ یہ کہ اپنے نسب پر فخر کرنے لگ جائے اور دوسروں کی تحقیر کرناشروع کر دے۔" (تفسیر صراط الجنان، سورة الحجرات، تحت الآية 13، مكتبة المدينه)

بد قسمتی کے ساتھ فی زمانہ وہی دور جاہلیت کی قوم پرستی بعض مسلمانوں میں دیکھنے کو ملتی ہیں،جو کہ علم دین سے محرومی کا نتیجہ ہے۔ وہی عصبیت و قوم پرستی جسے اسلام نے ختم فرما دیا تھا آج مسلمان کہلانے والوں میں بڑھتی جارہی ہے۔ یہ دعویٰ آپ نے مختلف لوگوں کی زبان سے سُنا ہو گا کہ پہلے میری قوم / ذات ہے اس کے بعد اسلام ہے، میں پہلے فلاں قوم / ذات والا ہوں ، بعد میں مسلمان ہوں۔

یو نہی بعض افراد اس باطل دعویٰ کو درست ثابت کرنے کیلئے تاریخی پس منظر کو بطور دلیل پیش کرتے ہیں کہ " ہم چار ہزار سال سے فلاں قوم / ذات والے ہیں جبکہ چودہ سو سال سے مسلمان ہیں۔"

اس کے جواب میں سب سے پہلے تو عرض یہ ہے کہ کسی چیز کا قدیم و پرانا ہونا، اس کے افضل یا درجہ کے اعتبار سے مقدم ہونے کی دلیل نہیں ہو تا ورنہ فرشتے مطلقاً بنی آدم سے افضل و مقدم ہوتے ، حالانکہ ایسا نہیں۔
دوسری بات یہ ہے کہ مذکورہ دعوی پر یہ دلیل دینا بھی غلط اور اسلامی تاریخ سے لاعلمی کی بناء پر ہے، کیونکہ جب سے یہ دنیا بنی ہے اور سب سے پہلے انسان ، ابو البشر حضرت سید نا آدم علی نبینا وعلیہ الصلاۃ والسلام کو اللہ پاک نے اس دنیا میں بھیجا ہے تب سے دین اسلام جاری ہے اور اس میں آنے والے انبیاء علیہم السلام اور ان کے ماننے والے سب مسلمان ہی تھے کہ تمام انبیاء علیہم السلام کا دین " اسلام " ہی تھا۔ جیسا کہ اللہ پاک فرماتا ہے: اِنَّ الدِّينَ عِنْدَ اللَّهِ الْإِسْلَامُ ) ترجمہ کنز العرفان: بیشک اللہ کے نزدیک دین صرف اسلام ہے۔ سورة آل عمران، آیت : 19

اس کے تحت تفسیر صراط الجنان میں شیخ الحدیث والتفسیر مفتی قاسم قادری دامت بر کاتہم العالیہ لکھتے ہیں: "ہر نبی کا دین اسلام ہی تھا، لہذا اسلام کے سوا کوئی اور دین بار گاہِ الہی عزوجل میں مقبول نہیں لیکن اب اسلام سے مراد وہ دین ہے جو حضرت محمد مصطفی صلی اللہ تعالی علیہ وسلم لائے، چونکہ آپ صلی اللہ تعالی علیہ وسلم کو اللہ تعالیٰ نے تمام لوگوں کیلئے رسول بنا کر مبعوث فرمایا اور آپ صلی اللہ تعالی علیہ وسلم کو آخری نبی بنایا، تو اب اگر کوئی کسی دوسرے آسمانی دین کی پیروی کرتا بھی ہو لیکن چونکہ وہ اللہ عزوجل کے اس قطعی اور حتمی دین اور نبی کو مکمل طور پر نہیں مان رہا، لہذا اس کا آسمانی دین پر عمل بھی مردود ہے۔" (تفسیر صراط الجنان سورة آل عمران، تحت الآية 19، مكتبة المدينه)

بلکہ عالم ارواح ہی میں کہ جب نہ کوئی قوم تھی اور نہ ہی کوئی ذات وغیرہ، اس وقت اللہ پاک نے تمام انسانوں سے اپنی ربوبیت و وحدانیت کا اقرار لے لیا تھا اور تمام انسانوں نے اس کا اقرار کیا تھا ، اسی لئے جب بھی کوئی بچہ پیدا ہوتا ہے تو وہ اسی دین اسلام پر پیدا ہوتا ہے، لہذا معلوم ہوا کہ دین اسلام صرف چودہ سو سال سے نہیں بلکہ عالم ارواح سے ہے اور چودہ سو سال سے اسلام کا دعوی باطل ہے۔

عالم ارواح میں اللہ پاک کی ربوبیت و وحدانیت کے اقرار سے متعلق اللہ پاک فرماتا ہے: وإِذْ أَخَذَ رَبُّكَ مِنْ بَنِي آدَمَ مِنْ ظُهُورِهِمْ ذُرِّيَّتَهُمْ وَ اَشْهَدَهُمْ عَلَى أَنْفُسِهِمْ أَلَسْتُ بِرَبِّكُمْ قَالُوا بَلَى شَهِدْنَا أَنْ تَقُولُوا يَوْمَ الْقِيمَةِ إِنَّا كُنَّا عَنْ هَذَا غُفِلِينَ ﴿17﴾ أَوْ تَقُولُوا إِنَّهَا أَشْرَكَ آبَاؤُنَا مِنْ قَبْلُ وَكُنَّا ذُرِّيَّةٌ مِّنْ بَعْدِهِمْ أَفَتُهْلِكُنَا بِمَا فَعَلَ الْمُبْطِلُونَ ﴾ ترجمہ کنز العرفان: اور اے محبوب! یاد کرو جب تمہارے رب نے اولادِ آدم کی پشت سے ان کی نسل نکالی اور انہیں خود ان پر گواہ بنایا ( اور فرمایا) کیا میں تمہارا رب نہیں ؟ سب نے کہا: کیوں نہیں، ہم نے گواہی دی۔ ( یہ اس لئے ہوا) تاکہ تم قیامت کے دن یہ نہ کہو کہ ہمیں اس کی خبر نہ تھی۔ یا یہ کہنے لگو کہ شرک تو پہلے ہمارے باپ دادا نے کیا اور ہم ان کے بعد ( ان کی اولاد ہوئے تو کیا تو ہمیں اس پر ہلاک فرمائے گا جو اہل باطل نے کیا۔سورة الاعراف، آیت:173, 172

ہر بچہ دین فطرت یعنی دین اسلام پر پیدا ہوتا ہے ،جیسا کہ حدیث مبارکہ میں حضور سیدِ عالم صلی اللہ تعالی علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: " ما من مولود إلا يولد على الفطرة " ترجمہ: ہر پیدا ہونے والا بچہ دین فطرت ( دین اسلام) پر پیدا ہوتا ہے۔ (صحیح البخاری، ج8، ص 125، حدیث 6599، مطبوعه المصر)

نیز بعض اوقات یہ جملہ (معاذ الله عز وجل) احکامِ دینیہ سے رو گردانی و مخالفت کیلئے بھی بولا جاتا ہے کہ جب کسی قوم یا خاندان میں کوئی رواج ہو اور دین اس کی اجازت نہ دیتا ہو تو اس موقع پر یہ جملہ کہہ دیا جاتا ہے کہ ہم پہلے فلاں قوم والے ہیں ، بعد میں مسلمان ہیں، حالانکہ یہ انتہائی خطرناک و باطل بات ہے کہ جس اللہ عزوجل نے ہمیں پیدا کیا، بے شمار نعمتوں سے نوازا، اس کے دیے ہوئے احکام کو محض اپنے خاندان یا قومیت کے سبب نہیں چھوڑا جا سکتا بلکہ درست بات یہی ہے کہ پہلے ہم مسلمان ہیں، احکام دینیہ کے پابند ہیں، اس کے بعد کسی قوم سے وابستہ ہیں، اگر قوم و قبیلہ کا کوئی رواج یا فیصلہ ، اسلام سے ٹکرائے گا تو عمل حکم اسلام پر ہو گا۔

اللہ پاک ہمیں حق سیکھنے و سمجھنے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین

متعلقہ مضامین

تازہ ترین

شرم و حیا کا پیکر بننے کا طریقہ

مسلمان مَردوں کو حکم دو کہ اپنی نگاہیں کچھ نیچی رکھیں اور اپنی شرمگاہوں کی حفاظت کریں، یہ ان کے لئے زیادہ پاکیزہ ہے، بیش...

تازہ ترین

100 شہیدوں کا ثواب

حضرت سیّدنا ابوہُریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسولِ مقبول، بی بی آمنہ کے گلشن کے مہکتے پھول صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ و...

تازہ ترین

عید میلاد النبی کا استقبال کیجئے

عید میلادالنبی صلی اللہ علیہ وسلم کا پر نور دن آنے والا ہے اس کی مہکتی ٹھنڈی ہوا کے جھونکے آرہے ہیں گھروں اور گلیوں میں...