مرد وعورت کا ایک جم میں ورزش کرنا اور ایسے جم کو چلانا کیسا؟
بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ
مرد و عورت کے مخلوط جم میں ورزش کرنے اور ایسے جم کو چلانے کا حکم
دار الافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی)
سوال
کیا فرماتے ہیں علمائے دین و مفتیان شرع متین اس مسئلے کے بارے میں کہ کیا ایسے مشترکہ اور مخلوط جِم میں جا کر ایکسرسائز کرنا شرعی اعتبار سے جائزہے؟ جہاں ایک ہی جگہ مرد وعورت ورزش کرتے ہیں اور اس وقت ان کے لباس عموماً ٹراؤزر اور شرٹ پر مشتمل ہوتے ہیں اور انتہا درجے کی بے پردگی ہوتی ہے۔ ایسے جِم کو جوائن کرنا اور ایسے جِم چلانے کا شرعی حکم کیا ہے؟
جواب
مسلمانوں کے لیے ان کے خدا کا حکم اور ان کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان ہر چیز سے بڑھ کر ہے۔ آئیے قرآن اور حدیث کی روشنی میں مذکورہ سوال کا تفصیلی جواب ملاحظہ کرتے ہیں۔
شریعت کا حکم یہ ہے کہ مشترکہ اور مخلوط جِم میں مرد و عورت کا ایک دوسرے کے سامنے تنگ، چست اور جسم کی نمائش کرنے والے لباس میں ورزش کرنا ناجائز و گناہ اور جہنم میں لے جانے والا کام ہے۔ ایسے جِم بنانا، چلانا بے شمار حرام کاموں اور فسق و فجور کا مجموعہ و منبع ہیں۔ درحقیقت یہ فٹنس اور ایکسر سائز کے نام پر دینِ اسلام کی تعلیمات کی کھلی خلاف ورزی، پرلے درجے کی بے حیائی اور فحاشی کو پھیلانے کا ذریعہ ہے۔ ایسا جِم قائم کرنا اور چلانا دوسروں کے لیے بے حیائی اور گناہ کے کاموں پر تعاون کرنا ہے اور یہ بھی ناجائز و حرام ہے، پھر ایسے جِم چلانے میں گناہوں کا انبار، یوں بھی ہے کہ وہاں آ کر بے حیائی کرنے والے تمام لوگوں کے وہاں ہونے والے گناہ، اِس جم بنانے، چلانے والے کے نامہ اعمال میں بھی لکھے جائیں گے، کیونکہ یہ ان تمام گناہوں کا سہولت کار ہے۔
مرد وعورت کے مخلوط جِم میں پائی جانے والی برائیوں کی تفصیل یہ ہے :
پہلی برائی: اس طرح کے مکس جِم میں مرد و عورت کا بغیر پردے اور شرعی حدود کے ایک ہی جگہ ورزش کرنا پایا جاتا ہے، حالانکہ شریعت مطہرہ میں مردوں کو اجنبی عورتوں کے ساتھ اختلاط سے بچنے کا واضح حکم ہے۔
دوسری برائی: ورزش کے لیے آنے والی خواتین عموماً بے پردہ ہوتی ہیں اور اُن کا لباس بھی بے پردگی والا ہوتا ہے، جس سے ان کے اعضائے ستر جیسے کلائیاں، بازو، گلا، بال وغیرہ بھی کھلے ہوتے ہیں۔ شرعی حکم یہ ہے کہ کسی مرد کا بلاعذرِ شرعی نامحرم بالغہ عورت کے اعضائے ستر کو دیکھنا اور بالغہ عورت کا نامحرم بالغ مرد کے سامنے اپنے اعضائے ستر کھولنا سخت ناجائز و حرام اور گناہ کا کام ہے، بلکہ فتنے کے پیش نظر عورت کے لیے چہرے کا پردہ بھی واجب ہے۔
تیسری برائی: اگر لباس ظاہری طور پر مکمل بھی ہو، تب بھی وہ اتنا چست اور تنگ ہوتا ہے کہ جسم کی ساخت، ہیئت اور ابھار نمایاں طور پر ظاہر ہوتے ہیں۔ ایسا لباس بھی بے پردگی کے حکم میں داخل ہے۔ شرعی حکم یہ ہے کہ ایسا لباس جس سے ناف سے لے کر گھٹنوں کے نیچے تک جسم کے کسی حصے کی مکمل ہیئت اور ابھار واضح طور پر معلوم ہو، تو عورت کے لیے ایسے لباس میں اجنبی مردوں کے سامنے آنا بھی شرعاً جائز نہیں اور اجنبی مرد کے لیے اس حالت میں عورت کی طرف دیکھنا بھی ناجائز و گناہ ہے۔ نیز چونکہ ایک مرد کا دوسرے مرد سے اور ایک عورت کا دوسری عورت سے ناف کے نیچے سے گھٹنے کے نیچے تک کے سارے حصے کا پردہ ہے، لہذا اتنے حصے میں سے کسی بھی حصے کو بلاوجہ شرعی دوسرے پر بے پردہ ظاہر کرنا، یا اتنا تنگ و چست لباس پہن کر مرد کا مرد کے سامنے آنا اور عورت کا دوسری عورت کے سامنے آنا کہ اتنے حصے میں سے کسی حصے کی پوری ہیئت دوسرے مرد یا دوسری عورت پر واضح ہوتی ہو، یہ بھی جائز نہیں۔
چوتھی برائی: ایسے نظام میں غیر محرم مرد و عورت کا آپس میں دوستیاں، غیر ضروری اور بے تکلفانہ گفتگو، ہنسی مذاق اور آزادانہ میل جول پایا جاتا ہے۔ یہ بھی سب ناجائز و حرام ہے، جس سے بچنے کا شریعت نے حکم دیا ہے۔
پانچویں برائی: اگر وہاں ورزش کے لئے آنے والے مردوں عورتوں کی آپس میں دوستیاں نہ بھی ہوں، تب بھی ایسی جگہوں پر بکثرت ایسا ہوتا ہے کہ عورتوں کو بھی مرد ٹرینر ہی ایکسرسائز کرواتے ہیں اور ان کے افعال بے حیائیوں کا مجموعہ ہوتے ہیں۔
بہرحال مرد و عورت کے مکس جم میں کئی شرعی خرابیاں موجود ہیں، لہذا اس سے بچنا لازم ہے۔ یونہی ایسے جِم چلانے کی بھی اسلام میں کسی صورت اجازت نہیں۔
جزئیات ملاحظہ ہوں:
بدنگاہی کی ممانعت سے متعلق ارشاد باری تعالی ہے:﴿قُلْ لِّلْمُؤْمِنِیْنَ یَغُضُّوْا مِنْ اَبْصَارِهِمْ وَ یَحْفَظُوْا فُرُوْجَهُمْؕ-ذٰلِكَ اَزْكٰى لَهُمْؕ-اِنَّ اللّٰهَ خَبِیْرٌۢ بِمَا یَصْنَعُوْنَ (۳۰) وَ قُلْ لِّلْمُؤْمِنٰتِ یَغْضُضْنَ مِنْ اَبْصَارِهِنَّ وَ یَحْفَظْنَ فُرُوْجَهُنَّ وَ لَا یُبْدِیْنَ زِیْنَتَهُنَّ اِلَّا مَا ظَهَرَ مِنْهَا وَ لْیَضْرِبْنَ بِخُمُرِهِنَّ عَلٰى جُیُوْبِهِنَّ﴾ ترجمۂ کنزُالعرفان: ’’مسلمان مردوں کو حکم دو کہ اپنی نگاہیں کچھ نیچی رکھیں اور اپنی شرمگاہوں کی حفاظت کریں، یہ ان کے لیے زیادہ پاکیزہ ہے، بیشک اللہ ان کے کاموں سے خبردار ہے۔ اور مسلمان عورتوں کو حکم دو کہ وہ اپنی نگاہیں کچھ نیچی رکھیں اور اپنی پارسائی کی حفاظت کریں اور اپنی زینت نہ دکھائیں، مگر جتنا (بدن کاحصہ) خود ہی ظاہر ہے اور وہ اپنے دوپٹے اپنے گریبانوں پر ڈالے رکھیں ۔ (پارہ 18، النور 30 ، 31)
تفسیر خزائن العرفان میں تفسیرات احمدیہ کے حوالے سے ہے: ’’حرہ (آزاد عورت) کا تمام بدن عورت (یعنی چھپانے کی چیز) ہے۔ شوہر اور مَحرم کے سوا کسی اور کے لئے اس کے کسی حصہ کو بے ضرورت دیکھنا جائز نہیں۔“ (تفسیر خزائن العرفان، سورہ نور، تحت الایۃ: 31، مکتبۃ المدینہ، کراچی)
مرد و عورت کے باہمی اختلاط کی ممانعت سے متعلق ابوداؤد شریف کی حدیث پاک ہے:
”عن حمزۃ بن أبی أسید الأنصاری، عن أبیہ، أنہ سمع رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم، یقول: وھو خارج من المسجد فاختلط الرجال مع النساء فی الطریق، فقال رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم للنساء: استأخرن، فإنہ لیس لکن أن تحققن الطریق علیکن بحافات الطریق فکانت المرأۃ تلتصق بالجدار حتی إن ثوبها لیتعلق بالجدار من لصوقها بہ“ ترجمہ: حضرت حمزہ بن اسید انصاری رضی اللہ عنہ اپنے والد سے روایت کرتے ہیں: انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا، اس حالت میں کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم مسجد سے باہر تشریف لا رہے تھے کہ راستے میں مردوں اور عورتوں کا اختلاط ہوا، تو حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے عورتوں سے ارشاد فرمایا: تم پیچھے ہو کر چلو، کیونکہ تمہارے لئے درست نہیں کہ تم بیچ راستے میں چلو، (لہذا) راستے کے کنارے پر چلو، پھر عورتیں دیواروں سے مل کر چلتی تھیں، یہاں تک کہ دیوار کے ساتھ مل کر چلنے کی وجہ سے ان کا کپڑا دیوار سے الجھ جایا کرتا تھا۔ (سنن ابی داؤد، جلد 4، صفحہ 369، رقم الحدیث: 5272، مکتبہ عصریہ، بیروت)
ابو داؤد شريف كی ایک اور حدیث مبارک میں ہے:’’عن ابن عمر: أن النبي صلى اللہ عليه وسلم، نهى أن يمشي يعني الرجل بين المرأتين‘‘ ترجمہ :حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اجنبی مرد کو، دو اجنبی عورتوں کے درمیان چلنے سے منع فرمایا۔ (سنن ابی داؤد، جلد 4، صفحہ 369، رقم الحدیث: 5273، مکتبہ عصریہ، بیروت)
اس حدیث کی شرح میں علامہ عبد الرؤف مناوی رحمۃ اللہ علیہ ’’فیض القدیر شرح جامع الصغیر‘‘ میں فرماتے ہیں:’’بل يمشيان بحافة الطرق حذرا من الإختلاط المؤدي إلى المفسدة ۔۔۔ وفي معنى المشي القعود بنحو مسجد أو طريق‘‘ ترجمہ: بلکہ عورتیں راستے کے کناروں پر چلیں، اختلاط سے بچنے کے لیے جو کہ فساد کی طرف لے جانے والا ہے۔ اور چلنے کے معنی میں مسجد یا راستے میں عورتوں کے درمیان بیٹھنے (کی ممانعت بھی) داخل ہے۔ (فیض القدیر، جلد 6، باب المناھی ، صفحہ 347، مطبوعہ مصر)
بدنگاہی کرنے اور کروانے والے پر خدا عزوجل کی لعنت ہے، چنانچہ شعب الايمان کی حدیث پاک میں ہے :’’عن الحسن ، قال : وبلغني ان رسول اللہ صلى اللہ عليه وسلم قال : لعن اللہ الناظر والمنظور اليه“ ترجمہ : حضرت حسن رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں، مجھے یہ خبر پہنچی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اللہ عزوجل بدنگاہی کرنے والے اور کروانے والے پر لعنت فرماتا ہے۔ (شعب الايمان ، جلد 10، صفحہ 214، رقم الحدیث 7399، مطبوعہ ھند)
اس حدیثِ پاک کے تحت مفتی احمد یار خان نعیمی رحمۃ اللہ علیہ ’’مراۃ المناجیح شرح مشکوۃ المصابیح‘‘ میں فرماتے ہیں: ”مطلب یہ ہے کہ جو مرد اجنبی عورت کو قصداً بلا ضرورت دیکھے اس پر بھی لعنت ہے اور جو عورت قصداً بلا ضرورت اجنبی مرد کو اپنا آپ دکھائے اس پر بھی لعنت۔“ (مراٰۃ المناجیح، جلد 5، صفحہ 25، نعیمی کتب خانہ، گجرات)
ایک مرد کا دوسرے مرد، یونہی ایک عورت کا دوسری عورت کے ستر کی طرف بغیر ضرورت کے نظر کرنا بھی جائز نہیں، چنانچہ صحیح مسلم شریف میں حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے: ’’أن رسول الله صلى الله عليه وسلم قال:لا ينظر الرجل إلى عورة الرجل ولا المرأة إلى عورة المرأة‘‘ ترجمہ: حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا: نہ مرد کسی دوسرے مرد کے ستر کی طرف نظر کرے اور نہ ہی عورت کسی دوسری عورت کے ستر کی طرف نظر کرے۔ (صحیح مسلم، جلد 1، صفحہ 266، الحدیث: 74 - (338) ، دار إحياء التراث العربي ، بيروت)
مرقاۃ المفاتیح میں ہے: ’’وفيه بيان تحريم النظر إلى ما لا يجوز۔ وعورة الرجل ما بين سرته وركبتيه وكذلك عورة المرأة في حق المرأة وفي حق محارمها وأما المرأة في حق الرجل الأجنبي فجميع بدنها عورة إلا وجهها وكفيها عند الحاجة‘‘ ترجمہ: اور اس حدیث میں اس چیز کی طرف نظر کرنے کی حرمت کا بیان ہے جس کی طرف دیکھنا جائز نہیں۔ مرد کا ستر ناف سے لےکر گھٹنوں تک ہے، اور اسی طرح (یعنی ناف سے لیکر گھٹنے تک کا حصہ) عورت کا ستر عورت ہے، (دوسری) عورت کے حق میں اور محارم کے حق میں۔ بہرحال اجنبی مرد کے حق میں عورت کا پورا جسم ستر عورت (چھپانے کی چیز) ہے، سوائے ضرورت کے وقت چہرے اور ہتھیلیوں کے۔ (مرقاۃ المفاتیح، جلد 5، صفحہ 2051، دار الفكر، بيروت)
شیخ عبد الحق محدث دہلوی رحمۃ اللہ علیہ ’’لمعات التنقيح فی شرح مشكاة المصابيح‘‘ میں فرماتے ہیں: ’’لما كان هذان القسمان محل أن يتوهم جوازهما والمسامحة فيهما خصهما بالذكر، فنظر الرجل إلى عورة المرأة ونظر المرأة إلى عورة الرجل أشد وأغلظ وأقرب إلى الحرمة‘‘
ترجمہ: چونکہ ان دونوں قسموں میں جواز اور نرمی کا وہم ہو سکتا تھا، اس لیے خاص طور پر ان کا ذکر فرمایا گیا، (بہرحال) مرد کا عورت کے ستر کی طرف دیکھنا اور عورت کا مرد کے ستر کی طرف دیکھنا زیادہ سخت، زیادہ سنگین اور حرمت کے زیادہ قریب ہے۔ (لمعات التنقيح في شرح مشكاة المصابيح ، جلد 6، صفحہ 20، دار النوادر، دمشق )
عورت کا باریک اور چست لباس پہننا بھی بے پردگی اور بے حیائی میں داخل ہے اور اس کی بھی ممانعت ہے، چنانچہ صحيح مسلم کی حدیث مبارکہ ہے: ’’عن أبي هريرة. قال:قال رسول اللہ صلى اللہ عليه وسلم :صنفان من أهل النار لم أرهما۔۔۔ ونساء كاسيات عاريات، مميلات مائلات، رؤسهن كأسنمة البخت المائلة، لا يدخلن الجنة، ولا يجدن ريحها. وإن ريحها ليوجد من مسيرة كذا وكذا‘‘ ترجمہ: حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ تعالی علیہ و آلہ و سلم نے ارشاد فرمایا: دوزخیوں کی دو جماعتیں ایسی ہیں جنہیں میں نے (اپنے زمانے میں) نہیں دیکھا۔ (میرے بعد والے زمانے میں ہوں گی۔ ایک جماعت) ایسی عورتوں کی ہوگی جو بظاہر کپڑے پہنے ہوئے ہوں گی، لیکن حقیقت میں بے لباس ہوں گی، بے حیائی کی طرف دوسروں کو مائل کرنے اور خود مائل ہونے والی ہوں گی، ان کے سر ایسے ہوں گے جیسے بختی اونٹوں کی ڈھلکی ہوئی کوہانیں ہوں، یہ جنت میں داخل نہ ہوں گی اور نہ ہی اس کی خوشبو سونگھیں گی، حالانکہ جنت کی خوشبو اتنی اتنی مسافت سے محسوس کی جائے گی۔ (صحیح المسلم، جلد 3، صفحہ 1680، حدیث 125، (2128) ، دار احیاء التراث العربی، بیروت)
اس حدیثِ پاک کے تحت علامہ علی قاری رحمۃ اللہ علیہ ’’مرقاۃ المفاتیح شرح مشکوٰۃ المصابیح‘‘ میں فرماتے ہیں: ’’يسترن بعض بدنهن ويكشفن بعضه اظهارا لجمالهن وابرازا لكمالهن وقيل: يلبسن ثوبا رقيقا يصف بدنهن وان كن كاسيات للثياب عاريات فی الحقيقة‘‘ ترجمہ: (اس حدیث کا مطلب یہ ہے کہ) وہ کچھ بدن چھپا کر رکھیں گی اور کچھ بدن اپنے حسن وجمال اور بدن کے کمال کو ظاہر کرنے کی غرض سے کھولے ہوں گی اور یہ بھی کہا گیا ہے کہ وہ باریک کپڑے پہنیں گی، جس سے ان کا بدن جھلکے گا، اگرچہ یہ عورتیں بظاہر کپڑے پہنے ہوئے ہوں گی، لیکن حقیقت میں بے لباس اور ننگی ہوں گی۔ (مرقاۃ المفاتیح جلد 6، صفحہ 2302، مطبوعہ، دار الفکر ، بیروت)
بہار شریعت میں ہے:’’دبیز(موٹا) کپڑا، جس سے بدن کا رنگ نہ چمکتا ہو، مگربدن سے بالکل ایسا چپکا ہوا ہے کہ دیکھنے سے عضو کی ہيات معلوم ہوتی ہے، ایسے کپڑے سے نماز ہو جائے گی، مگر اس عضو کی طرف دوسروں کو نگاہ کرنا جائز نہیں۔ (رد المحتار) اور ایسا کپڑا لوگوں کے سامنے پہننا بھی منع ہے اور عورتوں کے ليے بدرجۂ اَولیٰ ممانعت۔ بعض عورتیں جو بہت چست پاجامے پہنتی ہیں، اس مسئلہ سے سبق لیں۔“ (بھار شریعت، جلد 1، حصہ 3، صفحہ 480، مکتبۃ المدینہ، کراچی)
بہارِ شریعت میں ہی ہے: ’’عورت کا عورت کو دیکھنا، اس کا وہی حکم ہے جو مرد کو مرد کی طرف نظر کرنے کا ہے یعنی ناف کے نیچے سے گھٹنے تک نہیں دیکھ سکتی باقی اعضا کی طرف نظر کر سکتی ہے۔ بشرطیکہ شہوت کا اندیشہ نہ ہو۔“ (بھارِ شریعت، جلد 3، حصہ 16، صفحہ 443، مکتبۃ المدینہ، کراچی)
عورت کا اجنبی مرد وں سے بے تکلفی کے ساتھ بات چیت کرنا، جائز نہیں، چنانچہ علامہ شامی رحمۃ اللہ علیہ رد المحتار میں فرماتے ہیں: ”ولا نجيز لهنّ رفع أصواتهنّ ولا تمطيطها ولا تليینها وتقطيعها لما في ذلك من استمالة الرّجال إليهنّ وَتحريك الشَهوَات منهم ومن ھذا لم تجز ان تؤذن المراۃ“ ترجمہ: ہم عورتوں کیلئے اپنی آوازیں بلند کرنے، اسے مخصوص میلان والے لہجے میں لمبا کرنے، اس میں نرم لہجہ اختیار کرنے اور اس میں طرز بنانے کی اجازت نہیں دیتے، کیونکہ ان سب باتوں میں مردوں کو اپنی طرف مائل کرنا اور ان کی شہوات کو ابھارنا ہے، اسی وجہ سے یہ جائز نہیں کہ عورت اذان دے۔ (رد المحتار علی الدر المختار، جلد 2، صفحہ 97، دار المعرفۃ، بیروت)
مرد و عورت کا مخلوط جِم چلانا، ناجائز و گناہ ہے کہ یہ گناہ پر مدد ہے اور گناہ کے کام پر مدد کرنے کی ممانعت سے متعلق اللہ تعالیٰ قرآن مجید میں ارشاد فرماتا ہے: ﴿وَلَا تَعَاوَنُوْا عَلَی الْاِثْمِ وَالْعُدْوَانِ﴾ ترجمہ ٔ کنز العرفان: اور گناہ اور زیادتی پر باہم مدد نہ کرو۔ (پارہ 06، المائدہ: 02)
تبیین الحقائق میں ہے: ’’الإعانة على المعاصي والفجور والحث عليها من جملة الكبائر كذا الذخيرة والمحيط‘‘ ترجمہ: گناہوں اور فسق و فجور کے کاموں پر مدد کرنا اور اس پر ترغیب دلانا کبیرہ گناہوں میں سے ہے، یونہی ذخیرہ اور محیط میں ہے۔ (تبیین الحقائق، جلد 4، صفحہ 222، مطبوعہ قاھرۃ)
سیدی اعلی حضرت امام احمد رضا خان علیہ رحمۃ الرحمن فتاوی رضویہ میں ارشاد فرماتے ہیں: ’’شریعت مطہرہ کا قاعدہ ہے کہ جس بات سے حرام کو مدد پہنچے اسے بھی حرام فرما دیتی ہے۔ قال ﷲ تعالٰی :ولا تعاونوا علی الاثم والعدوان ۔اللہ تعالیٰ نے فرمایا: (لوگو!) گناہ اور زیادتی کے معاملات میں ایک دوسرے کی مدد نہ کیا کرو (ت) ۔“ (فتاوی رضویہ، جلد 23، صفحہ 461، رضا فاؤنڈیشن، لاھور)
واضح رہے کہ بذاتِ خود ورزش کرنا ممنوع نہیں ، بلکہ اچھی اور جائز نیت کے ساتھ جیسے جسمانی صحت اور قوت کے حصول کے لیے ورزش کرنا شرعاً جائز ہے، اسلام نے اس سے ممانعت نہیں فرمائی۔ اسلام انسان کو کمزور، سست اور بیمار نہیں بلکہ صحت مند، باہمت اور مضبوط دیکھنا چاہتا ہے۔ تاہم اسلام میں پسندیدہ قوت وہ ہے جو نماز، روزہ، تلاوت، اذکار، رزقِ حلال کے حصول، والدین کی خدمت، اہل و عیال کی کفالت اور دیگر نیک اعمال و عبادات میں معاون ہو۔ جبکہ مروجہ جِم کلچر اپنے اصلِ مقصد یعنی صحت و تندرستی سے ہٹ کر زیادہ ترفیشن، جسمانی نمائش، دکھاوے اور لہو و لعب کا ذریعہ بنتا جا رہا ہے، جو کہ اسلامی تعلیمات کے سراسر خلاف ہے۔ اسلام انسان کو ایک بامقصد زندگی گزارنے کی تعلیم دیتا ہے اور فضول، بے مقصد کاموں سے روکتا ہے۔ بہرحال اگر اچھے مقصد سے مرد صرف مردوں کے لیے مخصوص جگہ میں اور عورتیں صرف عورتوں کے لیے مخصوص جگہ میں شرعی و اخلاقی حدود کی مکمل رعایت کے ساتھ ورزش کریں، تو اس کی ممانعت نہیں۔ البتہ یہ لازم ہے کہ ہر شخص اپنے ہم جنس کے سامنے بھی ناف سے گھٹنے (سمیت) تک کا ستر ضرور چھپائے رکھے کہ بلا شرعی ضرورت کے اس کا کُھلا رکھنا جائز نہیں، یونہی لباس اتنا چست و تنگ نہ ہو کہ ستر عورت والے اعضاء کی ہیئت ظاہر ہو جیسا کہ اوپر تفصیل سے بیان ہوا۔
صحیح مسلم کی حدیث پاک ہے: ’’عن أبي هريرة، قال: قال رسول اللہ صلى اللہ عليه وسلم "المؤمن القوي خير وأحب إلى اللہ من المؤمن الضعيف‘‘ ترجمہ: حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے بیان کیا کہ رسولُ اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: طاقتور مؤمن، کمزور مؤمن سے بہتر اور اللہ تعالیٰ کو زیادہ محبوب ہے۔ (صحیح المسلم، جلد 4 ، صفحہ 2052، دار إحياء التراث العربي ، بيروت)
اس حدیث کی شرح میں امام ابو زکریا یحیی بن شرف نووی رحمۃ اللہ علیہ ’’المنھاج شرح صحيح مسلم‘‘ میں فرماتے ہیں: ’’والمراد بالقوة هنا عزيمة النفس والقريحة في أمور الآخرة فيكون صاحب هذا الوصف أكثر إقداما على العدو في الجهاد وأسرع خروجا إليه وذهابا في طلبه وأشد عزيمة في الأمر بالمعروف والنهي عن المنكر والصبر على الأذى في كل ذلك واحتمال المشاق في ذات الله تعالى وأرغب في الصلاة والصوم والأذكار وسائر العبادات وأنشط طلبا لها ومحافظة عليها ونحو ذلك‘‘ ترجمہ: قوت سے مراد یہاں نفس اور طبیعت کی پختگی ہے۔ اس وصف والا شخص دشمن کے مقابلے میں جہاد کے لیے زیادہ جرات مند ہوتا ہے، اس کی طرف نکلنے اور اس کی تلاش میں زیادہ تیز ہوتا ہے، اور نیکی کا حکم دینے اور برائی سے روکنے میں زیادہ مضبوط ارادہ رکھتا ہے، اور ان سب امور میں تکلیف اور اذیت پر صبر کرتا ہے، اور اللہ تعالیٰ کی راہ میں آنے والی مشقتوں کو برداشت کرتا ہے۔ اسی طرح وہ نماز، روزہ، اذکار اور دیگر عبادات کا زیادہ شوق رکھنے والا ہوتا ہے، ان کے حصول اور ان کی حفاظت میں زیادہ سرگرم ہوتا ہے۔ (المنهاج شرح صحيح المسلم، جلد 16، صفحہ 215، دار إحياء التراث العربي)
وَاللہُ اَعْلَمُ عَزَّ وَجَلَّ وَرَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم
مجیب: مفتی محمد قاسم عطاری
فتویٰ نمبر: FAM-1190
تاریخ اجراء: 20 ذو القعدۃ الحرام 1447ھ/08 مئی 2026ء