شتر مرغ اور مور کے انڈے کھانا کیسا؟
بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ
شتر مرغ اور مور کے انڈے کھانے کا حکم
دارالافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی)
سوال
کیا فرماتے ہیں علمائے دین و مفتیان شرع متین اس مسئلے کے بارے میں کہ کیا شتر مرغ اور مور کے انڈے کھا سکتے ہیں؟
جواب
قوانین شرعیہ کی رو سے حلال جاندار کا انڈا کھانا حلال ہے، بشرطیکہ خراب ہو کر خون نہ ہو گیا ہو، اور حرام جاندار کا انڈا کھانا مطلقاً حرام ہے، چونکہ شتر مرغ اور مور دونوں حلال ہیں، لہذا ان کے انڈے کھانا بلاشبہ جائز و حلال ہے۔
علامہ نور الدین ملا علی قاری رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ لکھتے ہیں: ”و كل طير لا يحل لحمه لا يحل بيضه“ ترجمہ: اور ہر وہ پرندہ جس کا گوشت حلال نہیں ہوتا، اس کا انڈا بھی حلال نہیں ہے۔ (مرقاة المفاتيح شرح مشكاة المصابيح، كتاب الصيد والذبائح، باب ما يحل أكله و ما يحرم، جلد 8، صفحہ 36، مطبوعہ کوئٹہ)
امام اہل سنت، امام احمد رضا خان رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ لکھتے ہیں: حلال جانور کا کچا پکا انڈہ سب حلال ہے، ہاں وہ کہ خون ہو جائے نجس و حرام ہے۔ (فتاوی رضویہ، جلد 21، صفحہ 667، رضا فاؤنڈیشن، لاہور)
الموسوعۃ الفقہیۃ الکویتیۃ میں ہے: ”إن خرج البيض من حيوان مأكول في حال حياته أو بعد تذكيته شرعا أو بعد موته و هو مما لا يحتاج إلى التذكية كالسمك فبيضه مأكول إجماعا إلا إذا فسد“ ترجمہ: اگر انڈا کسی حلال جاندار سے اس کے زندہ ہونے کی حالت میں یا اس کے شرعی طور پر ذبح ہونے کے بعد نکلا، یا اس کے مرنے کے بعد نکلا جبکہ وہ ان جانداروں میں سے ہو جو ذبح شرعی کے محتاج نہیں، جیسے مچھلی، تو اس کا انڈا بالاجماع ماکول (حلال) ہے، سوائے یہ کہ جب انڈہ خراب ہو گیا ہو (تو حلال نہیں)۔ (الموسوعة الفقهية الكويتية، جلد 5، صفحہ 153، دارالسلاسل، الكويت)
علامہ ملا جیون احمد بن ابو سعید صدیقی رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ (سال وفات: 1130ھ / 1718ء) لکھتے ہیں: ”و حلیۃ الابل و البط و النعامۃ باجماع الصحابۃ و التابعین“ ترجمہ: اور اونٹ، بطخ اور شترمرغ کا حلال ہونا صحابہ کرام اور تابعین عظام رضی اللہ تعالیٰ عنہم کے اجماع سے ثابت ہے۔ (التفسيرات الاحمدية، سورۃ الانعام، صفحہ 405، مطبوعہ: کراچی)
فتاوی عالمگیری میں ہے: ”و لا بأس بأكل الطاؤوس“ ترجمہ: مور کھانے میں کوئی حرج نہیں ہے۔ (الفتاوى الهندية، كتاب الذبائح، الباب الثالث في المتفرقات، جلد 5، صفحہ 358، دار الکتب العلمیۃ، بیروت)
جامع العلوم علامہ محمد عبد الحلیم انصاری فرنگی محلی رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ لکھتے ہیں: ”طاؤس: حلال ... نعامة: حلال“ یعنی مور حلال ہے، شتر مرغ حلال ہے۔ (غاية الکلام في بيان الحلال و الحرام، صفحہ 27 ملتقطاً، مطبع علوی)
وَ اللہُ اَعْلَمُ عَزَّوَجَلَّ وَ رَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَ اٰلِہٖ وَ سَلَّم
مجیب:مفتی محمد قاسم عطاری
فتویٰ نمبر: FAM-1155
تاریخ اجراء: 23 شوال المكرم 1447ھ / 12 اپریل 2026ء