logo logo
AI Search

واٹر پلانٹ کا بچا ہوا پانی استعمال کرسکتے ہیں؟

بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

واٹر پلانٹ سے بچا ہوا پانی استعمال کرنا

دار الافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی)

سوال

واٹر پلانٹ جہاں منرل واٹر بِکتا ہے، وہاں ایسا پانی بھی ہوتا ہے، جسے وہ ویسٹ کر رہے ہوتے ہیں، وہ اسے گٹر میں پھینک دیتے ہیں، جبکہ وہ ویسٹ کیا جانے والا پانی، وضو کرنے، نہانے، دھونے وغیرہ کے لیے قابل استعمال ہوتا ہے، گندا، اور ناپاک نہیں ہوتا، پس اگر ہمارے پاس اور پانی موجود نہ ہو، تو کیا اسے وضو و غسل کرنے اور کپڑے دھونے کے لیے یوز کر سکتے ہیں؟

جواب

پوچھی گئی صورت میں اگر پلانٹ والوں کی صراحتا اجازت سے پانی لیا جائے مثلا جس وقت وہ ضائع کر رہے ہوں، اس وقت ان سے کہہ دیا کہ اسے ضائع نہ کریں، ہمیں دے دیں، تو یوں لے کر استعمال کرنے میں حرج نہیں، اور اگر ان کی طرف سے صراحتا اجازت معلوم نہیں، تو تب بھی یہ پانی لینا جائز ہے، کیونکہ جب معلوم ہے کہ پلانٹ والے یہ پانی ضائع کر دیتے ہیں، تو یہ اس بات کی دلیل ہے کہ اگر کوئی اس پانی کو اپنے استعمال میں لے آئے، تو مالکان کو اس پر کوئی اعتراض نہیں ہوگا، اور وہ اسے منع نہیں کریں گے، لہذا ایسا پانی، مباح پانی ہے، جسے کوئی بھی اپنے استعمال میں لا سکتا ہے۔ اور جب یہ پاک ہے، تو اسے کپڑے وغیرہ دھونے کے لیے بھی استعمال کر سکتے ہیں، اور اگر اس کے مستعمل ہونے کا علم نہیں، تو اس سے وضو اور فرض غسل کرنا بھی درست ہے۔

مبسوط سرخسی میں ہے "ثم ما يجده نوعان: (أحدهما) ما يعلم أن مالكه لا يطلبه كقشور الرمان والنوى. (والثانی) ما يعلم أن مالكه يطلبه. فالنوع الأول له أن يأخذه وينتفع به" ترجمہ: انسان کو جو چیز کہیں پڑی ہوئے ملے، وہ دو طرح کی ہوتی ہے، ایک یہ کہ جس کے بارے میں وہ جانتا ہے کہ اس کے مالک کو اس کی طلب نہیں ہے جیسے انار کے چھلکے، گٹھلی، دوسری وہ چیز ہے کہ جس کے بارے میں معلوم ہو کہ اس کے مالک کو اس کی طلب ہوگی، پہلی قسم کا حکم یہ ہے کہ وہ چیز لے سکتے ہیں اور اس سے نفع بھی اٹھا سکتے ہیں۔ (المبسوط للسرخسی جلد 11، صفحہ 2، دارالمعرفۃ، بیروت)

امام اہلسنت امام احمد رضا خان رحمہ اللہ جد الممتار میں اخروٹ کے بارے میں فرماتے ہیں: "لو ترکہ صاحبہ تحت الأشجار علی جھۃ الاعراض بحیث علم أنہ یرضی بأخذہ ولا یزاحم آخذہ فھو ح بمنزلتہ أی بمنزلۃ النوی فی کونہ مباحا، لأن المدار علی دلیل الاباحۃ وقد وجد" ترجمہ: اگر اخروٹ کے مالک نے اعراض کی نیت سے درختوں کے نیچے اخروٹ چھوڑ دئے، اس طرح کہ معلوم ہو کہ اخروٹ کا مالک، کسی کے بھی لے لینے پر راضی ہے اور اخروٹ لینے والے سے وہ مزاحمت نہیں کرے گا تو اس صورت میں وہ اخروٹ مباح ہونے کے اعتبار سے گٹھلی کی طرح ہیں، کیونکہ دارومدار مباح ہونے کی دلیل پر ہے اور یہاں وہ دلیل پائی گئی۔ (جد الممتار، جلد 5، صفحہ 418، مکتبۃ المدینۃ، کراچی)

مزید ایک مقام پر فرمایا: "أقول: أما ان طرح مثل القشور والرمان من الأشیاء التی یرمی بھا عادۃ علی وجہ الاعراض یعلم أن صاحبھا لایطلبھا ولو رأی غیرہ یأخذھا ویتصرف فیھا لا یزاحمہ ولا ینھاہ اباحۃ فمجمع علیہ بین علمائنا، لا نعلم فیہ خلافا" ترجمہ: میں یہ کہتا ہوں کہ چھلکے اور انار جیسی چیزیں جو عادتاً اعراض کی نیت سے پھینک دی جاتی ہیں، جس کے مالک کے بارے میں معلوم ہو کہ اسے ان چیزوں کی طلب نہیں ہے، اگر مالک کسی کو لیتے ہوئے اور اس میں تصرف کرتے ہوئے دیکھے گا تو بھی منع نہیں کرے گا اور مزاحمت نہیں کرے گا تو ایسی اشیاء کا مباح ہونا ہمارے علماء میں بالاجماع ثابت ہے، اس میں ہمیں کسی کا اختلاف معلوم نہیں ہے۔ (جدالممتار، جلد 4، صفحہ 337، مکتبۃ المدینۃ، کراچی)

بہار شریعت میں ہے "بیرون شہر درختوں کے نیچے جو پھل گرے ہوں اگر اُن کی نسبت معلوم ہو کہ کھا لینے کی صراحۃً یا دلالۃً اجازت ہے جیسے اُن مواقع ميں جہاں کثرت سے پھَل پیدا ہوتے ہیں راہگیروں سے تعرض نہیں کرتے ایسے مواقع ميں کھانے کی اجازت ہے مگر درختوں سے توڑ کر کھانے کی اجازت نہیں مگر جہاں اس کی بھی اجازت ثابت ہو تو توڑ کر بھی کھا سکتا ہے۔ " (بہار شریعت، جلد 2، حصہ 10، صفحہ 483، مکتبۃ المدینۃ، کراچی)

صدر الشریعہ بدر الطریقہ حضرت علامہ مفتی محمد امجد علی اعظمی علیہ رحمۃ القوی تحریر فرماتے ہیں: "اب رہا یہ امر کہ بہشتی کا بھرا ہوا پانی مستعمل ہو گیا یا نہیں؟ اس کا جواب یہ ہے کہ مستعمل نہیں، کہ اولاً: نا معلوم پر حکم نہیں لگایا جا سکتا، یہ کہاں سے معلوم کہ اس وقت بہشتی کے ہاتھ دھلے ہوئے نہ تھے، ہنوز وہم مسائل طہارت و نجاست میں معتبر نہیں بلکہ اس معاملہ میں ظن مجرد کا بھی لحاظ نہیں... تو جب نجاست میں ایسے خیالات پر بناءِ کار نہیں تو استعمالی آب میں کہ یہ اخف ہے کیونکر ایسے اوہام معتبر ہوں گے؟ لہذا پانی اپنی اصلی حالتِ طہارت اور طہوریت پر باقی رہے گا... ثانیاً: اگر معلوم بھی ہو کہ یہ بے وضو ہے اور اس کا ہاتھ نہ دھلا ہوا نہیں، جب بھی مستعمل نہیں کہ مشک میں ڈالتے وقت پانی حالتِ جریان میں ہوتا ہے اور آبِ جاری تو نجس کی ملاقات سے بھی نجس نہیں ہوگا... تو اگر اس کا ہاتھ نہ دھلا تھا تو اب دھل گیا اور پانی چونکہ جاری ہے لہٰذا مستعمل نہ ہوا۔" (فتاوی امجدیہ، ج 01، ص 15، 16، مکتبہ رضویہ، آرام باغ روڈ، کراچی)

وَاللہُ اَعْلَمُ عَزَّ وَجَلَّ وَرَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم

مجیب: مولانا محمد نوید چشتی عطاری مدنی
فتویٰ نمبر: WAT-4983
تاریخ اجراء: 18 ذو القعدۃ الحرام 1447ھ / 06 مئی 2026ء