logo logo
AI Search

عدت وفات میں نئے کپڑے پہننا کیسا؟

بسم اللہ الرحمن الرحيم

عدت وفات کے چوتھے دن میکے والوں کا عورت کو نئے کپڑے دینا

دار الافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی)

سوال

جواب

صورتِ مسئولہ میں اگر میکے والے بیوہ عورت کو نئے کپڑے بطورِ تحفہ بھیج دیں، تو تحفہ بھیجنے اور قبول کرنے میں شرعاً کوئی حرج نہیں، کیونکہ تحفہ دینا فی نفسہٖ جائز ہے۔ البتہ! عدتِ وفات کے دوران، بلاضرورت شرعی نئے کپڑوں کو پہننا جائز نہیں، کیونکہ شوہر کی وفات کے بعد عورت پر عدت میں سوگ منانا لازم ہے، اور سوگ کا تقاضا یہ ہے کہ وہ زینت سے بچے، ا ور نئے کپڑے پہننا بھی زینت میں داخل ہے، لہذا جب تک عدت باقی ہو بلاضرورت شرعی نئے کپڑے نہیں پہن سکتی۔ البتہ! عدت کے بعد استعمال کر سکتی ہے۔

 فتاوی ہندیہ میں ہے ’’و الحداد الاجتناب عن الطیب و الدھن و الکحل و الحناء و الخضاب و لبس المطیب و المعصفر و الثوب الاحمر ۔ ۔ ۔ و لبس الحلی و التزین و الامتشاط کذا فی التتارخانیۃ، قال شمس الائمۃ المراد من الثیاب المذکورۃ ما کان جدیدا منھا تقع بہ الزینۃ، اما اذا کان خلقا لا تقع بہ الزینۃ فلا باس بہ کذا فی المحیط و انما یلزمھا الاجتناب فی حالۃ الاختیار، اما فی حالۃ الاضطرار فلا باس بھا‘‘ ترجمہ: سوگ نام ہے خوشبو، تیل، سرمہ، مہندی، خضاب لگانے، خوشبودار، معصفر اور سرخ کپڑے پہننے، نیز زیور پہننے، زینت اختیار کرنے اورکنگھی کرنے سے بچنے کا، جیسا کہ تاتارخانیہ میں ہے۔ امام شمس الائمہ نے فرمایا کہ مذکورہ کپڑوں سے مرادنئے کپڑے ہیں، جن سے زینت اختیار کی جاتی ہے، اگر پرانے ہوں، جن سے زینت اختیار نہ کی جاتی ہو ، ان کو پہننے میں کوئی حرج نہیں ۔جیسا کہ محیط میں ہے۔ ان سب چیزوں سے بچنا اختیار کی حالت میں ہے، اضطرار (مجبوری) کی حالت میں کوئی حرج نہیں۔  (فتاوی ہندیہ، کتاب الطلاق، الباب الرابع عشر، ج 1، ص 533، مطبوعہ: کوئٹہ)

امام اہل سنت، امام احمد رضا خان علیہ رحمۃ ا لرحمن فرماتے ہیں: "عدت میں عورت کو یہ چیزیں منع ہیں: ہر قسم کا گہنا یہاں تک کہ انگوٹھی چھلا بھی، مہندی، سرمہ، عطر، ریشمی کپڑا، ہار پھول، بدن یا کپڑے میں کسی قسم کی خوشبو، سر میں کنگھی کرنا، اور مجبوری ہو تو موٹے دندانوں کی کنگھی کرے جس سے فقط بال سلجھالے پٹی نہ جھکالے۔ پھلیل، میٹھا تیل، کسم، کیسر کے رنگے کپڑے، یونہی ہر رنگ جس سے زینت ہوتی ہو اگرچہ پڑیا گیرو کا، چوڑیاں اگرچہ کانچ کی، غرض ہر قسم کا سنگار ختم عدت تک منع ہے۔ چارپائی پر سونا، بچھونا سونے یا بیٹھنے میں بچھانا منع نہیں۔" (فتاوی رضویہ، جلد 13، صفحہ 331، رضا فاؤنڈیشن، لاہور)

تحفہ دینا فی نفسہٖ جائز ہے، جیسا کہ امام بخاری علیہ الرحمہ نے "الادب المفرد" میں تحفہ کی فضیلت پر حدیث پاک ذکر کی ہے "عن أبي هريرة، عن النبي صلى اللہ عليه و سلم يقول: تهادوا تحابوا" ترجمہ: حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالی عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ تعالی علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا: باہم تحفہ دو، اس سے آپس میں محبت ہوگی۔(الادب المفرد، ص 208، رقم الحدیث 594،مطبوعہ:قاہرہ)

وَ اللہُ اَعْلَمُ عَزَّ وَ جَلَّ وَ رَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَ اٰلِہٖ وَ سَلَّم

مجیب: مفتی محمد سجاد عطاری مدنی 
فتوی نمبر: WAT-5298
تاریخ اجراء: 29 صفر المظفر 1448ھ / 13 اگست 2026ء