logo logo
AI Search

مسلم کمپنی کا پیک گوشت استعمال کرنا کیسا؟

پیش لفظ

مسلمان کمپنی کے پیکٹ والے گوشت کے مسئلہ پر مجلس تحقیقات شرعیہ کے مختلف اراکین نے مقالہ جات لکھے، اور تنقیح طلب سوالات کا تسلسل بھی جاری رہا، اس کی تفصیل درج ذیل ہے:

18 جون 2025 کو مفتی  ساجد صاحب نے امریکہ سے موصول ہونے والے سوال کے جواب میں  پیکٹ والے گوشت کی خریداری کے جواز پر فتوی لکھا۔

پھر 23 جون 2025 کو اس فتوی میں موجود بعض تنقیح طلب موضوعات کی تفصیل پر الگ سے دو مقالہ جات لکھے، ان دونوں کے موضوعات درج ذیل تھے:

’’علامت معہودہ معروفہ سے شی کا ثبوت‘‘

’’کافر کی خبرِ معاملہ کا مفہوم اور دائرہ کار‘‘

27 جون 2025 کو مفتی سرفراز صاحب نے بھی اس مسئلہ سے متعلق مقالہ لکھا جس کا موضوع تھا ’’مطلق کافر کی خبر ِمعاملہ کا مقبول ہونا‘‘

اس  ابتدائی کام کے بعد 25 اگست 2025 کو تحقیقاتِ شرعیہ کا آن لائن ایک مشورہ ہوا، اس مشورے سے پہلے تمام اراکین کو اس مسئلے سے متعلق 9 تحقیقی سوالات بھیجے گئے، ان تحقیقی سوالات کے جوابات پر مشتمل مقالہ جات درج ذیل اراکین نے بھیجے:

مفتی قاسم صاحب، مفتی فضیل صاحب، مفتی علی اصغر صاحب، مفتی نوید صاحب، مفتی حسان صاحب، مفتی ساجد صاحب، مفتی عرفان صاحب، مفتی سرفراز صاحب، مولانا جمیل صاحب، مولانا ماجد صاحب، مولانا کفیل صاحب، مولانا انس صاحب۔

یہ مقالہ جات وصول ہونے کے بعد مفتی فضیل صاحب، مفتی نوید صاحب اور مفتی عرفان صاحب نے بعض مقالہ جات پر اشکالات اور جوابات پر مشتمل مقالہ جات بھی بھیجے۔

گوشت والے مسئلہ پر دوسرا مشورہ  13 سے 15 جنوری تک ہوا جس میں دیگر مسائل کے ساتھ ساتھ گوشت سے متعلق زیرِ بحث مسئلہ پر حتمی گفتگو ہوئی۔

اس مشورہ کی روداد مولانا سید مسعود علی صاحب نے تفصیلی طور پر قلم بند فرمائی ہے۔ جب کہ فیصلہ اور اس سے متعلق امور قلم بند کرنے کی ذمہ داری مفتی محمد ساجد صاحب نے انجام دی جنہوں نے تحقیقات شرعیہ کے منتظم اعلی مفتی علی اصغر صاحب کی مشاورت سے اس فیصلہ اور اس کے متعلقات کو تفصیل سے قلم بند کیا ہے۔

مولانا فرحان احمد مدنی کوآرڈینیٹر تحقیقات شرعیہ

22 شوال المکرم 1447، 11 اپریل 2026

کمپنی کا پیک شدہ گوشت خریدنے اور استعمال کرنے کا مسئلہ

مجلس تحقیقات ِشرعیہ کا فیصلہ اور اس کی تمہید و تشریح

تمہید:

ایک مسلمان کے لئے حلال جانور کا گوشت بھی اسی وقت حلال ہوتا ہے جب اسے شریعت کے بتائے ہوئے طریقے کے مطابق ذبح کر لیا گیا ہو۔ ورنہ وہ مردار اور حرام ہے۔ جب ذبح آنکھوں کے سامنے نہ ہوا ہو تو گوشت کے حلال ہونے کے لئے  اس بات کا معتبر شرعی ثبوت ہونا چاہیے کہ یہ واقعی شرعی طریقے سے ذبح شدہ حلال جانور کا گوشت ہے۔ تبھی اس کو کھانے کی اجازت ہو گی ورنہ نہیں۔

مسلمانوں کے ایسے بازار جہاں مسلمان خود ہی جانور ذبح کر کے گوشت بیچتے ہوں وہاں بیچنے والے مسلمان کی حالت ہی کافی ثبوت ہوتا ہے کہ یہ شرعی طریقے سے ذبح شدہ اور حلال ہے۔ لہٰذا حرام کی ملاوٹ کا کوئی واضح قرینہ نہ ہو تو بلا کسی تفتیش کے اس مسلمان سے گوشت خرید کر استعمال کرنا جائز ہوتا ہے۔ ([1])

دیارِ غیر میں حلال گوشت کے تعلق سے مشکلات:

لیکن آج کئی صورتیں ایسی سامنے آتی ہیں کہ جہاں گوشت کے متعلق یہ شبہات پیدا ہو جاتے ہیں کہ آیا یہ واقعی شرعی طریقے سے ذبح شدہ بھی ہے یا نہیں ؟ جس کے مختلف اسباب ہیں مثلا

آج بہت جگہوں پر بالخصوص غیر مسلم ممالک میں مشین سے ذبح کا عمل بھی رائج ہو چکا ہے۔ حالانکہ تحقیق یہ ہے کہ اس طریقے سے ذبح شدہ جانور کا گوشت حلال نہیں۔ پھر یہ کہ ترقی یافتہ شہروں اور ملکوں میں ذبح کے لئے مخصوص مقام متعین ہوتا ہے۔ (جسے مذبح / Slaughter house  کہا جاتا ہے۔) جانور وہیں ذبح ہوتے ہیں، گوشت کی کٹائی اور صفائی وغیرہ کے بعد وہاں سے پورے شہر میں بلکہ دوسرے شہروں اور ملکوں میں گوشت بھیجا جاتا ہے۔ مذبح میں ذبح کرنے والا شخص مسلمان ہے یا غیر مسلم، ذبح مشین سے ہو رہا ہے یا ہاتھ سے؟ اس کی معلومات نہ ہونا شبہہ پیدا کرتا ہے۔ بلکہ اگر ایک ہی مذبح میں حلال کے ساتھ حرام جانور (خنزیر وغیرہ) کا  گوشت بھی بنایا جاتا ہے تو پھر حرام کی ملاوٹ (Mixing/Contamination) کا قوی شبہہ بھی رہتا ہے۔ یونہی مذبح سے گوشت بیچنے والے شخص کی دوکان / اسٹور تک گوشت کی ترسیل (Delivery/Supply) کا عمل مسلمان کی نگرانی میں نہ ہونا بھی شبہ پیدا ہونے کا سبب بنتا ہے۔

اس پسِ منظر میں امریکہ سے مولانا کاشف مدنی صاحب نے حلال گوشت بیچنے والی ایک کمپنی کے بارے میں سوال بھیجا کہ یہاں ایک عربی مسلمان کی بڑی اور مشہور حلال گوشت بیچنے والی کمپنی ہے۔ اس کمپنی کے سلاٹر ہاؤس میں شرعی طریقے پر مسلمان ہاتھ سے مرغیاں ذبح کرتا ہے۔ پھر آگے صفائی،  کٹنگ (Cutting) اور پیکنگ (Packing)  وغیرہ کا پروسِس مشین سے کیا جاتا ہے جو کہ ہاتھ کے کام کے مقابلے میں اچھا و معیاری ہوتا ہے۔ اس کمپنی کا گوشت مشہور اور بڑے اسٹورز جیسے والمارٹ (Walmart)، ریسٹورنٹ ڈیپو(Restaurant Depot) ، کاسکو (Costco)، ایچ ای بی (H-E-B)  وغیرہ پر بھی دستیاب ہوتا ہے۔ ہم نے کمپنی کے سلاٹر ہاؤس کا وزٹ کر کے یہ مکمل طریقہ کار خود وہاں جا کر دیکھا ہے۔ اس کمپنی کا نظام چلانے والے مسلمان فرد سے جب ہم نے مختلف سوالات کئے تو انہوں نے ہمیں بتایا کہ

  • ہمارے سلاٹر ہاؤس سے جو بھی گوشت نکلے گا وہ صرف ہینڈ کٹ (Hand-Cut) حلال ہی ہوگا۔ (یعنی نہ تو غیر مسلم کبھی ذبح کا کام کرتا ہے اور نہ کبھی یہاں مشینی ذبیحہ ہوتا ہے۔)
  • جب ہمارا سامان پیک (Pack) ہو جاتا ہے تو یہاں سے لے کر کسٹمر تک پہنچنے میں ٹریک ہوتا ہے۔ ہر کنٹینر (Container) ٹریک ہوتا ہے۔ پھر اس میں موجود ہر پیلٹ (Pallet)  کا ٹریکنگ نمبر ہوتا ہے۔ پھر پیلٹ میں موجود ہر بکس (Box) پر ٹریکنگ نمبر ہوتا ہے۔ پھر بکس میں موجود ہر پیکٹ پر ٹریکنگ نمبر ہوتا ہے۔ مثلا کنٹینر سلاٹر ہاؤس سے نکلا نیویارک میں پانچ پیلٹ اتارے تو ہمارے سسٹم میں اپ ڈیٹ ہو جاتا ہے کب کنٹینر روانہ ہوا کب نیویارک میں کتنے پیلٹ اتارے کب شکاگو میں کتنے پیلٹ اتارے پھر شکاگو میں کس اسٹور کو کتنے بکس ڈلیور ہوئے اس بکس میں کتنے بکس اسٹور کے گودام (Warehouse) میں موجود ہیں اور کتنے شیلف (Shelf) پر آگئے اور کتنے سیل ہو گئے تاکہ بروقت سپلائی جاری رکھ سکیں۔

کمپنی کی اس معلومات کے علاوہ یہ بھی واضح رہے کہ ہمارے ملک میں اگر کسی اسٹور سے کسی مخصوص کمپنی کی پروڈکٹ خریدی جائے تو یہاں یہ بات ظن ِغالب تک طے ہوتی ہے کہ یہ اسی کمپنی کی پروڈکٹ ہے۔ کیونکہ دو نمبر پروڈکٹ (Duplicate Product) یا پروڈکٹ کی کاپی بکنا تقریباً ناممکن ہے۔ فیک (Fake) چیز کو اوریجنل برانڈ (Original Brand) کے نام سے بنا کر بیچنا بہت بڑا جرم ہے، یہاں کوئی اس کا تصور بھی نہیں کرتا۔ ایک غلطی پورے اسٹور کو برباد کر دیتی ہے لہٰذا وہ کبھی جان بوجھ کر ایسی غلطی نہیں کرتے جو ان کے لیے قانونی مسائل کی وجہ بنے۔ اس لئے جب ہم کسی کمپنی کی پروڈکٹ خریدتے ہیں تو ہمیں مکمل اطمینان ہوتا ہے کہ یہ اسی کمپنی کی پروڈکٹ ہے۔ اس کے علاوہ کمپنی کی پروڈکٹ کی پیکنگ پر مخصوص قسم کے بار کوڈ  (Bar Code) اور لوگو (Logo)  وغیرہ بھی ہوتے ہیں جن سے پتا لگ جاتا ہے یہ کیا پروڈکٹ ہے اور کس کمپنی کی ہے وغیرہ۔ اس سے بھی اطمینان بڑھ جاتا ہے۔ نیز اگر ہم اسٹور پر کام کرنے والے افراد سے بھی پروڈکٹ کی تفصیل پوچھیں تو حلال و حرام سے قطع نظر وہ ورکرز اس بات کو واضح کرتے ہیں یہ واقعی فلاں کمپنی کی پروڈکٹ ہے۔

ہاں! اگر کمپنی کی مخصوص پیکنگ کے علاوہ کھلا گوشت ملے یا کسی نے کمپنی سے لے کر اپنی پرائیویٹ پیکنگ میں گوشت بیچا ہے تو اس وقت بیچنے والا اگر دعوی کرے کہ یہ فلاں کمپنی کا ہے تو اس میں جھوٹ یا دھوکہ وغیرہ کا عنصر شامل ہو سکتا ہے۔ اس وقت ہم سو فیصد یقین سے نہیں کہہ سکتے کہ یہ واقعی فلاں کمپنی کا ہے۔ لیکن اتنی بات یہاں بھی طے ہے کہ جب یہ شخص اپنی پیکنگ میں بیچے گا تو اس پیکنگ پر نہ تو وہ اصل کمپنی کی اسٹیمپ، لوگو وغیرہ لگا کر آسانی سے دو نمبری کر سکتا ہے اور نہ وہ اصل کمپنی کی طرح کی پیکنگ کھلے عام کر سکتا ہے۔ اس کی کئی وجوہات ہوتی ہیں اولاً کمپنی خود یہ نہیں چاہے گی کہ اس کی جگہ اس کے نام پر کسی اور کا مال سپلائی ہو لہٰذا اس کی طرف سے بھی گہری نظر ہوتی ہے دوسری بات یہ کہ بار کوڈ کے ذریعے کسٹمر خود براہ راست کمپنی سے کنفرمیشن کر سکتا ہے۔ تیسری جہت یہ ہے کہ سخت قانونی کاروائی کی بنیاد پر دکان دار بھی عام طور سے ایسی جعل سازی نہیں کرے گا۔

اس ساری تفصیل کے بعد اب سوال یہ ہے کہ اس مذکورہ کمپنی کے گوشت کے اوریجنل پیکٹ بڑے اسٹورز سے خریدنا اور استعمال کرنا جائز رہے گا یا نہیں؟ جبکہ عموما یہ بڑے اسٹورز غیر مسلم لوگوں کے ہوتے ہیں۔ (سائل کی وضاحت ختم ہوئی۔)

فقہی پیچیدگیاں:

بیان کردہ صورت حال میں کئی فقہی سوالات قائم ہو رہے تھے جن کی قدرے تفصیل یہ ہے کہ غیر مسلم کے سپر اسٹور پر رکھا یہ گوشت ذبح سے لے کر استعمال تک مسلمانوں کی نظر میں نہیں رہا اور نہ ہی اس کے ذبیحہِ مسلم ہونے پر کسی مسلمان کی گواہی موجود ہے۔ کافر(غیر کتابی) اگر حلال ہونے کی گواہی دے تو شرعی طور پر وہ معتبر نہیں ہوتی۔ تو سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ

  1. کس دلیل سے اس بات کا شرعی ثبوت حاصل ہوگا کہ یہ پیک شدہ گوشت واقعی اس حلال بیچنے والی کمپنی کا ہی ہے اور یہ ذبیحہ ِمسلم ہے ؟
  2. دکان پر موجود کافر غیر کتابی اگر یہ بتائے کہ ”یہ فلاں کمپنی کا گوشت ہے۔“ تو اس خبر کو حلت کی خبر قرار دیں گے یا یہ خبر ِمعاملہ ہے ؟ اور اس پر اعتماد کر کے مسلمان خریدار گوشت خرید کر استعمال کر سکتا ہے یا نہیں؟
  3. گوشت بیچنے والے دوکان دار کی خبر شرعی ثبوت کا درجہ رکھے گی یا نہیں ؟ خصوصا جبکہ وہ کافر غیر کتابی ہو ؟
  4. خبر کے علاوہ کمپنی کی مخصوص پیکنگ و علاماتِ معہودہ وغیرہ بھی کیا شرعی ثبوت کا درجہ رکھیں گی؟
  5. خبر یا علامات وغیرہ اگر شرعی ثبوت ہیں تو کیا نظرِ مسلم سے اوجھل ہونے کا پہلو یہاں ممانعت پیدا کرے گا یا نہیں؟

سوال کے جواب اور نتیجہ تک پہنچنے کے مراحل کی کچھ تفصیل:

سائل کی طرف سے آنے والے سوال کے جواب کے طور پر راقم الحروف نے اولاً ایک فتوی مرتب کیا۔ جس پر مجلس ِتحقیقات شرعیہ کے اراکین کی جانب سے آراء موصول ہوئیں اور تنقیح طلب سوالات قائم ہوئے۔ ان میں سے کچھ سوالات وہ ہیں جن کا اوپر ذکر ہوا اور کچھ اس کے علاوہ موضوع سے متعلقہ دیگر پہلوؤں اور فقہی عبارات، بالخصوص فتاوی رضویہ کی عبارات اور نظر ِمسلم سے اوجھل ہونے والے مسئلے سے متعلق تھے۔ بہر حال پھر ان سوالات کے حل کے لئے مجلسِ تحقیقاتِ شرعیہ کے اراکین نے تفصیلی مقالہ جات لکھے۔ مقالہ جات میں سامنے آنے والے جوابات اور مختلف آراء کو سامنے رکھتے ہوئے مختلف اوقات میں دو بار مجلسِ تحقیقاتِ شرعیہ کے اراکین کا مشورہ ہوا جس میں تمام تنقیح طلب امور اور مسئلے سے متعلق تمام ضمنی پہلوؤں پر بشمول نظرِ مسلم سے اوجھل ہونے والے پہلو پر سیر حاصل بحث ہوئی۔ ان مشوروں میں دیگر بہت سی ابحاث کے علاوہ  بالخصوص درج ذیل دو بنیادی  تنقیح طلب امور زیرِ بحث رہے:

  1. گوشت بیچنے والے دوکان دار کی یہ خبر کہ ’’پیک شدہ گوشت فلاں کمپنی کی پروڈکٹ ہے۔‘‘ یہ خبر ِمعاملہ ہے یا خبر ِدیانت ہے؟ اور اس پر اعتماد کر کے مسلمان خریدار گوشت خرید کر استعمال کر سکتا ہے یا نہیں؟
  2. اور اگر مسلمان خریدار کو کمپنی کی مخصوص پیکنگ و علامات دیکھ کر یہ اطمینان حاصل ہو جائے کہ یہ واقعی فلاں کمپنی کی پروڈکٹ ہے تو کیا اس بات پر اعتماد کر کے مسلمان وہ گوشت خرید کر استعمال کر سکتا ہے یا نہیں؟

 مجلسِ تحقیقاتِ شرعیہ کا دوسرا مشورہ منعقدہ 13 تا 15 جنوری (2026) میں اکثریتی رائے کے مطابق مذکورہ بالا تنقیح طلب امور کے متعلق جو فیصلہ ہوا، وہ درج ذیل ہے:

مجلس تحقیقات شرعیہ کا فیصلہ

ہمارے سامنے جو صورت پیش ہوئی کہ جس کے مطابق  سلاٹر ہاؤس میں شرعی طریقے پر مسلمان ہاتھ سے جانور ذبح کرتا ہے پھر آگے صفائی، کٹنگ (Cutting) اور پیکنگ (Packing) وغیرہ کا پروسِس مشین سے ہو کر گوشت مقامی ٹرانسپورٹ کے ذریعے مختلف سپر اسٹورز میں پہنچتا ہے۔ کمپنی مقامی طور پر رجسٹرڈہے اور شرعی اور قانونی تقاضے پورے کرتے ہوئے جعل سازی نہیں کرتی۔ اس بات پر اہلِ علاقہ کا اطمینان ہے اور اہل ِعلم بھی وہاں کا وزٹ کر کے اس طریقہ کار سے مطمئن ہیں۔ اس خاص صورت میں فقہی جزئیات میں غور و فکر اور کافی بحث و تمحیص کے بعد درج ذیل امور طے پائے:

  1. مجلس تحقیقات شرعیہ کے اکثر اراکین([2]) کی رائے کے مطابق یہ فیصلہ ہوا کہ پیک شدہ گوشت بیچتے وقت غیر کتابی کافر بائع (بیچنے والا) خبر دے کہ: ’’یہ پیک شدہ گوشت فلاں کمپنی کی پروڈکٹ ہے۔‘‘ تو یہ خبر، خبر ِمعاملہ ہے۔ اگر قرائن کی رو سے کافر کے اس قول میں شک پیدا نہ ہو، ظنِ غالب اس کے صدق (سچا ہونے)ہی کا ہو، تو اس خبرِ معاملہ کے ضمن میں حلت کا شرعی ثبوت ہو سکتا ہے۔

لہذا یہ خبر اگر کسی ایسی کمپنی کے پیک شدہ گوشت کے متعلق ہے جس کے بارے میں اطمینان بخش حد تک تحقیق ہو چکی ہو کہ وہ ہاتھ سے ذبح شدہ حلال جانور کا گوشت پیک کر کے اپنی مخصوص پیکنگ میں بیچتی ہے تو مذکورہ خبر کی بنیاد پر مسلمان کے لئے اس پیک شدہ گوشت کا خریدنا اور کھانا جائز ہے۔([3])

  1. مجلس ِتحقیقاتِ شرعیہ کے اکثر اراکین کی رائے کے مطابق یہ فیصلہ ہوا کہ کمپنی کی ایسی مخصوص پیکنگ اور علامات ِمعہودہ و قرائن (جن کا عادتاً خلاف نہیں پایا جاتا ان) سے اس بات کا ظن ِغالب حاصل ہو سکتا ہے کہ یہ فلاں کمپنی کی پروڈکٹ ہے۔

لہٰذا اگر مخصوص پیکنگ اور علامات ِمعہودہ و قرائن وغیرہ دیکھ کر مسلمان کو یہ ظن ِغالب اور قلبی اطمینان حاصل ہو جاتا ہے کہ یہ واقعی فلاں کمپنی کا پیک شدہ گوشت ہے جو شرعی اصول کے مطابق ہاتھ سے ذبح شدہ حلال جانور کا گوشت پیک کر کے بیچتی ہے تو مسلمان کا اس اطمینان کے بعد یہ پیک شدہ گوشت خریدنا اور استعمال کرنا جائز ہے۔

فیصلے سے متفق ہونے والے اراکین:

  1. مفتی قاسم صاحب (رکن فیصل بورڈ)
  2. مفتی علی اصغر صاحب (رکن فیصل بورڈ)
  3. مفتی سجاد صاحب
  4. مفتی نوید صاحب
  5. مفتی حسان صاحب
  6. مفتی ساجد صاحب
  7. مفتی سرفراز صاحب
  8. مولانا انس صاحب
  9. مولانا جمیل صاحب
  10. مولانا کفیل رضا صاحب ([4])
  11. مولانا ماجد صاحب
  12. مولانا نوید چشتی صاحب

وہ اراکین جو فیصلے سے متفق نہیں:

  1. مفتی فضیل صاحب (رکن فیصل بورڈ)
  2. مفتی ہاشم صاحب (رکن فیصل بورڈ)
  3. مفتی عرفان صاحب

فیصلے کی وضاحت اور کچھ ضروری نکات

مسلمان کی خبر ِمعاملہ کا حکم

  1. فیصلے کے مطابق کافر کی یہ خبر کہ یہ ’’پیک شدہ گوشت فلاں کمپنی کی پروڈکٹ ہے۔‘‘ خبرِ معاملہ ہے جس کے ضمن میں پائی جانے والی حلت کی خبر بھی معتبر ہوگی۔ ایسی خبر اگر کوئی مسلمان دے تو ظاہر ہے بدرجہ اَولی اس پر اعتبار کیا جا سکتا ہے۔ ہاں اگر وہ ثقہ مسلمان نہیں ہے تو پھر یہ ضروری ہے کہ دل میں اس کا صدق (سچا ہونا) جمے۔([5])

علاماتِ معروفہ کہاں ظن ِغالب کا فائدہ دیتی ہیں؟

  1. فیصلے کے مطابق کمپنی کی مخصوص پیکنگ، لوگو اور علاماتِ معروفہ دیکھ کراس بات کا ظنِ غالب حاصل ہو جاتا ہے کہ یہ فلاں کمپنی کی ہی پروڈکٹ ہے۔([6]) لیکن یہ وہاں ہے جہاں دھوکہ، جعل سازی اور جعلی پروڈکٹ کو اصلی برانڈ کے نام اور پیکنگ کے ساتھ بیچنا  نہ پایا جاتا ہو۔ کیونکہ ایسی جگہ ہی یہ باتیں علاماتِ غالبہ قرار پائیں گی اور ظنِ غالب کا فائدہ دیں گی۔ (ہاں نادر طور پر اس کے خلاف کوئی واقعہ پیش آ جانا ظنِ غالب کو ختم نہیں کرتا) لیکن جہاں ایسا نادر نہ ہو بلکہ وہاں جعلی پروڈکٹ بھی اصلی برانڈ کے نام و پیکنگ سے بیچنا عام ہے تو وہاں مخصوص پیکنگ وغیرہ علامات، ظنِ غالب کا فائدہ نہ دیں گی۔

علامات یا خبرِ معاملہ کے ضمن میں کس کمپنی کے گوشت کا حلال ہونا ثابت ہوگا ؟

  1. مذکورہ بالا فیصلہ اس کمپنی کے تناظر میں ہے جس کے متعلق اطمینان بخش حد تک یہ تحقیق ہو چکی ہو کہ وہ ذبح کے تمام شرعی اصولوں کا التزام کرتی ہے اور فقط مسلمان کے ہاتھ سے ذبح ہونے والے جانور کو ہی حلال کہہ کر بیچتی ہے۔ اس فیصلے کے متعلق یہ نکتہ سمجھنا بہت ضروری ہے کیونکہ خبر یا علامت و پیکنگ وغیرہ سے فقط اس بات کا ہی ثبوت ہوگا کہ یہ پیک شدہ پروڈکٹ فلاں کمپنی کی ہے۔ اتنی بات سے پیکٹ میں موجود گوشت کا حلال ہونا ثابت نہیں ہو سکتا۔ گوشت کی حلت اسی وقت ثابت ہوگی جب پیک کرنے والی کمپنی کا ذبح کا طریقہ بھی شرعی اصولوں کے عین مطابق ہو۔ اور اس حوالے سے کمپنی کا قابل اعتماد (Reliable) ہونا بھی ہمیں معتبر ذرائع سے معلوم ہو۔

کمپنی کا ذبح کے حوالے سے قابل اعتماد ہونا کیسے معلوم ہو؟

  1. کمپنی شریعت کے اصولوں کے مطابق ذبح کا انتظام کرتی ہے اور کمپنی قابلِ اعتماد ہے، اس حوالے سے کمپنی کے فقط اپنے بیان پر اعتماد نہیں کرنا چاہیے بلکہ اس کی تحقیق ہونی چاہیے۔ جس کا ایک طریقہ یہ ہو سکتا ہے کہ اس علاقے کے قابل علماء اور متعلقہ دینی ضروری معلومات رکھنے والے معتبر مسلمان افراد کا وفد کمپنی چلانے والے افراد سے میٹنگ کر کے ان کے طریقہ کار کی معلومات لے۔ پھر ا ن کے مذبح (Slaughter house) کا وزٹ کر کے جانور کے ذبح سے لے کر گوشت پیک ہونے تک کے سارے نظام کا مشاہدہ کرے۔ اس کے بعد اگر وہ سارے طریقہ کار اور کمپنی کے ذمہ دار افراد سے  مطمئن ہوں تو پھر دیگر لوگوں تک اس کمپنی کے اطمینان بخش ہونے کی خبر مشتہر کریں۔ اور ضرورت ہو تو سال میں متعدد بار اس طرح کے وزٹ کا انتظام کریں بلکہ سرپرائز وزٹ (Surprise visit) کا بھی اہتمام کریں یعنی بغیر پیشگی اطلاع کے مذبح کا وزٹ کریں۔ الغرض اطمینان بخش حد تک معلومات حاصل کرنے کے لئے جہاں جس درجے کی تحقیق کی حاجت ہو وہاں اس درجے کی تحقیق کا انتظام کرنا مسلمانوں کی ذمہ داری ہے۔

حلال سرٹیفکیٹ کس ادارے کا معتبر ہے ؟ اور حلال سرٹیفکیٹ کی شرعی حیثیت

  1. حلال سرٹیفکیٹ دینے والا ادارہ بھی اگر با اعتماد علماء اور دینی ذہن رکھنے والے باعتماد مسلمانوں پر مشتمل ہے اور وہ مشین سے ذبح ہونے والے جانور کو حلال کا سرٹیفکیٹ نہیں دیتا تو ایسے ادارے کے لوگ بھی جب کمپنی کا وزٹ کر کے کمپنی کو باعتماد قرار دیں تو ان کی بات پر بھی عمل کیا جا سکتا ہے۔ جبکہ یہ بات بھی ثابت ہو کہ واقعی انہوں نے اس کمپنی کے طریقہ کار کا مشاہدہ کرنے کے بعد سرٹیفکیٹ دیا ہے۔ کیونکہ بعض اوقات جعل سازی سے کام لیا جاتا ہے اور کسی ادارے کی مہر (Stamp) اس کی اجازت و تصدیق کے بغیر استعمال کر لی جاتی ہے۔ لہذا ادارے نے کمپنی کو سرٹیفکیٹ جاری کیا ہے، اس کی تصدیق کر لینی چاہیے۔ اور اس کے لئے حلال سرٹیفکیٹ دینے والے ادارے سے براہ راست رابطہ کرنا چاہیے۔

یہاں یہ واضح رہے کہ ہر حلال سرٹیفکیٹ دینے والا ادارہ ایسا قابلِ اعتبار نہیں ہوتا۔ کیونکہ  فیس لے کر سرٹیفکیٹ دینے والے بعض ادارے شرعی اصولوں کی پرواہ کئے بغیر فیس لے کر حلال کا سرٹیفکیٹ دے دیتے ہیں۔ اور بعض ادارے مشین سے ذبح ہونے والے جانور کو بھی حلال کا سرٹیفکیٹ دیتے ہیں۔ ایسے اداروں کا سرٹیفکیٹ ثابت بھی ہو تو وہ قابلِ اعتبار نہیں۔

پیکٹ پر ”حلال“ لکھا ہونا کیا حلال ہونے کی تصدیق ہے ؟

  1. پیکنگ کے اوپر حلال لکھا ہونا، گوشت کے حلال ہونے کے لئےمعتبر ثبوت نہیں ہے۔ کیونکہ بعض اوقات تو گوشت بیچنے والی کمپنی خود سے حلال لکھ دیتی ہے۔ یہ خود ساختہ دعوی (Self-claim) ہوتا ہے۔ یہ کسی تھرڈ پارٹی ادارے کی طرف سے حلال ہونے کی تصدیق یا شہادت نہیں ہوتی۔

مسلمان کی نظر سے اوجھل ہونا کب حرمت لاتا ہے ؟

  1. مذکورہ فیصلے کے تناظر میں یہ بات بھی واضح رہے کہ خبرِ معتبر اور علاماتِ معروفہ سے جب یہ بات ثابت مان لی گئی کہ یہ فلاں حلال گوشت بیچنے والی کمپنی کا پیکٹ ہی ہے (اور جداگانہ تحقیق سے یہ بھی ثابت ہے کہ وہ کمپنی حلال گوشت ہی بیچتی ہے۔) تو اب مسلمانوں کی نظر سے اوجھل ہونے کی وجہ سے گوشت کی ممانعت والا پہلو یہاں نہیں آئے گا۔ کیونکہ یہ وہاں ہوتا ہے جہاں ذبیحہ ِمسلم ہونے کی دلیلِ صحیح شرعی موجود نہیں ہوتی اور مدار کافر کی خبرِ دیانت پر رہتا ہے۔ لیکن یہاں ذبیحہ مسلم کا تعین دلیلِ صحیح، معتبر عند الشرع سے ہوا ہے، نہ کہ محض کافر کی خبرِ دیانت سے۔([7])

کن کمپنیوں کا پیک شدہ گوشت خریدا جا سکتا ہے ؟

  1. اس تعلق سے ضروری ہے کہ ایسی کمپنیوں کا انتخاب کیا جائے جن میں درج ذیل صفات پائی جائیں:
  • اس کمپنی کا مالک مسلمان ہو۔
  • وہ کمپنی فقط حلال جانور کا گوشت بیچتی ہو، حرام جانور کا گوشت بالکل نہ بیچتی ہو۔
  • وہ کمپنی فقط مسلمان کے ہاتھ کا ذبیحہ حلال سمجھتی ہو، اور ان کے مذبح میں مشین سے ذبح کا انتظام ہی نہ ہو۔
  • وہاں ذبح کرنے والا مسلمان اللہ عزوجل کا نام لے کر ذبح کرتا ہو۔
  • جانور کے ذبح سے پیکنگ تک کا کام کرنے والا سارا عملہ مسلمان ہو۔
  • کمپنی کی پیکنگ، لوگو اور مہر وغیرہ جدید نظام سے ہم آہنگ ہو جس کی باقاعدہ ٹریکنگ و ٹریسنگ ممکن ہو۔ اس کمپنی کا سپلائی چین کا نظام مضبوط ہو۔ اور اس کمپنی کی پیکنگ یا نام سے یا ملتی جلتی جعلی پروڈکٹ مارکیٹ میں نہ ہو۔
  • کسی آزاد اور پہلے بیان کی گئی تفصیل کے مطابق قابل اعتماد حلال سرٹیفکیٹ دینے والے ادارے یا وہاں کے مقامی علماء و دین دار لوگوں کے وفد نے اس کمپنی کے ذبح کا طریقہ مشاہدہ کر کے درست قرار دیا ہو۔ مسلمانوں کی لوکل سوسائٹی اور علماء کے نمائندہ وفد کی طرف سے وقتا فوقتا وزٹ بھی ہوتا رہے۔

مرتب: مفتی محمد ساجد عطاری

25 جنوری 2026

([1]) مبسوط سرخسی میں ہے: ” من اشترى لحما في سوق المسلمين يباح له التناول بناء على الظاهر، وإن كان يتوهم أنه ذبيحة مجوسي. “  (المبسوط للسرخسی (11/ 238، دار المعرفہ، بیروت)

[2] وہ اکثر اراکین جو فیصلے سے متفق ہیں اور وہ جو متفق نہیں ہیں ان کی تفصیل فیصلے کے آخر میں مذکور ہے۔

[3] واضح رہے کہ کافر کا یہ خبر دینا کہ "یہ حلال گوشت ہے۔" یہ خبرِ دیانت ہے۔ اور شرعی اصولوں کے مطابق حلال و حرام سے متعلق کافر کی ایسی خبر کا کوئی اعتبار نہیں اگرچہ اس کی بات سچی ہی معلوم ہوتی ہو ۔ 

[4] مولانا کفیل صاحب کے موقف   میں کچھ تفصیل یوں ہے: علامات سے  مجرد  ظن  حاصل ہوتا ہے۔ لہذا   اس طور پر گوشت کی حلت کا حکم نہیں دیا جا سکتا۔البتہ مخصوص پیکنگ والی علامات دراصل دوکاندار کی جانب سے تحریری طور پر خبر ہے کہ یہ گوشت فلاں کمپنی کا ہے اور یہ خبر معاملہ ہے  ۔ اس خبرِ معاملہ پر اعتماد کرتے ہوئے ضمنا خبر دیانت کا ثبوت  ہوگا اور گوشت حلال قرار دیا جائے گا ۔

([5]) حلال و حرام اور دیانات کے باب میں ثقہ  مسلمان  کی خبر معتبر ہے مسلمان  ثقہ نہ ہو تو اس کی خبر پر دل جمتا ہو تو وہ بھی معتبر ہے ۔ کافر کی خبر اصلا معتبر نہیں ۔معاملات میں سے کسی معاملے کی خبر کافر غیر کتابی نے دی تو یہ خبر معتبر ہے۔   اور اس خبرِ معاملہ  کے ضمن میں حلت کا ثبوت ہوگیا تو  اسے بھی مان لیا جائے گا جبکہ  قرائن کی رو سے کافر کے اس قول میں شک پیدا نہ ہو، ظن غالب اس کے صدق ہی کا ہو۔     فتاوی رضویہ میں ہے : ” ہاں جب تک وہ گوشت ذابح مسلم خواہ او ر کسی مسلمان کی نگاہ سے غائب نہ ہو تو اس مسلمان اور نیز دوسرے کو اس مسلم کی خبر پر کہ یہ وہی گوشت ہے جو مسلمان نے ذبح کیا، خریدنا اور کھانا سب جائز ہے کہ اب خبر مسلم ہے نہ کہ کافر ، مگر وہ مخبر ثقہ نہ ہو تو قلب پر اس کا صدق جمنا شرط ہوگا۔ “ (فتاوی رضویہ ، 20/285)

 فتاوی رضویہ میں ہے: ” کافر غیر کتابی اگر کہے بھی کہ یہ مسلمان کا ذبیحہ ہے، تویہ خبر خصوصا امردیانت وحلت وحرمت میں ہے۔ اور ان امور میں کافر کی خبر محض باطل ونامعتبر ہے،درمختاروہدایہ وتبیین و ہندیہ وغیرہاعامہ کتب میں ہے: خبر الکافر مقبول بالاجماع فی المعاملات لافی الدیانات “(فتاوی رضویہ ، 20/283) تبیین الحقائق میں ہے: ”إذا كان له خادم أو أجير مجوسي فأرسله ليشتري له لحما فقال اشتريته من يهودي أو نصراني أو مسلم وسعه أكله، وإن قال اشتريته من مجوسي لا يسعه أكله؛ لأنه لما قبل في حق الشراء منه لزمه قبوله في حق الحل والحرمة ضرورة لما ذكرنا، وإن كان لا يقبل قوله فيه قصدا بأن قال هذا حلال، وهذا حرام۔“ (تبيين الحقائق، 6/12)

فتاوی رضویہ میں ہے: ” بخلاف اس کے کہ مسلمان اپنے کسی نوکر یا مزدور مشرک کو گوشت لینے بھیجے اور وہ خریدکر لائے اور کہے میں نے مسلمان سے خریدا ہے اس کا کھانا جائز ہوگا، جبکہ قلب میں اس کا صدق جمتاہو کہ اب یہ اصالۃً دربارہ معاملات قول کافر کا قبول ہے اگر چہ حکم دیانت کو متضمن ہوجائے گا۔ “(فتاوی رضویہ ، 20/284و285،)

ایک اور جگہ ہے: ” اگر قرائن کی رو سے اس کافر کے اس قول میں شک پیدانہ ہو، ظن غالب اس کے صدق ہی کاہو، تو مسلمان کے لئے اس ذبیحہ کے کھانے میں کوئی حرج نہیں کہ ہدیہ لانا از قبیل معاملات ہے اور معاملات میں کافر کی بات مقبول، او ر جب یہ مان لیا گیا کہ یہ ذبیحہ فلاں مسلم کا بھیجا ہوا ہے، تو اس کے ضمن میں حلت بھی مسلم ہوگئی، اگرچہ ابتداءً حلت، حرمت، طہارت، نجاست وغیرہا امور خالصہ دینیہ میں کافر کا قول مقبول نہیں۔ “ (فتاوی رضویہ ، 20/286،)

([6]) فقہاء کرام نے ” علاماتِ معہودہ معروفہ “ ( کہ عادتا جن کا خلاف نہیں ہوتا ان) کو مختلف مقامات پر شرعی ثبوت کا درجہ دیا ہے ، اسےظن غالب کے حصول  کا سبب قرار دیا ہے اور اس پر احکام کی بنیاد رکھی ہے۔ فتح القدیر میں ہے: ”  شرعية الفطر له إنما هو لدفع الحرج، وتحقق الحرج منوط بزيادة المرض أو إبطاء البرء أو فساد عضو، ثم معرفة ذلك باجتهاد المريض، والاجتهاد غير مجرد الوهم، بل هو غلبة الظن عن أمارة أو تجربة أو بإخبار طبيب مسلم غير ظاهر الفسق“ (فتح القدير2/ 351)

علامہ شامی علیہ الرحمہ  لکھتے ہیں: ”قلت: والظاهر أنه يلزم أهل القرى الصوم بسماع المدافع أو رؤية القناديل من المصر؛ لأنه علامة ظاهرة تفيد غلبة الظن وغلبة الظن حجة موجبة للعمل كما صرحوا به واحتمال كون ذلك لغير رمضان بعيد إذ لا يفعل مثل ذلك عادة في ليلة الشك إلا لثبوت رمضان“ (رد المحتار،2/ 386)

تیمم کے حوالے سے فتاوی رضویہ میں ہے: ”ہاں یہ بات کہ فلاں امر ضرر دے گا کسی کافر یاکُھلے فاسق یا ناقص طبیب کے بتائے سے ثابت نہیں ہوسکتی یا تو خود اپنا تجربہ ہوکہ نقصان ہوتاہے یاکوئی صاف علامت ایسی موجود ہو جس سے واقعی ظن غالب نقصان کا ہویاطبیب حاذق مسلم مستور بتائے جس کا کوئی فسق ظاہر نہ ہو۔ “ (فتاوی رضویہ، جلد 1، صفحہ 620،621)

([7]) محیط رضوی میں ہے: ”فاذا  اختلطت المسالخ الذکیۃ بمیتۃ او بذبیحۃ مجوسی او بمتروک التسمیۃ عامدا ، ان کان بینھما علامۃ یمکن الفصل بینھما یفصل لان العلامۃ صلحت دلالۃ۔۔الخ“ (محیط رضوی، جلد5، صفحہ70) فتاوی رضویہ میں ہے: ” اور جہاں مجوسی ذابح ہویا مجوسی بھی ذابح ہواور اس کا کاٹاہوا اور مسلمان کا ذبیحہ دلیل صحیح شرعی سے متمیز نہ ہوں وہاں سے کسی حلال جانور کا گوشت خریدنا،کھانا، کھلانا سب حرام ہے۔ “ (فتاوی رضویہ ،21 /649) فتاوی رضویہ میں ہے: ”اگر ذبح کرکے اسے دے دیا اور کوئی مسلمان دیکھتا نہ رہا، اس نے گوشت بنایا اور مسلمانوں کو دیا تو اب اس کا کھانا سرے سے حلال ہی نہ رہا، فان الکافرلایقبل قولہ فی الدیانات“ (فتاوی رضویہ ، 20/309) مفتی بدر عالم صاحب مد ظلہ العالی لکھتے ہیں: ’’وجہ حرمت اصلا مسلمان کی نگاہ سے غائب ہونا نہیں ہے بلکہ اس باب میں اصل ہے شبہۂ حرمت۔۔۔۔ ۔تو جہاں شبہۂ حرمت کا کوئی قاطع و نافی ہو وہاں مسلم کی نگاہ سے غائب ہونے کے باوجود فقہائے اسلام نے حلت کا قول کیا ہے۔ کافر ملازم اور اجیر کے بدست گوشت لانے پہنچانے پر حرمت نہیں، حالانکہ یہاں بھی مسلم کی نگاہوں سے اوجھل ہونا پایا گیا ہے۔ “ (جدید مسائل پر علماء کی رائیں،2/408،)