ڈرانے سے موت واقع ہوجانے کا حکم
بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ
کسی کو ڈرایا اور وہ شخص دل کا دورہ پڑنے سے وفات پا گیا، تو کیا حکم ہے؟
دار الافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی)
سوال
کیا فرماتے ہیں علمائے دین و مفتیان شرع متین اس مسئلے کے بارے میں کہ اگر کسی شخص کو مذاق میں ڈرایا جائے اور اس ڈر کی وجہ سے اسے دل کا دورہ پڑ جائے جس سے اس کی موت واقع ہو جائے، تو کیا اس کی موت کا ذمہ دار ڈرانے والا ہوگا؟
جواب
اگر کسی کو مذاق میں یا ویسے ہی اچانک ڈرایا جس سے دل کا دورہ پڑ کر اس کی موت واقع ہوگئی، تو فقہی اعتبار سے تو قتل کی کس قسم میں داخل ہوگا، اس کا دارومدار پوری صورت حال سامنے آنے پر ہے، البتہ فی نفسہ یہ فعل حرام و ناجائز ہوگا اور ڈرانے والا گناہ کے اعتبار سے بلاشبہ اس موت کا ذمہ دار قرار پائے گا۔ اس عمل کے گناہ ہونے پر احادیث واضح ہیں کہ مسلمان کو گھور کر دیکھنے، خوف زدہ کرنے سے سختی سے منع کیا گیا ہے۔
وَاللہُ اَعْلَمُ عَزَّ وَجَلَّ وَرَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم
مجیب: مفتی محمد قاسم عطاری
فتویٰ نمبر: FAM-1183
تاریخ اجراء: 16 ذو القعدۃ الحرام 1447ھ / 04 مئی 2026ء