
سودا ہونے کے بعد کرنسی کی قیمت میں کمی زیادتی کا شرعی حکم
سوال: ہمارا ایکسپورٹ کا کام ہے۔ آج سے دو ماہ پہلے یورپ کی ایک پارٹی سے ہمارا یورو (Euro) میں سودا ہوا، اس وقت ایک یورو(Euro)پاکستانی 237 روپے کا تھا ، اس پارٹی نے آدھی پیمنٹ (Payment) یورو(Euro) کی صورت میں اسی وقت بھیج دی اور آدھی پیمنٹ (Payment) مال کی ڈیلیوری مل جانے کے بعد بھیجنے کا طے ہوا۔ مال کی ڈیلیوری مل جانے کے بعد جب وہ پارٹی پیمنٹ بھیجنے لگی تو ایک یورو (Euro) پاکستانی 276 روپے کا ہوگیا تھا ۔ مجھے اس پارٹی سے یورو(Euro) طے شدہ مقدار میں ہی وصول کرنے چاہیے یاکم وصو ل کرنے چاہیے تھے؟ میں نے طے شدہ مقدار میں ہی یورو (Euro) وصول کیے البتہ جب میں اسے پاکستانی کرنسی میں تبدیل کروانے گیا تو مجھے اب ایک یورو (Euro) کے پاکستانی 237 روپے کی بجائے276 روپے ملے ۔اس صورت میرے لیے کیا حکم ہے؟
بارہویں کی رمی سے پہلے طوافِ وداع کرنے کا حکم
جواب: وقت،طوافِ زیارت کے بعد ہوتا ہے ،طوافِ زیارت کے بعد جو بھی طواف کیا جائے وہ طوافِ وداع ہوتا ہے اگرچہ یومِ نحر یعنی دسویں تاریخ کو ہی کر لیا جائے ،لہذا ...
بروکر کمیشن کا مستحق کب ہوتا ہے ؟ تفصیلی فتویٰ
جواب: وقت صرف کرے،محنت و بھاگ دوڑکرے اورکام مکمل کر لے یعنی اگر خود عاقد ہے کہ کسی چیز کے خریدنے یا بیچنے کا وکیل ہے، تو اس چیز کو خرید لے یا بیچ لے، یونہی ...
جواب: وقت کا اعتبار ہے ، اگر نیت کرتے وقت اس شہر یا گاؤں میں کم ازکم پورے پندرہ دن رہنے کی نیت تھی، تو مقیم ہوجائے گا،اب اگرچہ بعدمیں پندرہ دن پورا ہونے سے ...
دن میں حیض یا نفاس سے پاک ہو تو اس دن کا روزہ رکھنے کا حکم
سوال: جو عورت ظہر یا عصر کے وقت میں پاکی حاصل کرتی ہے(حیض یا نفاس سے) کیا وہ اس دن کا روزہ رکھ سکتی ہے(رمضان المبارک کا یا نفلی)؟
سفر شرعی کے دوران ضمنی قیام(دوست سے ملاقات کرنا) مسافر ہونے سے مانع نہیں
جواب: وقت تک رہتا ہے ، جب تک وہ وطن اصلی میں نہ آ جائے یا کسی موضعِ اقامت میں پندرہ یا اس سے زائد دن رہنے کی نیت نہ کر لے۔ دریافت کردہ صورت میں جبکہ اس ش...
سلام میں پہل کرنے کا زیادہ ثواب ہے یا جواب دینے کا ؟
جواب: وقت پر قرض ادا کرنا فرض ہے اور وقت سے پہلے ادا کرنا سنت، مگر ثواب اس کا زیادہ ہے کہ وعدے سے پہلے اد اکرے یا جیسے محتاج مقروض کو ڈھیل دینا مہلت دینا فر...
سوال: میں صاحبِ نصاب ہوں ، میں نے گزشتہ کچھ سالوں میں اس طرح زکوٰۃ ادا کی کہ کرونا کے موقع پر زکوٰۃ کی مد میں کافی رقم دی، پھر سیلاب کا واقعہ ہوا ، تو اس وقت بھی زکوٰۃ کی مد میں کافی رقم دی ، پھر ترکی میں ہونے والے زلزلے کے موقع پر بھی زکوٰۃ کی مد میں کافی ساری رقم جمع کروائی ۔ اب میں نے حساب لگایا ہے ، تو وہ ٹوٹل رقم میرے آئندہ تقریباً تین سال کی زکوٰۃ کے لیے کافی ہو چکی ہے یعنی میرے پاس 2026ء تک اندازاً جتنا مالِ زکوٰۃ رہے گا ، اس کی اندازاً جتنی زکوٰۃ بنتی ہے ، اتنی رقم میں زکوٰۃ کی مد میں دے چکا ہوں ۔میری رہنمائی فرمائیں کہ کیا میں زکوٰۃ کی نیت سے دی ہوئی اس اضافی رقم کو اگلے تین سال کی زکوٰۃ میں شمار کر سکتا ہوں ؟ میرا غالب گمان یہی ہے کہ میرے پاس 2026ء تک یہ سب قابلِ زکوٰۃ مال موجود رہے گا ۔