logo logo
AI Search

صبح صادق کے بعد حیض سے فارغ ہو تو روزے کا حکم؟

بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

دن میں حیض یا نفاس سے پاک ہو تو اس دن کا روزہ رکھنے کا حکم

دارالافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی)

سوال

جو عورت ظہر یا عصر کے وقت میں پاکی حاصل کرتی ہے (حیض یا نفاس سے) کیا وہ اس دن کا روزہ رکھ سکتی ہے (رمضان المبارک کا یا نفلی)؟

جواب

  جو عورت صبح صادق(فجر کا وقت شروع  ہونے) کے بعد، حیض یا نفاس سے پاک ہو، وہ اس دن کا روزہ نہیں رکھ سکتی، اور اگر اس نے روزہ رکھ لیا، تو وہ روزہ درست نہیں ہوگا، کیونکہ روزے کے ابتدائی وقت میں، اس میں روزے کی اہلیت نہیں تھی۔ البتہ! سارا دن روزہ دار کی طرح رہنا اس پر لازم ہے، لہذا روزے کے منافی کوئی کام کرنا (کھانا پینا وغیرہ) جائز نہیں۔

اس کی تفصیل یہ ہے کہ:

عورت اگر اکثر مدت حیض و نفاس پر پاک ہو(جیسے حیض والی دس دن پر اور نفاس والی چالیس دن پر)، تو صبح صادق(فجر کا وقت شروع) ہونے سے ایک لمحہ پہلے بھی پاک ہوگئی، تو وہ روزہ رکھنے کی اہل ہے، اور رمضان کا روزہ رکھنا اس پر لازم ہے۔

اور اگر اکثر مدت حیض و نفاس سے کم میں پاک ہو(جیسے حیض والی دس دن سے کم میں اور نفاس والی چالیس دن سے کم میں) اور سحری کا وقت ختم ہونے میں ابھی اتنا وقت باقی ہو، کہ پردے اور پانی کا اہتمام کرنے، اور کپڑے اتارنےکے بعد، غسل میں سارے جسم پر، فقط ایک بار پانی بہا سکے، اور اس کے بعد ایک بڑی چادر لے کر(جس سے مکمل ستر چھپ جائے) تحریمہ باندھ سکے، تو اس صورت میں اگر رمضان ہو، تو اگلے دن کا روزہ رکھنا فرض ہے، اور غیر رمضان ہو، تو اگلے دن کاروزہ رکھ سکتی ہے۔

اور اگر اتنا وقت نہیں، تو اگلے دن کا روزہ نہیں رکھ سکتی، اب اگر رمضان کا مہینہ ہو، تو اگلے دن کا روزہ اس پر لازم نہیں ہوگا، ہاں! سار ادن روزہ داروں کی طرح رہنا واجب و لازم ہوگا، کہ روزے کے خلاف کوئی کام کرنا (مثلا کھانا، پینا) حرام ہے۔

مبسوط سرخسی میں ہے

"واذا طهرت الحائض فی بعض نهار رمضان لم يجزها صومها فی ذلك اليوم لانعدام الاهلية للاداء فی اوله وعليها الامساك عندنا"

ترجمہ: حیض والی عورت رمضان کے دن کے کسی حصے میں پاک ہوئی تو اس کا آج کا روزہ ادا نہیں ہوگا کیونکہ روزے کے اول وقت میں وہ روزے کی اہل نہیں تھی، البتہ ہمارے نزدیک اس پر سارا دن بھوکا پیاسا رہنا لازم ہے۔ (المبسوط للسرخسی، کتاب الصوم، ج 3، ص 57، دار المعرفۃ، بیروت)

ذخر المتأھلین و منھل الواردین میں ہے:

"(إن انقطع الدم)۔۔۔( على أكثر المدة) أي: العشرة (في الحيض و) الأربعين (في النفاس يحكم بطهارتها) أي: بمجرد مضي أكثر المدة۔۔۔ (فإن انقطع) أي: مضت مدة الأكثر (قبل الفجر) بساعة ولو قلت"سراج". (في رمضان يجزيها صومه۔۔۔ وإلا) بأن انقطع مع الفجر أو بعده (فلا)۔۔۔(وان انقطع) حقیقۃ (قبل اکثر المدۃ۔۔ (لایجزیھا الصوم ان لم یسعھما) ای الغسل و التحریمۃ (الباقی من اللیل قبل الفجر)“

 ترجمہ: اگر خون آنا اکثر مدت پر ختم ہو، یعنی حیض میں دس دن پر اور نفاس میں چالیس دن پر، تو فقط اکثر مدت پوری ہونے سے ہی طہارت کا حکم ہوگا، پس اگر اکثر مدت پوری ہونے پر رمضان میں طلوع فجر سے ایک گھڑی پہلے یا اس سے بھی پہلے رک جائے، تو اس دن کا روزہ اسے کفایت کرے گا، اور اگر طلوع فجر کے ساتھ یا اس کے بعد خون رکے، تو اس دن کا روزہ اسے کفایت نہیں کرے گا، اور اگر حقیقتاً خون اکثر مدت ختم ہونے سے پہلے رک جائے، تو اگر طلوع فجر سے پہلے تک کے وقت میں اسے غسل کر کے تکبیر تحریمہ کہنا ممکن نہ ہو، تو اس دن کا روزہ اسے کفایت نہیں کرے گا۔ (ذخر المتأھلین و منھل الواردین، صفحہ 90-91، مطبوعہ: کوئٹہ)

بہار شریعت میں ہے "حیض و نفاس والی عورت صبح صادق کے بعد پاک ہوگئی، اگرچہ ضحوہ کبریٰ سے پیشتر اور روزہ کی نیت کر لی تو آج کا روزہ نہ ہوا، نہ فرض نہ نفل۔" (بہار شریعت، ج 1، حصہ 5، ص 990، مکتبۃ المدینہ)

وَ اللہُ اَعْلَمُ عَزَّ وَ جَلَّ وَ رَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَ اٰلِہٖ وَ سَلَّم

مجیب: ابو حفص مولانا محمد عرفان عطاری مدنی
فتویٰ نمبر: WAT-3692
تاریخ اجراء: 21 رمضان المبارک 1446ھ/22 مارچ 2025ء