مجیب:مفتی محمد ہاشم خان عطاری
فتویٰ نمبر: Lar-6323
تاریخ اجراء:15 جمادی الاول 1438 ھ/13 فروری 2017 ء
دار الافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی)
کیا فرماتے ہیں علمائے دین و مفتیان شرع متین اس بارے میں کہ کیا شیخ فانی (یعنی ایسا بوڑھا شخص جو روزہ رکھنے سے عاجز ہو جائے یعنی نہ فی الحال رکھسکتا ہو اور نہ آئندہ اتنی طاقت کی امید کے رکھ سکے گا) کے لیے ماہِ رمضان المبارک کے روزوں کا مکمل فدیہ شروع ماہ میں دینا جائز ہے؟ نیز کیا ایک ہی فقیر کو تیس روزوں کا فدیہ دیدے تو جائز ہے یا تیس فقیروں کو دینا ضروری ہے؟
سائل: محمد انصرخان المدنی (میانی)
بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ
اَلْجَوَابُ بِعَوْنِ الْمَلِکِ الْوَھَّابِ اَللّٰھُمَّ ھِدَایَۃَ الْحَقِّ وَ الصَّوَابِ
شیخ فانی کواختیار ہے کہ وہ روزوں کا فدیہ ماہ رمضان المبارک سے پہلے ادا کردے یا ختم ماہ کے بعد ادا کرے، ایک فقیر کو پورے ماہ کا دیدے یا کئی فقیروں کو دیدے۔
وَ اللہُ اَعْلَمُ عَزَّ وَ جَلَّ وَ رَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَ اٰلِہٖ وَ سَلَّم