سحری کھائے بغیر روزہ رکھنا کیسا؟
بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ
جان بوجھ کر سحری نہ کرنے کا حکم
دارالافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی)
سوال
میرا سوال یہ ہے کہ جان بوجھ کر سحری نہ کرنا کیسا ؟
جواب
سحری روزے کے لئے شرط نہیں، بلکہ سنتِ مستحبہ ہے، لہذا سحری کے بِغیر بھی روزہ ہو سکتا ہے، مگر جان بوجھ کر سحری نہ کرنا مناسب نہیں کہ ایک عظیم سنت سے محرومی ہے، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: یہود و نصارٰی اور ہمارے روزوں میں صرف سحری کا فرق ہے۔(یعنی وہ سحری نہیں کرتے اور ہم سحری کرتے ہیں۔) نیز یہ خیال رہے کہ !سحری کا مطلب پیٹ بھر کر کھانا یا پینا نہیں ہے، بلکہ اگر سحری کی نیت سے ایک دو لقمہ یا کھجور کھالی یا چند گھونٹ پانی وغیرہ پی لیا، تو سحری کی سنت ادا ہوگئی، لہذا اگر کھانے کو دل نہیں کررہا، تو سحری کی نیت سے کم ازکم ایک دو گھونٹ پانی پی لیا جائے، ان شاء اللہ عزوجل سحری کی سنت ادا ہوجائے گی۔
رسول اللہ صلی اللہ تعالی علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا:
”تسحروا فان فی السحور برکۃ“
ترجمہ: سحری کرو، پس بے شک سحری میں برکت ہے۔ (السنن الکبری للنسائی، جلد 3، صفحہ 108، مؤسسۃ الرسالۃ، بیروت)
تحفۃ الفقہاء میں ہے
”انما التسحر سنۃ فی حق الصائم على ما روي عن عمرو بن العاص عن النبي عليه السلام أنه قال إن فصل ما بين صيامنا وصيام أهل الكتاب أكلة السحر“
ترجمہ: روزہ دار کے لیے سحری کرنا سنت ہے۔ اس روايت کی بناء پر کہ عمرو بن عاص رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا: کہ ہمارے اور اہل کتاب کے روزوں میں فرق سحری کھانا ہے۔ (تحفۃ الفقہاء، جلد 1، صفحہ 365، دار الکتب العلمیۃ، بیروت)
فتاوی عالمگیری میں ہے ”التسحر مستحب۔“ ترجمہ: سحری کرنا مستحب ہے۔ (فتاوی عالمگیری، جلد 1، صفحہ 200، مطبوعہ: کوئٹہ)
بہارِ شریعت میں ہے ”سحری کھانا اور اس میں تاخیر کرنا مستحب ہے۔“ (بہارِ شریعت، جلد 1، حصہ 5، صفحہ 998، مکتبۃ المدینہ، کراچی)
فیضانِ رمضان میں ہے ”سحری روزے کیلئے شرط نہیں مستحب ہے، سحری کے بِغیر بھی روزہ ہو سکتا ہے مگر جان بوجھ کر سحری نہ کرنا مناسب نہیں کہ ایک عظیم سن سے محرومی ہے اور سحری میں خوب ڈٹ کر کھانا ہی ضَروری نہیں، چند کَھجوریں اور پانی ہی اگر بہ نیت سحری استعمال کر لیں جب بھی کافی ہے۔“ (فیضانِ رمضان، صفحہ 108، مکتبۃ المدینہ، کراچی)
وَ اللہُ اَعْلَمُ عَزَّ وَ جَلَّ وَ رَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَ اٰلِہٖ وَ سَلَّم
مجیب: مولانا محمد سعید عطاری مدنی
فتویٰ نمبر: WAT-4757
تاریخ اجراء: 27 شعبان المعظم1447ھ/16 فروری 2026ء