نابالغ لڑکا گھر میں اعتکاف کر سکتا ہے؟
بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ
نابالغ سمجھدار لڑکے کا گھر میں اعتکاف کرنا
دارالافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی)
سوال
کیا گیارہ سال کے سمجھدار نابالغ لڑکے کا گھر میں اعتکاف میں بیٹھنا درست ہے؟
جواب
مَردوں کے اعتکاف کے لیے مسجد ہونا شرط ہے، لہذا نابالغ، سمجھدار بچہ، اگر اعتکاف بیٹھنا چاہے، تو وہ مسجد میں ہی اعتکاف بیٹھے گا۔
مَردوں کے اعتکاف کے لیے مسجد کے شرط ہونے کے متعلق بدائع الصنائع میں ہے: ”اما الذی یرجع الی المعتکف فیہ فالمسجد و انہ شرط فی نوعی الاعتکاف الواجب و التطوع“ ترجمہ: بہرحال جس جگہ اعتکاف کیا جائے، اس کی شرائط: تو اس کے لیے مسجد ہونا شرط ہے اور یہ نفلی اور واجبی دونوں طرح کے اعتکاف کے لیے شرط ہے۔ (بدائع الصنائع، کتاب الاعتکاف، شرائط الصحۃ، جلد 2، صفحہ 280، مطبوعہ کوئٹہ)
فتاوی ہندیہ میں ہے ”و أما البلوغ فليس بشرط لصحة الاعتكاف فيصح من الصبي العاقل“ ترجمہ: اعتکاف کے صحیح ہونے کے لئے بلوغت شرط نہیں، پس عاقل نابالغ بچے کا بھی اعتکاف صحیح ہے۔ (فتاوی ہندیہ، ج 1، ص 211، مطبوعہ کوئٹہ)
بہار شریعت میں ہے مسجد میں اللہ (عزوجل) کے لیے نیّت کے ساتھ ٹھہرنا اعتکاف ہے اور اس کے لیے مسلمان، عاقل اور جنابت و حیض و نفاس سے پاک ہونا شرط ہے۔ بلوغ شرط نہیں بلکہ نابالغ جو تمیز رکھتا ہے اگر بہ نیّت اعتکاف مسجد میں ٹھہرے تو یہ اعتکاف صحیح ہے۔ (بہار شریعت، جلد 01، حصہ 05، صفحہ 1020، مکتبۃ المدینہ)
وَ اللہُ اَعْلَمُ عَزَّوَجَلَّ وَ رَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَ اٰلِہٖ وَ سَلَّم
مجیب: مولانا عبد الرب شاکر عطاری مدنی
فتویٰ نمبر: WAT-4946
تاریخ اجراء: 12 شوال المکرم 1447ھ / 01 اپریل 2026ء