logo logo
AI Search

بھول کر کھانے سے روزہ نہیں ٹوٹتا مگر نیند میں کیوں ٹوٹتا ہے؟

بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

بھول کرکھانے پینے سے روزہ نہیں ٹوٹتا تو پھر سوتے وقت حلق میں پانی جانے سے روزہ کیوں ٹوٹتا ہے؟

دار الافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی)

سوال

کیا فرماتے ہیں علمائے دین و مفتیان شرع متین اس مسئلہ کے بارے میں کہ ایک طرف تو یہ حکم بیان کیا جاتا ہے کہ روزہ دار بھول کر کھا پی لے اگرچہ پیٹ بھر کر کھالے تب بھی روزہ نہیں ٹوٹے گا، دوسری طرف بہار شریعت میں یہ بھی مسئلہ بیان ہوا ہے کہ سوتے میں پانی پی لیا یا کچھ کھا لیا یا منہ کھولا تھا اور پانی کا قطرہ یا اولا حلق میں جا رہا روزہ جاتا رہا۔ عقل کے اعتبار سے دیکھا جائے تو سونے والا معذور سمجھ میں آتا ہے جبکہ بھول کر کھانے پینے والا اس درجے کا معذور سمجھ میں نہیں آتا جس درجے کا سونے والا ہے، تو ان دونوں مسائل میں فرق کیوں ہے؟

جواب

مسلمان کا عبادت کی نیت سے صبح صادق سے لے کر آفتاب غروب ہونے تک خود کو کھانے پینے اور جماع سے روکے رکھنے کا نام شرعا روزہ ہے۔ اس کے مطابق قاعدہ تو یہی ہونا چاہیے کہ اگر کسی نے بھولے سے کھا پی لیا تو روزہ ٹوٹ جانا چاہیے جس طرح سونے کی حالت میں اگر منہ میں پانی وغیرہ کا قطرہ چلا گیا اور حلق سے اتر گیا تو روزہ ٹوٹ جاتا ہے، کیونکہ دونوں صورتوں میں ہی روزے کا رکن (کھانے پینے، جماع سے رکنا) فوت ہورہا ہے، لیکن چونکہ بھول کر کھانے پینے کے بارے میں، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی حدیث موجود ہے کہ بھول کر کھانے پینے والے کو نبی کریم صلی اللہ علیہ و سلم نے اسی روزے کو مکمل کرنے کا حکم فرمایا، جس سے معلوم ہوا کہ بھول کر کھانے پینے سے روزہ نہیں ٹوٹے گا، لہذا اس حدیث کی وجہ سے بھول کر کھانے پینے والے کو روزہ ٹوٹنے کے قاعدے سے مستثنی رکھا گیا ہے اور اس کا الگ سے حکم بیان کیا گیا ہے۔

دوسری وجہ یہ ہے کہ انسان پر بھول جانے کی کیفیت کثرت سے طاری ہوتی رہتی ہے، جبکہ سونے والے کا کھانا پینا یا حلق میں قطرہ چلا جانا نادراً کبھی کبھار ہوسکتا ہے، اس لئے جو چیز کثرت سے وقوع میں آنے والی تھی اسے معاف رکھا گیا اور جو چیز نادراً وقوع پذیر ہوتی ہے، اس سے روزہ ٹوٹنے کا حکم دیا گیا۔

روزے کی حقیقت کے بارے میں اللہ پاک ارشاد فرماتا ہے”وَ كُلُوْا وَ اشْرَبُوْا حَتّٰى یَتَبَیَّنَ لَكُمُ الْخَیْطُ الْاَبْیَضُ مِنَ الْخَیْطِ الْاَسْوَدِ مِنَ الْفَجْرِ۪- ثُمَّ اَتِمُّوا الصِّیَامَ اِلَى الَّیْلِ“ ترجمہ کنز الایمان: اور کھاؤ اور پیو، یہاں تک کہ تمہارے لئے ظاہر ہوجائے سفیدی کا ڈورا، سیاہی کے ڈورے سے پو پھٹ کر، پھر رات آنے تک روزے پورے کرو۔ (پارہ 2، سورۃ البقرۃ، آیت 187)

بھول کرکھانے پینے والے کا روزہ نہیں جاتا، حدیث پاک میں ہے: ”عن أبی هريرة رضی اللہ عنه، عن النبی صلى اللہ عليه و سلم، قال: إذا نسی فأكل و شرب، فليتم صومه، فإنما أطعمه اللہ و سقاه“ ترجمہ: حضرت ابوہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے فرمایا: جب روزہ دار بھول جائے اور وہ کھا پی لے تو اپنا روزہ مکمل کرلے، کیونکہ اسے اللہ نے کھلایا پلایا ہے۔ (بخاری شریف جلد 1، صفحہ 350، مطبوعہ لاہور)

حدیث کی وجہ سے بھول کر کھانے والے کا وہ حکم نہیں ہوگا جو سونے والے کا ہے۔ اصول السرخسی میں شمس الائمہ محمد بن احمد السرخسی رحمہ اللہ فرماتے ہیں: ”و كذلك بقاء الصوم مع الأكل و الشرب ناسيا فإنه معدول به عن القياس بالنص لأن ركن الصوم ينعدم بالأكل مع النسيان و الركن هو الكف عن اقتضاء الشهوات و أداء العبادة بعد فوات ركنها لا يتحقق فعرفنا أنه عن معدول به عن القياس فلم يجز تعدية الحكم فيه إلى المخطىء و المكره و النائم يصب في حلقه بطريق التعليل“ ترجمہ: اسی طرح بھول کر کھا پی لینے کے باوجود روزے کا باقی رہنا بھی قیاس سے ہٹ کر نص کی وجہ سے ہے کیونکہ بھول کر کھا پی لینے سے بھی روزے کا رکن معدوم ہوگیا، اور وہ رکن یہ تھا کہ مخصوص شہوات کو پورا کرنے سے رکے رہنا، اور عبادت کا رکن فوت ہونے کے باوجود بھی عبادت کا ادا ہوجانا متحقق نہیں ہوسکتا، اس سے ہم نے جانا کہ بھول کر کھانے پینے والے کا روزہ باقی رہنے کا حکم قیاس سے ہٹ کر ہے، لہذا علت کو دیکھتے ہوئے یہ جائز نہیں ہوگا کہ بھولنے والے کے حکم کو کسی دوسرے (یعنی غلطی سے کھانے پینے والے، یا جس کو زبردستی کھلایا پلایا گیا یا سونے والے کے حلق میں قطرہ چلا گیا) کی طرف متعدی کیا جائے۔ (اصول السرخسی جلد 2، صفحہ 153، مطبوعہ بیروت)

روزے کے علاوہ بھی کئی مسائل ہیں جہاں شریعت مطہرہ نے سونے والے کے سونے کو عذر نہیں مانا جیسا کہ ردالمحتار میں فرمایا: ”و ليس هو كالناسی لأن النائم أو ذاهب العقل لم تؤكل ذبيحته و تؤكل ذبيحة من نسی التسمية بحر عن الخانية قال الرحمتی و معناه: أن النسيان اعتبر عذرا فی ترك التسمية بخلاف النوم و الجنون فكذا يعتبر عذرا فی تناول المفطر لأن النسيان غير نادر الوقوع، و أما الذبح و تناول المفطر فی حال النوم و الجنون فنادر فلم يلحق بالنسيان“ ترجمہ: سونے والا، بھولنے والے کی طرح نہیں ہے، کیونکہ سونے والے کا یا جس کی عقل چلی گئی ہو، ان دونوں کا ذبیحہ حلال نہیں ہوتا، جبکہ جو شخص جانور ذبح کرتے وقت بسم اللہ پڑھنا بھول جائے، اس کا ذبیحہ حلال ہوتا ہے، اس کو البحر الرائق میں خانیہ کے حوالے سے ذکرکیا گیا۔ علامہ رحمتی رحمہ اللہ فرماتے ہیں: اس کا مطلب یہ ہے کہ بھولنے کو بسم اللہ نہ پڑھنے میں عذر مانا گیا ہے جبکہ سونے یا جنون کو ذبیحہ میں عذر نہیں مانا گیا، اسی طرح روزے کی حالت میں بھولے سے کھانے پینے کو عذر مانا گیا ہے کیونکہ بھولنا نادر نہیں ہے (بلکہ کثرت سے واقع ہوتا ہے) جبکہ سونے کی حالت میں روزہ دار کا کھانا، یا جنون طاری ہونے کی حالت میں ذبح کرنا، نادر ہے لہذا اسے بھولنے کے حکم کے ساتھ لاحق نہیں کیا جائے گا۔ (رد المحتار جلد 3، صفحہ 429، مطبوعہ کوئٹہ)

وَ اللہُ اَعْلَمُ عَزَّ وَ جَلَّ وَ رَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَ اٰلِہٖ وَ سَلَّم

مجیب: مولانا محمد فراز عطاری مدنی
فتویٰ نمبر: Gul-3160
تاریخ اجراء: 13 شوال المکرم 1445ھ / 22 اپریل 2024ء