logo logo
AI Search

نو اور دس محرم کا روزہ رکھنا کیسا؟

بسم اللہ الرحمن الرحیم

9 اور 10 محرم کا روزہ رکھنا

دار الافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی)

سوال

کیا 9 اور 10 محرم کا روزہ رکھنا گناہ ہے؟

جواب

9اور 10 محرم کا روزہ رکھنا ہرگز گناہ نہیں، بلکہ محرم الحرام کے ہر دن کا روزہ بے شمار برکتوں اور فضیلتوں کا سبب ہے، بالخصوص 10 محرم الحرام کا روزہ کہ خود نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے رکھنا ثابت ہے، نیز حضور علیہ السلام نے اس کی ترغیب بھی ارشاد فرمائی ہے، پھر چونکہ 10 محرم کو یہودی بھی روزہ رکھتے تھے، لہذا ان کی مشابہت سے بچنے کے لیے اس کے ساتھ 9 یا 11 محرم کا روزہ بھی ملانے کا حکم ارشاد فرمایا۔

صحیح مسلم میں حضرت ابو قتادہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: وصيام يوم عاشوراء أحتسب على اللہ أن يكفر السنة التي قبله" ترجمہ: اور میں اللہ سے امید رکھتا ہوں کہ عاشوراء کے دن کا روزہ پچھلے ایک سال کے گناہوں کا کفارہ بن جائے گا۔ (صحیح مسلم، صفحہ 422، رقم الحدیث 1162، دار الکتب العلمیۃ، بیروت)

صحیح بخاری شریف میں ہے "عن ابن عباس رضي اللہ عنهما: أن النبي صلی اللہ علیہ و سلم لما قدم المدينة وجدهم يصومون يوما يعني: عاشوراء، فقالوا: هذا يوم عظيم؛ وهو يوم نجى اللہ فيه موسى، وأغرق آل فرعون، فصام موسى شكرا للہ، فقال: أنا أولى بموسى منهم فصامه، و أمر بصيامه" ترجمہ: حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ جب نبی کریم صلی اللہ تعالی علیہ وآلہ وسلم مدینہ تشریف لائے، تو آپ علیہ الصلوۃ والسلام نے یہود کو ایک دن یعنی عاشورا کا روزہ رکھتے ہوئے پایا،تو انہوں نے کہا: یہ بہت عظمت والا دن ہے، یہ وہ دن ہے، جس میں اللہ تعالیٰ نے موسیٰ علیہ الصلوۃ و السلام کو نجات دی، اور آلِ فرعون کو غرق کر دیا، پس موسیٰ علیہ الصلوۃ و السلام نے اللہ تعالی کا شکر ادا کرنے کے لیے (اس دن) روزہ رکھا۔ تو نبی کریم صلی اللہ تعالی علیہ و آلہ و سلم نے فرمایا: ہم موسیٰ علیہ الصلوۃ و السلام کے، ان کے مقابلے میں، زیادہ حق دار ہیں، پس آپ صلی اللہ تعالی علیہ وآلہ وسلم نے خود بھی اس دن روزہ رکھا، اور اس کے روزے کا حکم بھی دیا۔ (صحیح بخاری، صفحہ 623، رقم الحدیث 3397،دار الکتب العلمیۃ، بیروت)

مسند احمد میں روایت ہےکہ رسول اللہ صلی اللہ تعالی علیہ و آلہ و سلم نےارشاد فرمایا: صوموا یوم عاشوراء، و خالفوا فیہ الیہود، صوموا قبلہ یوما، أو بعدہ یوما" ترجمہ: عاشوراء کے دن کا روزہ رکھو، اور اس میں یہود کی مخالفت کرو، اس سے ایک دن پہلے یا ایک دن بعد کا روزہ بھی رکھو۔ (مسند احمد، جلد 4، صفحہ 52، مؤسسۃ الرسالۃ، بيروت)

وَ اللہُ اَعْلَمُ عَزَّ وَ جَلَّ وَ رَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَ اٰلِہٖ وَ سَلَّم

مجیب: مولانا محمد علی عطاری مدنی
فتوی نمبر: WAT-5155
تاریخ اجراء: 21 محرم الحرام 1448ھ / 07 جولائی 2026ء