logo logo
AI Search

اذان کے بعد یا اذان کے وقت سحری کھانا کیسا؟

بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

سحری میں اذان کے بعد تک کھانا پینا

دار الافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی)

سوال

کیا فرماتے ہیں علماء دین و مفتیان شرع متین اس مسئلے کے بارے میں کہ اگر کوئی شخص مسئلہ معلوم نہ ہونے کی وجہ سے رمضان میں اذان کے بعد تک یا اذان کے وقت سحری کھاتا پیتا رہا تو کیا اس دن کا روزہ ہوجائے گا یا نہیں؟ اس روزے کی قضا لازم ہوگی یا نہیں؟

جواب

صبح صادق ہوتے ہی سحری کا وقت ختم ہو جاتا ہے اور اذان، فجر کا وقت شروع ہونے پر نماز فجر کے لیے دی جاتی ہے، لہذا جو شخص اذان کے بعد سحری کھاتا پیتا رہا تو اس کا روزہ نہ ہوا، اس شخص پر اس روزے کی قضا لازم ہے۔

تنویر الابصار میں ہے: "سحر یظن الیوم لیلا و الفجر طالع قضی فقط" ترجمہ: اگر رات کا گمان کرتے ہوئے سحری کرلی جبکہ فجر طلوع ہوچکی تھی تو فقط قضا لازم ہے۔ (در المختار مع رد المحتار جلد 3 صفحہ 436 مطبوعہ بیروت)

فتاوی رضویہ میں اسی طرح کے سوال کے جواب میں ارشاد فرمایا: بریلی بلگرام کے قریب قریب عرض کے شہروں میں سحری چار بجے تک کھانی چاہئے، ساڑھے چار بجے کب کی صبح ہوچکتی ہے، اس وقت کچھ کھانے پینے کے معنی ہی نہ تھے، وہ روزہ یقینا نہ ہوا اُس کی قضا فرض ہے۔ (فتاوی رضویہ جلد 10 صفحہ 517 مطبوعہ رضا فاونڈیشن لاہور)

ایک اور مقام پہ فرمایا: اس رمضان شریف میں پانچ بجے تک کسی طرح وقت نہ تھا جبکہ پانچ بجے تک سحری کھائی تو روزہ بلاشبہ ہوا ہی نہیں کہ توڑنا صادق آئے، قضا لازم ہے اور کفارہ نہیں۔ (فتاوی رضویہ جلد 10 صفحہ 519 مطبوعہ رضا فاونڈیشن لاہور)

بہار شریعت میں ہے: یہ گمان کر کے کہ رات ہے، سحری کھا لی یا رات ہونے میں شک تھا اور سحری کھالی حالانکہ صبح ہو چکی تھی، ان سب صورتوں میں صرف قضا لازم ہے، کفارہ نہیں۔ (بہار شریعت جلد 1 حصہ 5 صفحہ 989 مطبوعہ مکتبۃ المدینہ کراچی)

وَ اللہُ اَعْلَمُ عَزَّوَجَلَّ وَ رَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَ اٰلِہٖ وَ سَلَّم

مجیب: مولانا محمد حسان عطاری مدنی
فتویٰ نمبر: Web-24
تاریخ اجراء: 23 ربیع الثانی 1442ھ / 09 دسمبر 2020ء