حرام چیز سے افطار کیا تو روزہ ہوجائیگا؟
بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ
حرام چیز سے افطاری کی تو روزے کا حکم
دارالافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی)
سوال
آفس میں افطار کرتے ہوئے کیفے (cafeteria) سے ایک چیز لے کر کھالی، جس میں مجھے اب شک ہے، کہ اس میں حرام چیز شامل ہو سکتی ہے، تو کیا میرا روزہ ہو گیا؟ نیز اس کھانے کی تلافی کیسے کروں؟
جواب
اولا یہ بات یاد رہے کہ! کوئی بھی چیز محض شک و شبہ کی بنیاد پر حرام قرار نہیں پاتی، جب تک کہ اس کے حرام ہونے کا یقین نہ ہو، ما سوائے گوشت اور اس سے بنی اشیا کے؛ کہ گوشت میں اصل حرمت ہے، لہذا جب تک اس کا حلال ہونا متحقق نہ ہو، اس وقت تک حکم حرمت ہے۔
اور ثانیا یہ کہ روزہ اس چیز کا نام ہے کہ عبادت کی نیت سے صبح صادق سے غروب آفتاب تک اپنے آپ کوکھانے، پینے اورجماع سے روک کر رکھا جائے، سحری و افطاری روزے کی حقیقت میں شامل نہیں، نہ ہی اس کی شرائط میں سے ہیں، اگر بالفرض سحری یا افطاری کسی حرام چیز سے کی، تو اس کا گناہ تو ہوگا لیکن روزہ تب بھی درست ہوجائے گا۔
امام اہلسنت، امام احمد رضا خان رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ (سال وفات: 1340ھ / 1921ء) لکھتے ہیں: ”فان الصوم انما ھو الامساک من المفطرات الثلاثۃ من الفجر الی اللیل (یعنی پس روزہ دراصل فجر سے لے کر رات آنے تک تینوں مفطرات (کھانا، پینا اور ہمبستری) سے رکے رہنے ہی کا نام ہے)، سحری کھانا یا افطار کرنا روزے کی حقیقت میں داخل نہ اس کی شرائط سے، پھر اگر یہ مالِ حرام سے واقع ہوئی تو اس کا گناہ جدا رہا، مگر سقوطِ فرض میں شبہ نہیں۔“ (فتاوی رضویہ، جلد 10، صفحہ 331، رضا فاؤنڈیشن، لاہور)
امام احمد رضا خانرحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ فرماتے ہیں: ”شریعتِ مطہرہ میں طہارت و حلت اصل ہیں (یعنی سوا بعض اشیا کے جن میں حرمت اصل ہے، جیسے دماء و فروج و مضار ۱۲ منہ)، اور ان کا ثبوت خود حاصل کہ اپنے اثبات میں کسی دلیل کا محتاج نہیں اور حرمت و نجاست عارضی کہ ان کے ثبوت کو دلیل خاص درکار، اور محض شکوک و ظنون سے ان کا اثبات ناممکن کہ طہارت و حلت پر بوجہ اصالت جو یقین تھا اس کا زوال بھی اس کے مثل یقین ہی سے متصور، نرا ظن لاحق یقین سابق کے حکم کو رفع نہیں کرتا۔“ (فتاوی رضویہ، جلد 4، صفحہ 476 - 477، رضا فاؤنڈیشن، لاہور)
آپ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ ایک اور مقام پر لکھتے ہیں: ”گوشت میں اصل یہ کہ جانور مثلاً گائے جب تک زندہ ہے اس کا گوشت حرام ہے ۔۔۔ حلت ذکاتِ شرعی سے ثابت ہوتی ہے، تو جب ذبح شرعی معلوم و متحقق نہ ہو تو حکم حرمت ہے۔“ (فتاوی رضویہ، جلد 20، صفحہ 288 - 289، رضا فاؤنڈیشن، لاہور)
وَ اللہُ اَعْلَمُ عَزَّوَجَلَّ وَ رَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَ اٰلِہٖ وَ سَلَّم
مجیب: ابو حفص مولانا محمد عرفان عطاری مدنی
فتویٰ نمبر: WAT-4889
تاریخ اجراء: 17 شوال المکرم 1447ھ / 06 اپریل 2026ء