logo logo
AI Search

سفر میں افطار کس شہر کے اعتبار سے ہوگا؟

بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

اپنے شہر میں روزہ رکھ کر دوسرے شہر چلا گیا تو افطار کس شہر کے اعتبار سے کرے گا؟

دارالافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی)

سوال

میرے شہر میں روزہ افطار کا وقت شام 6 بج کر 13 منٹ ہے، میں نے سحری بھی اسی شہر میں کی تھی، لیکن دن کے وقت سفر کرکے تقریباً ڈھائی سو کلومیٹر دور دوسرے شہر آ گیا ہوں، اس دوسرے شہر میں مغرب کا وقت 6 بج کر 7 منٹ ہے، اب سوال یہ ہے کہ میں اپنے پہلے شہر کے وقت (6:13) کے مطابق افطار کروں یا اس شہر کے وقت کے مطابق، جہاں میں اس وقت موجود ہوں؟ اس بارے میں شرعی رہنمائی فرمائیں۔

جواب

شرعا افطار کا سبب غروبِ آفتاب ہے، اور غروبِ آفتاب اس جگہ کا معتبر ہوتا ہے، جہاں انسان اس وقت موجود ہو، لہٰذا پوچھی گئی صورت میں چونکہ آپ سفر کرکے جس شہر میں گئے ہیں، وہاں مغرب کا وقت 6 بج کر 7 منٹ ہے، تو آپ اسی شہر کے وقت کے مطابق 6:07 پر افطار کرسکتے ہیں، پہلے شہر کے وقت (6:13) تک انتظار کرنا ضروری نہیں۔

صحیح بخاری میں ہے

قال رسول اللہ صلى اللہ عليه وسلم: إذا اقبل الليل من هاهنا، و ادبر النهار من هاهنا، وغربت الشمس، فقد افطر الصائم

ترجمہ: رسول اللہ صلی اللہ تعالی علیہ و آلہ و سلم نے فرمایا: جب رات اس طرف سے آجائے، اور دن اس طرف سے چلا جائے، اور سورج غروب ہو جائے، تو روزہ دار کا روزہ افطار ہو گیا۔ (صحیح البخاری، جلد 02، صفحہ 691، رقم الحدیث: 1853، مطبوعہ: دار ابن كثير)

فتاوی فقیہ ملت میں ہے سورج ڈوبنے کا اعتبار اسی جگہ کا ہوگا جہاں روزہ دار ہے۔ (فتاوی فقیہ ملت، جلد 1، صفحہ 341، شبیربرادرز لاہور)

و اللہ اعلم عزوجل و رسولہ اعلم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم

مجیب: مولانا محمد شفیق عطاری مدنی
فتویٰ نمبر: WAT-4883
تاریخ اجراء: 08 شوال المکرم 1447ھ / 28 مارچ 2026ء