logo logo
AI Search

روزے کا کفارہ سید کو دینے کا حکم

بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

روزے کا کفارہ سید کو دے سکتے ہیں ؟

دار الافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی)

سوال

کیا فرماتے ہیں علمائے دین و مفتیانِ شرع متین اس مسئلہ کے بارے میں کہ روزے کا کفارہ سید کو دے سکتے ہیں؟

جواب

روزے کا کفارہ ساداتِ کرام کو دینا شرعاً جائز نہیں، کیونکہ روزے کے کفارے کا مصرف محض وہی افراد ہیں، جو دیگر صدقاتِ واجبہ مثلاً زکوٰۃ یا صدقہ فطر کے مصارف ہیں، لہذا جب زکوٰۃ یا فطرانہ ساداتِ کرام کے خاندانی شرف و فضیلت کے باعث انہیں دینا، جائز نہیں، تو اِسی طرح روزے کا کفارہ بھی ساداتِ کرام کو نہیں دے سکتے۔

ساداتِ کرام کے لیے زکوٰۃ کی ممانعت کے متعلق حدیثِ مبارک میں ہے: ”إن هذه الصدقات إنما هي أوساخ الناس. إنها لاتحل لمحمد ولا لآل محمد“ ترجمہ: بیشک یہ صدقات لوگوں (کے مال)کا میل ہے، یہ نبی صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ اور نبی صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کی آل کے لیے حلال نہیں۔ (صحیح المسلم، جلد 3، کتاب الزکاۃ، صفحہ 119، مطبوعہ دارالطباعۃ العامرہ، ترکیا)

محض زکوٰۃ ہی نہیں، بلکہ دیگر صدقاتِ واجبہ کا بھی یہی حکم ہے، چنانچہ فتاوی عالمگیری میں ہے: ”ولا يدفع إلى بني هاشم۔۔۔هذا في الواجبات كالزكاة والنذر والعشر والكفارة فأما التطوع فيجوز الصرف إليهم كذا في الكافي“ ترجمہ: بنی ہاشم کو نہ دیا جائے، یہ حکم صدقاتِ واجبہ میں ہے، جیسا کہ زکوٰۃ، نذر، عُشر اور کفارہ۔ہاں انہیں نفلی صدقہ دینا جائز ہے، اسی طرح کافی میں ہے۔ (الفتاوی الھندیۃ، جلد 1، صفحہ 189، مطبوعہ کوئٹہ)

جو زکوٰۃ کا مصرف ہے، وہی دیگر صدقاتِ واجبہ کا مصرف ہوتا ہے، چنانچہ علامہ ابنِ عابدین شامی دِمِشقی رَحْمَۃُ اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ (سالِ وفات: 1252ھ/1836ء) لکھتے ہیں: ”وهو مصرف أيضا لصدقة الفطر والكفارة والنذر وغير ذلك من الصدقات الواجبة“ ترجمہ: زکوٰۃ کا مصرف ہی صدقہ فطر، کفارہ، نذر اور اس کے علاوہ دیگر صدقاتِ واجبہ کا مصرف ہے۔ (رد المحتار، جلد 3، صفحہ 333، مطبوعہ کوئٹہ)

پوچھی گئی صورت کے متعلق صراحتاً صدر الشریعہ مفتی محمد امجد علی اعظمی رَحْمَۃُ اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ (سالِ وفات: 1367ھ/1947ء) لکھتے ہیں: ”سادات کرام کو کفارہ کا کھانا دینا، جائز نہیں۔“ (فتاوی امجدیہ، جلد 1، صفحہ 397، مطبوعہ مکتبہ رضویہ)

وَاللہُ اَعْلَمُ عَزَّ وَجَلَّ وَرَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم

مجیب: مفتی محمد قاسم عطاری
فتویٰ نمبر: FSD-9953
تاریخ اجراء: 09 ذو القعدۃ الحرام 1447ھ / 27 اپریل 2026 ء