جاب کی وجہ سے روزہ چھوڑ سکتے ہیں؟
بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ
جاب کی وجہ سے روزہ چھوڑنا کیسا ؟ نیز تیراکی کرتے ہوئے پانی اندر چلا جائے تو روزے کا حکم
دار الافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی)
سوال
کیا فرماتے ہیں علمائے دین و مفتیان شرع متین اس مسئلہ کے بارے میں کہ (1) میں ایک جگہ جاب کرتا ہوں، وہاں وقتاً فوقتاً مختلف طرح کی ورزش اور مشق (practice) کرنی ہوتی ہے، جن میں ریس (race) اور تیراکی (swimming)بھی ہے، تو جس دن سخت ورزش کرنی ہو، اس دن روزہ رکھنا دشوار ہو جاتا ہے، تو کیا اس دن رمضان کا روزہ چھوڑ سکتے ہیں؟
(2) تیراکی کے دوران اگر منہ یا ناک کے ذریعے پانی منہ میں چلا جائے، تو کیا اس سے روزہ ٹوٹ جائے گا؟
جواب
(1) روزہ اسلام کے ارکان میں سے ایک اہم رکن ہے اور ہر عاقل بالغ مقیم مسلمان مرد و عورت پر رمضان کا روزہ رکھنا فرض ہے، بلا عذرِ شرعی اس کا چھوڑنا، ناجائز و حرام اور گناہ ہے۔ جاب کے معاملات کی وجہ سے فرض روزہ چھوڑنے کی اجازت نہیں ہے، بلکہ حکم یہ ہے کہ روزہ رکھا جائے اور جتنا کام ہو سکتا ہے، کیا جائے اور اگر دشواری پیش آتی ہو، تو آفیسرز سے بات کر کے ورزش و مشق کی نوعیت میں تبدیلی کروا لی جائے یا رات میں ورزشیں کی جائیں۔
روزوں کی فرضیت کے متعلق اللہ تعالیٰ قرآن کریم میں ارشاد فرماتا ہے: ﴿یٰۤاَیُّہَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا کُتِبَ عَلَیْکُمُ الصِّیَامُ کَمَا کُتِبَ عَلَی الَّذِیْنَ مِنْ قَبْلِکُمْ لَعَلَّکُمْ تَتَّقُوْنَ﴾ ترجمہ کنز العرفان: اے ایمان والو! تم پر روزے فرض کیے گئے جیسے تم سے پہلے لوگوں پر فرض کئے گئے تھے تا کہ تم پرہیز گار بن جاؤ۔ (پارہ 2، سورۃ البقرہ، آیت 183)
روزوں میں کوتاہی کی سزا بیان کرتے ہوئے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم فرماتے ہیں: ”بینا انا نائم اذ اتانی رجلان، فاخذا بضبعی، فاتیا بی جبلاً وعراً، فقالا: اصعد۔۔ فصعدت حتی اذا کنت فی سواء الجبل اذا باصوات شدیدۃ، قلت: ما ھذہ الاصوات؟ قالوا: ھذا عواء اھل النار، ثم انطلق بی فاذا انا بقوم معلقین بعراقیبھم، مشققۃ اشداقھم، تسیل اشداقھم دماً قال: قلت: من ھؤلاء؟ قال: ھؤلاء الذین یفطرون قبل تحلّۃ صومھم“ ترجمہ: میں سو رہا تھا، اچانک میرے پاس دو شخص آئے، انہوں نے مجھے میرے بازو سے تھاما اور ایک دشوار گزار پہاڑ کے پاس لے آئے اور بولے: اوپر تشریف لے چلیں،۔۔تو میں اوپر چڑھنے لگا یہاں تک کہ جب میں پہاڑ کے برابر ہوا تو بہت ہولناک آوازیں آنے لگیں، میں نے پوچھا: یہ آوازیں کیسی ہیں ؟ انہوں نےجواب دیا: یہ جہنمیوں کے چیخنے کی آوازیں ہیں۔ پھر وہ مجھے لے کر ایسے لوگوں کے پاس آئے جو اپنی پنڈلیوں کے ساتھ لٹکے ہوئے تھے، ان کے جبڑوں کو چیرا ہوا تھا اور ان سے خون بہہ رہا تھا، میں نے پوچھا: یہ لوگ کون ہیں ؟ جواب ملا: یہ وہ لوگ ہیں جو روزہ افطار کرنے کا جائز وقت ہونے سے پہلے ہی روزہ افطار کر لیتے تھے۔ (صحیح ابن خزیمة، کتاب الصیام، باب ذکر تعلیق المفطرین الخ، حدیث 1986، جلد 3، صفحہ 237، مطبوعہ بیروت )
امامِ اہلسنت امام احمد رضا خان رحمۃ اللہ علیہ اس حدیثِ پاک کے تحت فرماتے ہیں: ”چوں پیش از وقتِ افطار را ایں عذاب ست اصلاً روزہ نہ داشتن را خود قیاس کن کہ چنداں باشد وَالْعِیَاذُ بِاللہ‘‘ ترجمہ: جب قبل از وقت روزہ افطار کرنے پر یہ عذاب ہے تو خود سوچئے بالکل روزہ نہ رکھنے پر کتنا عذاب ہوگا۔ وَالْعِیَاذُ بِاﷲ‘‘ (فتاوی رضویہ، جلد 10، صفحہ 341، رضا فاونڈیشن، لاھور)
روزے کی حالت میں کام کے متعلق در مختار میں ہے: ”لا یجوز ان یعمل عملاً یصل بہ الی الضعف“ ترجمہ: روزہ دار کے لیے ایسا کوئی کام کرنا، جائز نہیں جس کی وجہ سے اسے کمزوری ہو۔ (در مختار مع رد المحتار، کتاب الصوم، جلد 3، صفحہ 460، مطبوعہ کوئٹہ)
فتاویٰ رضویہ میں ہے: ’’اگر دھوپ میں کام کرنے کے ساتھ روزہ ہوسکے اور آدمی مقیم ہو مسافر نہ ہو، تو روزہ فرض ہے اور اگر نہ ہو سکے روزہ رکھنے سے بیمار پڑ جائے، ضررِ قوی پہنچے، تو مقیم غیرِ مسافر کو ایسا کام کرنا حرام ہے۔ (فتاوی رضویہ، جلد 20، صفحہ 228، رضا فاونڈیشن، لاھور)
(2) تیراکی کے دوران اگر منہ یا ناک کے ذریعے حلق میں پانی چلا گیا، تو روزہ ٹوٹ جائے گا، جبکہ روزہ دار ہونا یاد ہو اور اس روزے کی قضا کرنی ہو گی۔ البتہ اگر روزہ یاد نہیں، تو پھر نہیں ٹوٹے گا، جیسا کہ کلی کرنے اور ناک میں پانی چڑھانے کا حکم ہے۔
فتاوی عالمگیری میں ہے: ’’وان تمضمض او استنشق فدخل الماء جوفہ ان کان ذاکرا لصومہ فسد صومہ وعلیہ القضاء وان لم یکن ذاکرا لایفسد صومہ کذا فی الخلاصۃ وعلیہ الاعتماد‘‘ یعنی اگر کسی شخص نے کلی کی یاناک میں پانی چڑھایا اور بلا قصد پانی حلق سے اتر گیا تو اگر روزہ دار ہونا یاد ہے تو روزہ جاتا رہا اور اس پر قضاء ہے اور اگر روزہ ہونا بھول گیا ہو تو نہ ٹوٹے گا، ایسے ہی خلاصہ میں ہے اور اسی پر اعتماد ہے۔ (فتاوی عالمگیری، کتاب الصوم، باب فیما یفسد وما لا یفسد، جلد 1، صفحہ 222، مطبوعہ کراچی)
وَاللہُ اَعْلَمُ عَزَّ وَجَلَّ وَرَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم
مجیب: مولانا محمد علی عطاری مدنی
فتویٰ نمبر: Pin-7427
تاریخ اجراء: 11 رمضان المبارک 1445ھ / 22 مارچ 2024ء