روزے کی حالت میں بلیچ لگانا کیسا؟
بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ
روزے کی حالت میں بلیچ لگانے کا حکم
دارالافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی)
سوال
کیا فرماتے ہیں علماء دین و مفتیان شرع متین اس بارے میں کہ بلیچ لگانے سے آنکھوں میں جلن ہوتی ہے، تو روزے کی حالت میں بلیچ لگانے کا کیا حکم ہے؟
جواب
روزے کی حالت میں چہرے پر بلیچ لگانا، جائز ہے، کیونکہ اس سے کچھ جسم میں داخل ہو بھی، تو یہ مسام کے ذریعے داخل ہوگا، اور مسام کے ذریعے کسی بھی چیز کے داخل ہونے پر روزہ نہیں ٹوٹتا، لہذا اس صورت میں چہرے پر بلیچ لگانے سے صرف آنکھوں میں جلن ہونا، روزہ ٹوٹنے کا سبب نہیں ہے۔
درمختار میں ہے:
(أو أدهن أو اكتحل أو احتجم) و إن وجد طعمه في حلقه
ترجمہ: تیل یا سرمہ لگایا، یا پچھنے لگوائے، اگرچہ اس تیل یا سرمہ کا ذائقہ حلق میں محسوس ہو، روزہ نہیں ٹوٹے گا۔
اس کے تحت رد المحتار میں ہے:
(قوله: و إن وجد طعمه في حلقه) أي طعم الكحل أو الدهن، كما في السراج، و كذا لو بزق فوجد لونه في الأصح، بحر، قال في النهر: لأن الموجود في حلقه أثر داخل من المسام الذي هو خلل البدن، و المفطر إنما هو الداخل من المنافذ
ترجمہ: (شارح کا قول: اگرچہ اس کا ذائقہ حلق میں محسوس ہو) یعنی سرمہ اورتیل کا، جیسا کہ سراج میں ہے، یونہی اگر اس نے تھوک میں اس کا رنگ پایا تو بھی اصح قول کے مطابق (روزہ نہیں ٹوٹے گا)، بحر۔ نہر میں فرمایا: کیونکہ حلق میں جو اس کا اثر موجود ہے، وہ بدن میں موجود مسام کے ذریعے داخل ہوا ہے، اور روزہ توڑنے والی چیز وہ ہے، جو منافذ کے ذریعے جسم میں داخل ہو۔ (رد المحتار علی الدر المختار، ج 3، ص 421، مطبوعہ کوئٹہ)
و اللہ اعلم عزوجل و رسولہ اعلم صلی اللہ تعالیٰ علیہ و آلہ و سلم
مجیب: مولانا اعظم عطاری مدنی
فتویٰ نمبر: WAT-4866
تاریخ اجراء: 10 شوال المکرم 1447ھ / 30 مارچ 2026ء