logo logo
AI Search

روزے اور حیض کی حالت میں ہمبستری کرنے کا حکم

بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

روزے کی حالت میں اور حیض کی حالت میں صحبت کرنے کا شرعی حکم

دارالافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی)

سوال

کیا فرماتے ہیں علمائے دین و مفتیان شرع متین اس مسئلہ کے بارے میں کہ اگر کوئی شخص اپنی بیوی سے حیض میں جماع کرتا ہو، دبر میں بھی جماع کرے اور اسی طرح جب عورت روزے کی حالت میں ہو، تب بھی اس سے ازدواجی تعلق قائم کرے، تو ایسے شخص کے بارے میں کیا حکم ہے؟

جواب

سوال میں ذکر کردہ تینوں امور حرام، حرام، اشد حرام اور کبیرہ گناہ ہیں، معاذ اللہ اگر کوئی شخص ان میں مبتلا ہو، تو سخت گناہ گار اور عذابِ الٰہی کا حقدار ہو گا، اس پر فرض ہے کہ اللہ عزوجل کی بارگاہ میں سچے دل سے توبہ کرے اور آئندہ ان امور سے باز رہے اور عورت پر بھی لازم ہے کہ حتی المقدور ان کے لئے اپنے اوپر قدرت نہ دے۔

پھر ان سے متعلق مزید بھی کچھ شرعی احکام ہیں، جن کی طرف توجہ ضروری ہے، ان کی تفصیل یہ ہے:

٭حیض کی حالت میں جماع کرنا درکنار، عورت کی ناف سے لیکر گھٹنوں کے نیچے تک کے حصہ بدن سے بلا کسی حائل کے کسی بھی قسم کی لذت حاصل کرنا بھی حرام ہے۔

٭فرض روزہ ہو یا نفل، رمضان کا ہو یا غیر رمضان کا، روزہ یاد ہونے کی حالت میں جماع کیا، تو روزہ ٹوٹ جائے گا اور اس کی قضا کرنی ہو گی اور بلا عذرِ شرعی روزہ توڑنا گناہ بھی ہے۔

٭رمضان کا ادا روزہ توڑا، تو کفارے کی  مخصوص شرائط پائی جائیں، تو قضا کے ساتھ کفارہ بھی لازم ہو گا۔

٭مرد نے عورت کو جماع پر مجبور کیا اور یہ جبر اکراہِ شرعی کی حد تک ہو (یعنی عمل نہ کرنے پر قتل یا عضو کاٹ ڈالنے یا ضربِ شدید کی صحیح دھمکی دی جائے اور عورت بھی سمجھے کہ اگر میں نے بات نہ مانی، تو جو کہتا ہے، کر گزرے گا)، تب تو عورت پر فقط قضا ہے، کفارہ لازم نہیں، ورنہ عورت پر بھی کفارہ لازم ہو گا۔

نوٹ: روزہ توڑنےکا کفارہ وہی ہے، جو ظہار کا کفارہ ہے کہ لگا تار ساٹھ روزے رکھے اور اگر اس پر قادر نہ ہو، تو ساٹھ مسکینوں کو دو وقت کا کھانا (یا اس کی رقم) دے۔

حیض کی حالت میں جماع کرنا حرام ہے۔ قرآن پاک میں ارشاد خداوندی ہے: ﴿وَ یَسْــٴَـلُوْنَكَ عَنِ الْمَحِیْضِؕ-قُلْ هُوَ اَذًىۙ-فَاعْتَزِلُوا النِّسَآءَ فِی الْمَحِیْضِۙ-وَ لَا تَقْرَبُوْهُنَّ حَتّٰى یَطْهُرْنَۚ- ﴾ ترجمہ کنزالایمان: اور تم سے پوچھتے ہیں حیض کا حکم، تم فرماؤ وہ ناپاکی ہے، تو عورتوں سے الگ رہو، حیض کے دنوں اور ان سے نزدیکی نہ کرو، جب تک پاک نہ ہولیں۔ (سورۃ البقرۃ، پارہ 2، آیت 222)

اس آیت کے تحت تفسیر صراط الجنان میں ہے: حیض کی حالت میں عورتوں سے ہم بستری کرنا حرام ہے۔ اور چونکہ یہ قرآن کی واضح آیت سے ثابت ہے لہٰذا ایسی حالت میں جماع جائز جاننا کفر ہے اور حرام سمجھ کر کر لیا تو سخت گنہگار ہوا اس پر توبہ فرض ہے۔ یونہی ناف سے لے کر گھٹنے کے نیچے تک کی جگہ سے لذت حاصل کرنا منع ہے۔ (تفسیر صراط الجنان، جلد 1، صفحہ 342، مکتبۃ المدینہ، کراچی)

فتاوی رضویہ میں ہے: کلیہ یہ ہے کہ حالتِ حیض و نفاس میں ز یر ناف سے زانو تک عورت کے بدن سے بلا کسی ایسے حائل کے جس کے سبب جسم عورت کی گرمی اس کے جسم کو نہ پہنچے تمتع جائز نہیں یہاں تک کہ اتنے ٹکڑے بدن پر شہوت سے نظر بھی جائز نہیں اور اتنے ٹکڑے کا چھُونا بلا شہوت بھی جائز نہیں۔ (فتاوی رضویہ، جلد 4، صفحہ 353، رضافاؤنڈیشن، لاہور)

عورت کے پچھلے مقام میں ہمبستری کرنے والے شخص پر لعنت کی گئی ہے۔ چنانچہ سنن ابی داؤد کی حدیث مبارک ہے: ’’عن أبی ھریرۃ، قال قال رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ملعون من أتی امرأتہ فی دبرھا‘‘ ترجمہ: حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے مروی ہے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ملعون ہے وہ جو اپنی عورت کے پچھلے مقام میں جماع کرے۔ (سنن ابی داؤد، کتاب النکاح، جلد2، صفحہ249، المکتبۃ العصریۃ، بیروت)

المعجم الکبیر للطبرانی کی حدیث پاک ہے: ’’عن خزيمة بن ثابت، أن رسول اللہ صلى اللہ عليه وسلم قال: إن اللہ لا يستحيي من الحق لا يحل لأحد أن يأتي النساء في أدبارهن‘‘ ترجمہ: حضرت خزیمہ بن ثابت رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: بیشک اللہ تعالی حق بیان کرنے سے حیا نہیں فرماتا، کسی کے لئے حلال نہیں کہ وہ عورتوں کے پچھلے مقام میں وطی کرے۔ (المعجم الکبیر للطبرانی، جلد4، صفحہ84، مطبوعہ قاهرة)

مراۃ المناجیح میں ہے: عورت کی دبر میں وطی کرنا تمام دینوں میں حرام ہے۔ اسلام میں حرامِ قطعی ہے کہ اس کا منکر کافر ہے (اور) اس کا مرتکب فاسق و فاجر۔ (مراۃ المناجیح، جلد5، صفحہ77، مکتبہ اسلامیہ)

ایک حدیث میں ان دونوں کی ممانعت بیان کی گئی ہے۔ چنانچہ جامع ترمذی میں ہے: ’’عن أبي هريرة، عن النبي صلى اللہ عليه وسلم قال: من أتى حائضا، أو امرأة في دبرها، أو كاهنا، فقد كفر بما أنزل على محمد‘‘ ترجمہ: حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ جو حائضہ عورت سے جماع کرے یا عورت کے پچھلے مقام میں جماع کرے یا کاہن کے پاس جائے تو اس نے اس کا انکار کیا جومحمد مصطفے صلی اللہ علیہ وسلم پر نازل کیا گیا۔ (جامع ترمذی، جلد 1، صفحہ 242، مطبوعہ مصر)

الاختیار لتعلیل المختار میں ہے: ’’ولا يحل له الاستمتاع بهافی الدبرولافی الفرج حالةالحيض‘‘ ترجمہ: اور مرد کے لئے اپنی عورت کے پچھلے مقام میں جماع کرنا حلال نہیں ہے اور حالتِ حیض میں فرج میں وطی کرنا بھی حلال نہیں ہے۔ (الاختیارلتعلیل المختار، جلد4، صفحہ155، مطبوعہ قاهرة)

روزہ رکھ کر توڑ دینا، حرام و گنا ہ ہےکہ یہ عمل باطل کرنا ہے، جس کی ممانعت قرآن کریم میں ہے۔ اللہ عزوجل ارشاد فرماتا ہے: ﴿یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْۤا اَطِیْعُوا اللّٰهَ وَ اَطِیْعُوا الرَّسُوْلَ وَلَا تُبْطِلُوْۤا اَعْمَالَكُمْ﴾ ترجمہ کنز الایمان: اے ایمان والو! اللہ کا حکم مانو اور رسول کا حکم مانو اور اپنے عمل باطل نہ کرو۔ (پارہ 26، سورۃ محمد، آیت 33)

رمضان کا ادا روزہ توڑ دیا، تو قضا کے ساتھ دیگر شرائط کی موجودگی میں کفارہ بھی لازم ہو گا۔ چنانچہ صحیح مسلم میں حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے: ’’أن رجلا وقع بامرأته في رمضان، فاستفتى رسول الله صلى الله عليه وسلم عن ذلك، فقال: «هل تجد رقبة؟» قال: لا، قال: وهل تستطيع صيام شهرين؟ قال: لا، قال: فأطعم ستين مسكينا‘‘ ترجمہ: ایک شخص نے رمضان میں اپنی بیوی سے جماع کیا، پھر اس کے بارے میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے پوچھا، تو آپ علیہ السلام نے ارشاد فرمایا: کیا تم غلام آزاد کر سکتے ہو؟ عرض کی: نہیں، فرمایا: کیا دو مہینوں کے روزے رکھ سکتے ہو؟ عرض کی: نہیں، فرمایا: ساٹھ مساکین کو کھانا کھلاؤ۔ (صحیح مسلم، کتاب الصیام، جلد 1، صفحہ 354، مطبوعہ کراچی)

تنویر الابصار و در مختار میں ہے: ”(إن جامع) المكلف آدميًّا مشتهى (في رمضان أداء)۔۔ ( أو جومع) و توارت الحشفة (في أحد السبيلين) أنزل أو لا۔۔۔ (قضی وکفر)“ ترجمہ: اگر مکلف مشتھی آدمی نے رمضان کے ادا روزے میں سبیلین میں سے کسی ایک میں جماع کیا یا اس کے ساتھ جماع کیا گیا اور حشفہ چھپ گیا  تو انزال ہوا ہو یا نہیں، روزے کی قضا کرے اور کفارہ دے۔ (ملتقطا از الدر المختار علی تنویر الابصار، جلد 3، صفحہ 442، 445، مطبوعہ کوئٹہ )

اکراہِ شرعی کی صورت میں کفارہ نہیں۔ فتاوی عالمگیری میں ہے: ’’من جامع عمدا في أحد السبيلين فعليه القضاء والكفارة،۔۔۔ وعلى المرأة مثل ما على الرجل إن كانت مطاوعة، وإن كانت مكرهة فعليها القضاء دون الكفارة‘‘ ترجمہ:  جو شخص قصداً (جان بوجھ کر) دو راستوں میں سے کسی ایک (یعنی قبل یا دبر) میں جماع کرے، تو اس پر قضا اور کفارہ دونوں لازم ہیں،۔۔۔اور عورت پر بھی وہی لازم ہوگا، جو مرد پر لازم ہے، اگر وہ رضامند ہو اور اگر وہ مجبور ہو، تو اس پر صرف قضا لازم ہوگی، کفارہ لازم نہیں ہوگا۔ (الفتاوی الھندیۃ، النوع الثاني ما يوجب القضاء والكفارة، جلد 01، صفحہ 205، دارالفکر، بیروت)

بہار شریعت میں ہے: مجبوری سے مراد اکراہِ شرعی ہے، جس میں قتل یا عضو کاٹ ڈالنے یا ضربِ شدید کی صحیح دھمکی دی جائے اور روزہ دار بھی سمجھے کہ اگر میں اس کا کہا نہ مانوں گا، تو جو کہتا ہے، کر گزرے گا۔ (بھارشریعت، حصہ 5، صفحہ 992، مکتبۃ المدینہ، کراچی)

ادائے رمضان کے علاوہ کوئی روزہ توڑا، تو بھی فقط قضا لازم ہے۔ بہار شریعت میں ہے: ادائے رمضان کے علاوہ اور کوئی روزہ فاسد کر دیا، اگرچہ وہ رمضان ہی کی قضا ہو۔۔۔ان سب صورتوں میں صرف قضا لازم ہے، کفارہ نہیں۔ (بھار شریعت، حصہ 5، جلد 1، صفحہ 989، مکتبۃ المدینہ، کراچی)

وَ اللہُ اَعْلَمُ عَزَّ وَ جَلَّ وَ رَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَ اٰلِہٖ وَ سَلَّم

مجیب: مولانا محمد علی عطاری مدنی
فتویٰ نمبر: Pin-7736
تاریخ اجراء:28 رمضان المبارک 1447ھ/18 مارچ 2026 ء