روزے میں دانتوں پر تیل والی روئی رکھنے کا حکم
بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ
روزے کی حالت میں تیل والی روئی کو دانتوں پر رکھنے کا حکم ؟
دارالافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی)
سوال
کیا فرماتے ہیں علمائے دین و مفتیان شرع متین اس مسئلے کے بارے میں کہ ایک شخص کا روزہ تھا، مگر درد کی وجہ سے اس نے دانت میں سرسوں کے تیل والی روئی رکھ لی۔ کچھ دیر بعد اسے اس تیل کا ذائقہ حلق میں محسوس ہوا۔ اس صورت میں اس کا روزہ باقی ہے یا جاتا رہا؟ سائل: عبد القدیر عطاری (جوہر ٹاؤن، لاہور)
جواب
سوال میں بیان کی گئی صورت میں جب کہ اس شخص نے حلق میں تیل کا ذائقہ محسوس کیا ہے تو اس سے اس کا روزہ ٹوٹ گیا؛ کیونکہ شریعت مطہرہ کا اصول ہے کہ جسم کے کسی منفذ جیسے منہ کے ذریعے کسی دوا یا غذا کا معدہ یا دماغ میں پہنچنا روزہ توڑ دیتا ہے، نیز حلق میں پہنچنے سے معدے میں پہنچنا لازم آتا ہے؛ لہذا اس سے روزہ ٹوٹنا لازم آیا۔
در مختار میں ہے: ”(و) كره (مضغ علك) أبيض ممضوغ ملتئم، وإلا فيفطر.“ ترجمہ: ایسی گوند کا چبانا روزے دار کے لئے مکروہ ہے کہ جو سفید، چبائی ہوئی اور اجزا ملی ہوئی ہو۔ لیکن اگر رنگ دار، بغیر چبائی یا منتشر اجزا والی ہو گی تو وہ روزہ توڑ دے گی۔ (الدر المختار مع رد المحتار، جلد 3، صفحہ 454، دار المعرفۃ بیروت)
اس کے تحت رد المحتار میں ہے: ”(قوله أبيض إلخ) قيده بذلك؛ لأن الأسود وغير الممضوغ وغير الملتئم، يصل منه شيء إلى الجوف، وأطلق محمد المسألة وحملها الكمال تبعا للمتأخرين على ذلك، قال: للقطع بأنه معلل بعدم الوصول، فإن كان مما يصل عادة حكم بالفساد؛ لأنه كالمتيقن.“
ترجمہ: شارح رحمۃ اللہ علیہ نے گوند چبانے کے مکروہ ہونے میں اس گوند کے سفید، چبائی اور اجزا ملی ہونے کی قید اس وجہ سے لگائی ہے کیونکہ کالی، بغیر چبائی ہوئی اور منتشر اجزا والی گوند اگر چبائی جائے تو اس صورت میں اس میں سے کچھ نہ کچھ معدے میں پہنچ جائے گی (جو خالی مکروہ نہیں بلکہ روزہ ہی توڑنے والی ہو گی)۔ امام محمد نے مکروہ ہونے کا مسئلہ مطلقا ذکر کیا، مگر امام کمال بن ہمام رحمۃ اللہ علیہ نے متاخرین کی اتباع میں اسے اس چبائی ہوئی ہونے پر ہی محمول کیا۔ کہا کہ یہ کراہت قطعی طور پر معدے تک نہ پہنچنے کی علت کے ساتھ ہی ہے۔ کیونکہ اگر یہ وہ گوند ہو کہ جسے چبانے سے عادتاً معدے تک پہنچتی ہو تو روزہ ٹوٹنے کا حکم کیا جائے گا، کیونکہ اس صورت میں یہ یقینی بات کی طرح ہے۔ (رد المحتار، جلد 3، صفحہ 454، دار المعرفۃ، بیروت)
قاضی خان اور مبسوط سرخسی میں ہے، واللفظ للآخر: ”فأما السعوط والوجور يفطره لوصوله إلى أحد الجوفين إما الدماغ أو الجوف․“ ترجمہ: بہرحال نسوار لگانا اورحلق میں دوا ڈالنا روزہ توڑدیتا ہے، کیونکہ ان دونوں کے اجزاء دو اندرونی حصوں (یعنی دماغ یا پیٹ)میں سے کسی ایک تک پہنچتے ہیں۔ (المبسوط للسرخسی، جلد3، صفحہ67، دارالمعرفۃ، بیروت)
ایک سوال کا جواب دیتے ہوئے امام اہلسنت، اعلی حضرت، امام احمد رضا رحمۃ اللہ علیہ (سال وفات: 1340ھ/1921ء) فرماتے ہیں: ”اگر پان کھالیا تھا مُنہ میں صرف چند دانے چھالیا کے دانتوں میں لگے رہ گئے تو روزہ صحیح ہوجائے گا، اور اگر صبح کے بعد بھی ایسا اُگال کثیر مُنہ میں تھا جس کا جرم خواہ عرق لعاب کے ساتھ حلق میں جانا مظنون ہے تو روزہ نہ ہوگا۔“ (فتاوی رضویہ، جلد 10، صفحہ 485، رضا فاؤنڈیشن، لاھور)
صدر الشریعہ مفتی محمد امجد علی اعظمی رَحْمَۃُ اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ (سالِ وفات: 1367ھ/1947ء) لکھتے ہیں: ”پان یا صرف تمباکو کھانے سے بھی روزہ جاتا رہے گا، اگرچہ پیک تھوک دی ہو کہ اس کے باریک اجزا ضرور حلق میں پہنچتے ہیں۔“ (بھارِ شریعت، جلد 1، حصہ 5، صفحہ 986، مکتبۃ المدینہ)
وَ اللہُ اَعْلَمُ عَزَّ وَ جَلَّ وَ رَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَ اٰلِہٖ وَ سَلَّم
مجیب: ابو الرجاء محمد نور المصطفی العطاری المدنی
مصدق: مفتی ابوالحسن محمد ہاشم خان عطاری
فتویٰ نمبر: JTL-2705
تاریخ اجراء: 14 رمضان المبارک 1447 ھ/ 04 مارچ 2026 ء