logo logo
AI Search

روزے کے بغیر سنت اعتکاف کرنا کیسا؟

بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

سنت اعتکاف بلا روزہ ادا نہیں ہوتا

دار الافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی)

سوال

کیا فرماتے ہیں علمائے دین و مفتیان شرع متین اس مسئلہ کے بارے میں کہ جو شخص کسی عذر کی وجہ سے روزہ نہیں رکھ سکتا، بغیر روزہ رکھے اس کے اعتکاف میں بیٹھنے سے رمضان کے آخری عشرے کا سنت اعتکاف ادا ہوجائے گا یا نہیں؟

جواب

رمضان شریف کے آخری دس دنوں کا اعتکاف سنت مؤکدہ کفایہ ہے کہ پورے علاقے میں کسی نے نہیں کیا تو سب سنت مؤکدہ چھوڑنے والے اور اساءت کے مرتکب ہوں گے اور اگر ایک شخص نے بھی کرلیا تو سب بری الذمہ ہوجائیں گے اور اس اعتکاف کے درست ہونے کے لیے روزہ شرط ہے لہٰذا جو شخص روزہ نہیں رکھ سکتا، اس کے بیٹھنے سے سنت اعتکاف ادا نہیں ہوگا۔

نوٹ: اعتکاف کی تین قسمیں ہیں۔ (1) واجب یعنی منت کا اعتکاف۔ (2) سنت مؤکدہ کفایہ یعنی رمضان کے آخری دس دنوں کا اعتکاف۔ ان دونوں کے لیے روزہ شرط ہے۔ (3) نفل اعتکاف کہ جو ان دو کے علاوہ ہو، اس میں روزہ شرط نہیں اور اس میں وقت کی بھی کوئی قید نہیں لہٰذا جو کسی عذر کی وجہ سے روزہ نہیں رکھ سکتے لیکن مسجد کے آداب کا لحاظ رکھتے ہوئے اعتکاف کرسکتے ہیں تو انہیں چاہیے کہ جتنا وقت میسر ہو مسجد میں نفل اعتکاف کی نیت سے بیٹھ جائیں کہ یہ بھی ایک عمدہ نیکی ہے۔

وَ اللہُ اَعْلَمُ عَزَّوَجَلَّ وَ رَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَ اٰلِہٖ وَ سَلَّم

مجیب: مفتی فضیل رضا عطاری
تاریخ اجراء: ماہنامہ فیضانِ مدینہ فروری 2026ء