استری کی بھاپ حلق میں جانے سے روزہ کا حکم
بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ
کپڑے استری کرتے ہوئے بھاپ سانس کے ذریعے حلق تک پہنچی تو روزے کا حکم
دارالافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی)
سوال
کیا فرماتے ہیں علمائے دین و مفتیان شرع متین اس مسئلے کے بارے میں کہ میں درزی ہوں، روزے کی حالت میں جب میں کپڑوں پر بَکرم (فیوزنگ) چپکاتا ہوں، تو بعض اوقات کپڑے کے کم معیار کی وجہ سے بدبو پیدا ہوتی ہے، اور جب بکرم پر پانی چھڑک کر استری کی جاتی ہے، تو اس سے بھاپ اٹھتی ہے، جو سانس کے ذریعے حلق تک پہنچ جاتی ہے، تو اس صورت میں روزے کا کیا حکم ہے؟ اسی طرح بیت الخلاء یا راستے میں چلتے ہوئے بعض اوقات بدبو سانس کے ذریعے حلق تک پہنچ جاتی ہے، تو کیا اس سے روزہ متاثر ہوتا ہے؟
جواب
محض خوشبو سونگھنے یا بدبو کے حلق میں اتر جانے سے روزہ نہیں ٹوٹتا، اسی طرح بھاپ یا دھواں اگر خود بخود حلق میں چلا جائے، تو روزہ نہیں ٹوٹتا، لیکن اگر کوئی قصداً دھویں کے سامنے منہ کر کے اسے اندر کی طرف کھینچے، اور اسے اپنا روزہ دار ہونا یاد ہو، تو اس سے روزہ ٹوٹ جائے گا۔ لہذا بیان کردہ صورت میں راستے یا بیت الخلا کی بدبو سانس کے ذریعے حلق میں چلی گئی، تو روزہ نہیں ٹوٹے گا، اسی طرح استری کا دھواں اگر خود بخود ناک میں چلا گیا، تو اس سے روزے پر کوئی فرق نہیں پڑا، اور اگر قصداً دھویں کے سامنے منہ کر کے اسے اندر کی طرف کھینچا، اور اپنا روزہ دار ہونا یاد تھا، تو روزہ ٹوٹ جائے گا۔
علامہ حسن بن عمار شرنبلالی رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ تحریر فرماتے ہیں:
"و في فتح القدير: الدخان والغبار إذا دخل الحلق لا يفسد فإنه لا يستطاع الاحتراز عن دخولهما من الأنف إذا طبق الفم اهـ.قلت فعلى هذا إذاأدخل الدخان حلقه فسد صومه أي دخان كان حتى إن من تبخر ببخور فآواه إلى نفسه واشتم دخانه فأدخله حلقه ذاكرا لصومه أفطر، سواء كان عودا أو عنبرا أو غيرهما لإمكان التحرز عن إدخال المفطر جوفه، وهذا مما يغفل عنه كثير فليتنبه له. ولا يتوهم أنه كشم الورد ومائه والمسك لوضوح الفرق بين هواء تطيب بريح المسك وشبهه وبين جوهر دخان وصل إلى جوفه بفعله"
ترجمہ: فتح القدیر میں ہے کہ اگر دھواں اور غبار خود بخود حلق میں داخل ہو جائے، تو روزہ فاسد نہیں ہوتا؛ کیونکہ جب منہ بند ہو، تو بھی ناک کے راستے ان کے داخل ہو جانے سے بچنا ممکن نہیں۔ میں نے کہا: پس اس کے مطابق اگر کسی نے (خود) دھواں حلق میں داخل کیا تو روزہ ٹوٹ جائے گا، چاہے وہ کسی بھی قسم کا دھواں ہو، حتی کہ اگر کسی نے بخور سلگائی پھر اسے اپنے قریب کیا اور اس کے دھویں کو سونگھا، پس اسے اپنے حلق میں داخل کیا، حالانکہ اسے اپنا روزہ دار ہونا یاد تھا، تو اس کا روزہ ٹوٹ جائے گا، برابر ہے کہ وہ دھواں عود، عنبر یا ان کے علاوہ کسی شے کا ہو، کیونکہ روزہ توڑنے والی چیز کو جوف میں داخل کرنے سے بچنا ممکن ہے، یہ مسئلہ ان مسائل میں سے ہے جس سے بہت سے لوگ غفلت برتتے ہیں، پس اس پر متنبہ رہنا چاہیے۔ اور یہ خیال نہ کیا جائے کہ یہ گلاب، عرق گلاب یا مشک کی خوشبو سونگھنے کی طرح ہے؛ کیونکہ مشک اور اس جیسی چیزکی خوشبو سے مہکتی ہوا اور دھویں کا وہ جوہر جسے اپنے فعل سے اپنے جوف میں پہنچایا جائے، ان دونوں کے مابین فرق واضح ہے۔ (غنیة ذوي الأحکام علی درر الحکام، جلد 1، صفحہ 202، دار إحياء الكتب العربية)
امام اہلسنت، امام احمد رضا خان رحمۃ اللہ تعالی علیہ فرماتے ہیں: ”روزہ دار خوشبُو سُونگھ سکتا ہے، سُونگھنے سے جس کے اجزاء دماغ میں نہ چڑھیں بہ خلاف اگر لوبان کے دُھوئیں کے کہ اسے سونگھ کر دماغ کو چڑ ھ جائے گا تو روزہ جاتا رہے گا۔" (فتاوی رضویہ، جلد 10، صفحہ 511، رضا فاؤنڈیشن، لاہور)
مزید ایک مقام پر فرماتے ہیں: ”متون و شروح و فتاوی عامہ کتب مذہب میں جن پر مدارِ مذہب ہے علی الاطلاق تصریحات روشن ہیں کہ دُھواں یا غبار حلق یا دماغ میں آپ چلا جائے کہ روزہ دار نے بالقصد اسے داخل نہ کیا ہو تو روزہ نہ جائے گا اگرچہ اس وقت روزہ ہونا یاد تھا۔۔۔ ہاں اگر صائم اپنے قصد و ارادہ سے اگر یا لوبان خواہ کسی شے کادُھواں یاغبار اپنے حلق یا دماغ میں عمداً بے حالت نسیان صوم داخل کرے، مثلا بخور سلگائے اور اسے اپنے جسم سے متصل کرکے دُھواں سُونگھے کہ دماغ یاحلق میں جائے تو اس صورت میں روزہ فاسد ہوگا۔۔۔ بالجملہ مسئلہ غبار و دخان میں دخول بلا قصد و ادخال بالقصد پر مدارِ کار ہے۔ اول اصلاً مفسد صوم نہیں اورثانی ضرور مفطر۔ " (فتاوٰی رضویہ، ج 10، ص 490، 492، 494، رضا فاؤنڈیشن، لاہور)
وَ اللہُ اَعْلَمُ عَزَّ وَ جَلَّ وَ رَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَ اٰلِہٖ وَ سَلَّم
مجیب: مفتی محمد حسان عطاری
فتویٰ نمبر: WAT-4874
تاریخ اجراء:14 شوال المکرم1447ھ/03 اپریل 2026ء