ایک رمضان کے ایک سے زائد روزوں کا کفارہ
بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ
ایک رمضان کے ایک سے زائد روزے توڑنے پر کفارے کا حکم
دارالافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی)
سوال
ایک مسئلہ میں شرعی رہنمائی مطلوب ہے کہ: میں نے یہ مسئلہ پڑھا ہے کہ: "اگر دو روزے توڑے تو دونوں کیلئے دو کفارے دے اگرچہ پہلے کا ابھی کفارہ ادا نہ کیا تھا جبکہ دونوں دو رمضان کے ہوں اور اگر دونوں روزے ایک رمضان کے ہوں اور پہلے کا کفارہ نہ ادا کیا ہو تو ایک ہی کفارہ دونوں کے لئے کافی ہے"۔ سوال یہ ہے کہ ایک رمضان میں اگر دو سے زیادہ روزے توڑے ہوں، تو ایک کفارہ دینا ہوتا ہے، یا الگ الگ سب روزوں کا دینا ہوتا ہے ، یا صرف دو روزوں کا ایک کفارہ دینا ہوتا ہے ؟
جواب
اگر ایک رمضان کے دو سے زائد روزے توڑے، جس کی وجہ سے کفارہ لازم آیا، تو بھی ان سب کی بنا پر، ایک ہی کفارہ لازم آئے گا، یعنی جو حکم ایک یا دو روزوں کے توڑنے کا ہے، وہی حکم دو سے زائد روزوں کے توڑنے پر ہے، کہ ایک ہی کفارہ لازم ہوگا، جبکہ پہلے روزوں کا کفارہ ابھی تک ادا نہ کیا ہو۔ بدائع الصنائع میں ہے
"ولو جامع في رمضان متعمدًا مرارًا بأن جامع في يوم ثم جامع في اليوم الثاني ثم في الثالث ولم يكفر فعليه لجميع ذلك كله كفارة واحدة عندنا"
ترجمہ: اگر کسی شخص نے رمضان میں جان بوجھ کر بار بار جماع کیا، اس طرح کہ ایک دن جماع کیا، پھر دوسرے دن کیا، پھر تیسرے دن کیا، اور اس نے ابھی تک پہلے کاکفارہ ادا نہیں کیا، تو ہمارے نزدیک ان سب کے لیے ایک ہی کفارہ لازم ہوگا۔ (بدائع الصنائع، جلد 2، صفحہ 259، مطبوعہ: کوئٹہ)
وَ اللہُ اَعْلَمُ عَزَّ وَ جَلَّ وَ رَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَ اٰلِہٖ وَ سَلَّم
مجیب: مولانا محمد آصف عطاری مدنی
فتویٰ نمبر: WAT-4876
تاریخ اجراء:14 شوال المکرم 1447ھ/03 اپریل 2026ء