روزے کی حالت میں گٹھنوں کے درد کا تیل لگانا کیسا؟
بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ
روزے کی حالت میں گھٹنوں کے درد کا تیل لگانا
دارالافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی)
سوال
روزے کی حالت میں ویسے تو تیل یا خوشبو لگا سکتے ہیں، لیکن جیسے گھٹنوں کے درد کا یا کسی اور درد کا جو تیل ہوتا ہے، اس کی تاثیر حلق کے اندر محسوس ہوتی ہے، اور آنکھوں میں بھی جلن ہونے لگتی ہے، کیونکہ وہ کافی زیادہ پھیلتا ہے، تو کیا اس سے روزہ ٹوٹ جاتا ہے؟
جواب
روزے کی حالت میں گھٹنوں کے درد والا، یا کوئی بھی تیل بدن پر لگانا، جائز ہے، اور اس سے روزہ نہیں ٹوٹتا، اگرچہ اس کی ٹھنڈک یا اثر، حلق میں محسوس ہو، یا اس سے آنکھوں میں جلن ہو۔
در مختار میں ہے
ادھن او اکتحل او احتجم وان وجد طعمہ فی حلقہ۔۔۔ لم یفطر
ترجمہ: تیل یا سرمہ لگایا، یا پچھنے لگوائے اگرچہ اس کا ذائقہ حلق میں محسوس ہو، روزہ نہیں ٹوٹے گا۔ (در مختار مع رد المحتار، جلد 3، صفحہ 421، مطبوعہ کوئٹہ)
بہار شریعت میں ہے بھری سنگی لگوائی یا تیل یا سرمہ لگایا تو روزہ نہ گیا اگرچہ تیل یا سرمہ کا مزہ حلق میں محسوس ہوتا ہو۔ ( بہار شریعت، جلد 1، حصہ 5، صفحہ 982، مکتبۃ المدینہ، کراچی)
و اللہ اعلم عزوجل و رسولہ اعلم صلی اللہ تعالیٰ علیہ و آلہ و سلم
مجیب: مولانا محمد آصف عطاری مدنی
فتویٰ نمبر: WAT-4867
تاریخ اجراء: 10 شوال المکرم 1447ھ / 30 مارچ 2026ء