logo logo
AI Search

محرم الحرام کے روزوں کی کیا فضیلت ہے؟

بسم اللہ الرحمن الرحیم

محرم الحرام میں روزے رکھنے کی فضیلت

دار الافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی)

سوال

محرم کے مہینے میں روزے رکھنے کی فضیلت کیا ہے؟

جواب

رمضان کے بعدسب سے زیادہ فضیلت والے روزے ماہ محرم الحرام کے ہیں، احادیث مبارکہ کی روشنی میں محرم کے ہر دن کا روزہ ایک ماہ کے روزوں کے برابر ہے، اور بالخصوص دس محرم کا روزہ ایک سال پہلے کے گناہوں کا کفارہ قرار دیا گیا ہے۔

صحیح مسلم کی حدیث پاک ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ والہ وسلم نے ارشاد فرمایا: أفضل الصيام بعد رمضان شهر الله المحرم" ترجمہ: رمضان کے بعد سب سے افضل روزوں والامہینہ، اللہ کا مہینہ،محرم ہے۔ (صحیح مسلم، ص 424، حدیث: 1163، مطبوعہ: بیروت)

ایک حدیث پاک میں حضور نبی رحمت صلی اللہ تعالیٰ علیہ و الہ و سلم نے ارشاد فرمایا: و من صام يومامن المحرم فله بكل يوم ثلاثون يوما" ترجمہ:جس نےمحرم الحرام کے کسی ایک دن کا روزہ رکھا، تو اس کے لیے ہردن کے بدلے تیس دن (ایک ماہ کے روزوں کے برابر اجر)ہیں۔ (المعجم الصغیرللطبرانی، ج 2، ص 164، حدیث 963، مطبوعہ: بيروت)

صحیح بخاری شریف میں ہے"عن ابن عباس رضي اللہ عنهما: أن النبي صلی اللہ علیہ وسلم لما قدم المدينةوجدهم يصومون يوما يعني: عاشوراء، فقالوا: هذا يوم عظيم؛ و هو يوم نجى الله فيه موسى، و أغرق آل فرعون، فصام موسى شكرا لله، فقال: أنا أولى بموسى منهم فصامه، و أمر بصيامه" ترجمہ: حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالی عنہما سے روایت ہے کہ جب نبی کریم صلی اللہ تعالی علیہ و آلہ و سلم مدینہ تشریف لائے، تو آپ علیہ الصلوۃ والسلام نے یہود کو ایک دن یعنی عاشوراکا روزہ رکھتے ہوئے پایا، تو انہوں نے کہا: یہ بہت عظمت والا دن ہے، یہ وہ دن ہے، جس میں اللہ تعالیٰ نے موسیٰ علیہ الصلوۃ و السلام کو نجات دی، اور آلِ فرعون کو غرق کر دیا،تو موسیٰ علیہ الصلوۃ و السلام نے اللہ تعالی کا شکر ادا کرنے کے لیے اس دن روزہ رکھا، اس پر نبی پاک صلی اللہ تعالی علیہ و آلہ و سلم نے فرمایا: ہم موسیٰ علیہ الصلوۃ و السلام کے، ان کے مقابلے میں، زیادہ حق دار ہیں، پس آپ صلی اللہ تعالی علیہ و آلہ و سلم نے خود بھی اس دن روزہ رکھا اور اس کے روزے کا حکم بھی دیا۔ (صحیح بخاری، صفحہ 623، رقم الحدیث 3397،دار الکتب العلمیۃ، بیروت)

صحیح مسلم میں حضرت ابو قتادہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: و صيام يوم عاشوراء أحتسب على اللہ أن يكفر السنة التي قبله" ترجمہ: اور میں اللہ تعالی سے امید رکھتا ہوں کہ عاشورا کے دن کا روزہ پچھلے ایک سال کے گناہوں کا کفارہ بن جائے گا۔ (صحیح مسلم، صفحہ 422، رقم الحدیث 1162، دار الکتب العلمیۃ، بیروت)

وَ اللہُ اَعْلَمُ عَزَّ وَ جَلَّ وَ رَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَ اٰلِہٖ وَ سَلَّم

مجیب: مولانا اعظم عطاری مدنی
فتوی نمبر: WAT-5160
تاریخ اجراء: 22 محرم الحرام 1448ھ / 08 جولائی 2026ء