عاشورا جمعہ کو ہو تو روزہ رکھنا کیسا؟
بسم اللہ الرحمن الرحیم
دس محرم الحرام جمعہ کے دن ہو، تو اس دن روزہ رکھنے کا حکم
دار الافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی)
سوال
اگر 10 محرم الحرام جمعہ کا دن ہو، تو کیا اس دن روزہ رکھ سکتے ہیں؟
جواب
جی ہاں! اگر 10 محرم الحرام جمعہ کے دن ہو تو اس دن بھی روزہ رکھ سکتے ہیں، اور یہ بہت ثواب کا کام ہے۔ اور اگر یہ اشکال ہو کہ تنہا جمعہ کے دن روزہ رکھنا مکروہ ہے، تو اس کا جواب یہ ہے کہ:
اول تو تنہا جمعہ کا روزہ رکھنے کی جو کراہت ہے، وہ اس صورت میں ہے جبکہ جمعہ کی خصوصیت کی وجہ سے روزہ رکھا جائے، جبکہ یہاں جمعہ کی خصوصیت کی وجہ سے روزہ نہیں رکھا جارہا، بلکہ عاشوراکی خصوصیت کی وجہ سے رکھا جا رہا ہے۔
اور ثانیا: عاشورا، جمعہ کے دن ہویانہ ہو، بہرصورت، تنہا عاشورا کا روزہ رکھنا بھی مکروہ ہے، کہ اس میں یہودیوں کے ساتھ مشابہت ہے، لہذا عاشورا کے ساتھ ایک دن پہلے (9 محرم) یا ایک دن بعد (11 محرم) کا روزہ بھی رکھنا چاہیے، چلہذاجب عاشورا کے ساتھ ایک دن پہلے یا بعد کا روزہ رکھا جائے گا، تو اب نہ تنہا عاشورا کے دن روزہ رکھنا پایا جائے گا، اور نہ تنہا جمعہ کے دن روزہ رکھنا پایا جائے گا۔
صحیح مسلم میں حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم نے ارشاد فرمایا: لا يصوم أحدكم يوم الجمعة إلا أن یصوم قبله أو یصوم بعده" تم میں سے کوئی (تنہا) یوم جمعہ کا روز ہ نہ رکھے، مگر یہ کہ اس سےپہلےیااس کے بعد (کے دن کابھی ساتھ ملا کے) روزہ رکھے۔ (صحیح مسلم، صفحہ 413، رقم الحدیث 1144، دار الکتب العلمیۃ، بیروت)
حاشيۃ الطحطاوی علی المراقی میں ہے "و كره إفراد يوم الجمعة إلا أن يضم إليه يوما قبله أو بعده كما في الحديث" ترجمہ: تنہا جمعہ کا روزہ رکھنا مکروہ ہے، مگر یہ کہ اس سے پہلے یا بعد میں ایک دن کے روزے کو ساتھ ملا لیا جائے جیسا کہ حدیث مبارک میں ہے۔ (حاشيۃ الطحطاوی علی المراقی، صفحہ 640، مطبوعہ: کوئٹہ)
فتاوی رضویہ میں ہے جمعہ کا روزہ خاص اس نیت سے کہ آج جمعہ ہے اس کا روزہ بالتخصیص چاہئے، مکروہ ہے، مگر نہ وہ کراہت کہ توڑنا لازم ہُوا، اور اگر خاص بہ نیتِ تخصیص نہ تھی، تو اصلاً کراہت بھی نہیں۔ (فتاوی رضویہ، جلد 10، صفحہ 559، رضا فاؤنڈیشن، لاہور)
مسند احمد میں روایت ہےکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا:صوموا یوم عاشوراء، و خالفوا فیہ الیہود، صوموا قبلہ یوما، أو بعدہ یوما" ترجمہ: عاشوراء کے دن کا روزہ رکھو، اور اس میں یہود کی مخالفت کرو، اس سے ایک دن پہلے یا ایک دن بعد کا روزہ بھی رکھو۔(مسند احمد، جلد 4، صفحہ 52، مؤسسۃ الرسالۃ، بيروت)
دلیل الفالحین میں اس حدیث پاک کے تحت لکھا ہے: و المكفر صغائر الذنوب المتعلقة بحق اللہ" ترجمہ: اور (اس روزے سے) وہ صغیرہ گناہ معاف ہوتے ہیں جوحقوق اللہ سے متعلق ہوں۔ (دلیل الفالحین لطرق ریاض الصالحین، ج 07، ص 59،دار المعرفۃ، بیروت)
در مختار میں ہے "و المكروه۔ ۔ ۔ تنزيهاكعاشوراء وحده و سبت وحدہ" ترجمہ: تنہا عاشورہ اور تنہا ہفتے کا روزہ رکھنا مکروہ تنزیہی ہے۔
اس کے تحت رد المحتارمیں ہے: (قولہ: و عاشوراء وحده) أي مفردا عن التاسع أو عن الحادي عشر إمداد؛ لأنه تشبه باليهود۔ محیط۔ قولہ: (وسبت وحدہ) للتشبہ بالیہود ۔ ۔ ۔ صرح في التاترخانية فقال و يكره صوم النيروز و المهرجان إذا تعمده و لم يوافق يوما كان يصومه قبل ذلك وهكذا قيل في يوم السبت و الأحد. اهـ. أي يكره تعمد صومه إلا إذا وافق يوما كان يصومه قبل؛ كما لو كان يصوم يوما ويفطر يوما أو كان يصوم أول الشهر مثلا فوافق يوما من هذه الأيام و أفاد قوله وحده أنه لو صام معه يوما آخر فلا كراهة؛ لأن الكراهة في تخصيصه بالصوم للتشبه و هل إذا صام السبت مع الأحد تزول الكراهة؟ محل تردد؛ لأنه قد يقال: إن كل يوم منهما معظم عند طائفة من أهل الكتاب ففي صوم كل واحد منهما تشبه بطائفة منهم. و قد يقال: إن صومهما معا ليس فيه تشبه؛ لأنه لم تتفق طائفة منهم على تعظيمهما معا و يظهر لي الثاني بدليل أنه لو صام الأحد مع الاثنين تزول الكراهة؛ لأنه لم يعظم أحد منهم هذين اليومين معا و إن عظمت النصارى الأحد وكذا لو صام مع عاشوراء يوما قبله أو بعده مع أن اليهود تعظمه. و يظهر من هذا أنه لو جاء عاشوراء يوم الأحد أو الجمعة لا يكره صوم السبت معه و كذا لو كان قبله أو بعده يوم المهرجان أو النيروز لعدم تعمد صومه بخصوصه و اللہ تعالى أعلم
ترجمہ: اور تنہا عاشورا کاروزہ (مکروہ تنزیہی ہے) یعنی بغیر نو یا گیارہ کا ساتھ ملائے؛ کیونکہ یہ یہودیوں کے ساتھ مشابہت اختیار کرنا ہے۔ اور تنہا ہفتے کاروزہ (مکروہ تنزیہی ہے) یہودیوں کی مشابہت کی وجہ سے۔ تاترخانیہ میں صراحت کی ہے کہ: نوروز اور مہرگان کے دن روزہ رکھنا اس وقت مکروہ ہے جب آدمی خاص اسی دن کا قصد کرے اور وہ دن کسی ایسے دن کے موافق نہ ہو جس کا روزہ وہ پہلے سے رکھا کرتا تھا، اور اسی طرح ہفتےاور اتوار کے دن کے بارے میں بھی کہا گیا ہے، یعنی خاص اس دن کے روزے کا قصد کرنا مکروہ ہے، مگر یہ کہ وہ دن کسی ایسے دن کے موافق آ جائے، جس کا روزہ وہ پہلے سے رکھا کرتا تھا؛ جیسے وہ ایک دن روزہ رکھتا اور ایک دن افطار کرتا ہو، یا مثلاً ہر مہینے کے شروع کا روزہ رکھا کرتا ہو، پھر وہ دن ان دنوں میں سے کسی دن کے موافق آ جائے۔ اور مصنف کے لفظ "وحده" (تنہا) سے یہ فائدہ حاصل ہوتا ہے کہ اگر اس کے ساتھ ایک اور دن بھی روزہ رکھ لے تو کراہت نہیں ہوگی؛ کیونکہ کراہت اس دن کو روزے کے ساتھ خاص کرنے میں ہے، مشابہت کی وجہ سے۔ اور سوال پیداہوتاہے کہ کیا جب اتوار کے ساتھ ہفتے کا روزہ بھی رکھ لے، تو کراہت ختم ہو جائے گی؟ یہ محلِ تردد ہے؛ کیونکہ کہا جا سکتا ہے کہ ان دونوں میں سے ہر دن اہلِ کتاب کے کسی نہ کسی گروہ کے نزدیک معظم ہے، اس لیے ہر ایک دن کا روزہ رکھنے میں ان کے کسی گروہ کے ساتھ مشابہت پائی جائے گی، اور یہ بھی کہا جا سکتا ہے کہ دونوں دنوں کا اکٹھا روزہ رکھنے میں مشابہت نہیں، کیونکہ اہلِ کتاب کا کوئی گروہ دونوں دنوں کو اکٹھا معظم ماننے پر متفق نہیں۔ اور میرے نزدیک دوسرا قول ظاہر ہے، اس دلیل کی بنا پر کہ اگر پیر کے ساتھ اتوار کا روزہ رکھ لے تو کراہت ختم ہو جاتی ہے؛ کیونکہ ان میں سے کسی نے ان دونوں دنوں کو اکٹھا معظم نہیں مانا، اگرچہ نصاریٰ اتوار کو معظم مانتے ہیں،اسی طرح اگر عاشورا کے ساتھ اس سے ایک دن پہلے، یا ایک دن بعد روزہ رکھ لے، تو بھی کراہت ختم ہو جاتی ہے، حالانکہ یہود عاشورا کو معظم مانتے ہیں۔ اور اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ اگر عاشورا، اتوار یا جمعہ کے دن آ جائے، تو اس کے ساتھ ہفتے کا روزہ رکھنا مکروہ نہیں ہوگا، اسی طرح اگر عاشورا سے پہلے یا بعد مہرگان یا نوروز کا دن آ جائے، تو بھی مکروہ نہیں ہوگا، کیونکہ اس دن کو خاص طور پر روزہ کے لیے قصداً متعین نہیں کیا گیا ۔ (ردالمحتار علی الدر المختار، جلد 3، صفحہ 391، مطبوعہ: کوئٹہ)
وَ اللہُ اَعْلَمُ عَزَّ وَ جَلَّ وَ رَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَ اٰلِہٖ وَ سَلَّم
مجیب: مولانا محمد شفیق عطاری مدنی
فتوی نمبر: WAT-5179
تاریخ اجراء: 25 محرم الحرام 1448ھ / 11 جولائی 2026ء