logo logo
AI Search

قضا روزوں کی تعداد معلوم نہ ہو تو کیا کریں؟

بسم اللہ الرحمن الرحیم

قضا روزوں کی تعداد معلوم نہ ہو تو قضا کس طرح کریں ؟

دار الافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی)

سوال

کیا فرماتے ہیں علمائےدین و مفتیان شرع متین اس مسئلہ کے بارے میں کہ ایک عورت بالغ ہونےکے بعد مخصوص ایام كے سبب چھوڑے ہوئے رمضان کے روزے قضا نہ کر سکی، اب اس کی عمر 45 سال ہے، پچھلے سالوں کے کچھ روزوں کی قضا کر لی ہے، جبکہ بقیہ مخصوص ایام والے روزے اب تک قضا نہیں کر سکی اور تعداد بھی معلوم نہیں ہو رہی، رہنمائی فرما دیں کہ ان کی قضا کا حساب کیسے کرے؟

جواب

پوچھی گئی صورت میں مذکورہ خاتون بالغ ہونے کے بعد سے اب تک جتنے رمضان گزرے ہیں، ان سب کا اندازہ لگائے اور یہ حساب کرے کہ اس کے ہر رمضان میں مخصوص ایام کی وجہ سے عموماً کتنے روزے قضا ہوتے تھے، پھر ان تمام دنوں کو جمع کر کے ایک ایسی تعداد مقرر کر لے جس پر اس کا دل مطمئن ہو جائے اور اسے غالب گمان ہو جائے کہ اس کے ذمہ پر یہی روزے باقی ہیں، پھر ان روزوں کی قضا کرتی رہے، لیکن اگر کسی تعداد پر غالب گمان نہ ہو یعنی اتنا اندازہ بھی نہ ہو سکے کہ کتنے روزے باقی ہیں، تو پھر وہ قضا روزے رکھتی رہے، یہاں تک کہ اسے اطمینان اور یقین ہو جائے کہ اب اس کے ذمہ کوئی روزہ باقی نہیں رہا۔

جس پر متعدد روزوں کی قضا لازم ہواور اسے تعداد یاد نہ ہو، اس کے حساب کے متعلق معراج الدرایۃ میں ہے: لايدري كمية الفوائت؛ يعمل بأكبر رأيه، فإن لم يكن له رأي؛ يقضي متى يستيقن" ترجمہ: جس شخص کو اپنی فوت شدہ نمازوں (یا روزوں) کی تعداد معلوم نہ ہو، وہ اپنے غالب گمان پر عمل کرے۔ پھر اگر اس کا کوئی اندازہ نہ ہو پا رہا ہو، تو وہ قضا کرتا رہے، حتی کہ اسے بری الذمہ ہونے کا یقین ہو جائے۔ (معراج الدراية في شرح الهداية، جلد 2، صفحہ 127،مطبوعہ دار الكتب العلمية، بيروت)

یونہی حاشیۃ الطحطاوی علی مراقی الفلاح میں ہے "من لا يدري كمية الفوائت يعمل بأكبر رأيه فإن لم يكن له رأي يقض حتى يتيقن أنه لم يبق عليه شيء" ترجمہ: جسے فوت شدہ نمازوں (یا روزوں) کی تعداد معلوم نہ ہو، وہ اپنے ظنِ غالب پر عمل کرے، اور اگر اس کی کوئی رائے نہ جمتی ہو، تو قضا کی ادائیگی کرتا رہے یہاں تک کہ اسے یقین ہو جائے کہ قضا میں سے کچھ بھی باقی نہیں رہا۔ (حاشیۃ الطحطاوی علی مراقی الفلاح، صفحہ 447، مطبوعہ کوئٹہ)

جس شخص کو قضا روزوں کی تعداد کا علم نہ ہو، اس کے متعلق فتاوی امجدیہ میں ہے: جتنے روزے قضا ہو گئے یعنی نہیں رکھے یا رکھ کر توڑ دئیے، سب کا اس طرح اندازہ کرے کہ کم نہ ہو، اگر زیادہ ہو جائے ،تو حرج نہیں، مثلاً چودہ سال کی نسبت اگر غالب گمان یہ ہوکہ نصف رکھتا تھا اور نصف نہیں، تو سات سال کے ہوئے غرض جو حساب سے ہوں، ان کی قضا رکھے، ضرور نہیں کہ ایک ساتھ قضا رکھے، بلکہ حسب وسعت متفرق طور پر بھی رکھ سکتا ہے، مگر حتی الوسع یہ کوشش ہو کہ جلد ازجلد سبکدوشی ہو جائے کہ موت کا وقت معلوم نہیں۔ (فتاویٰ امجدیہ، جلد 1، صفحہ 397، مطبوعہ مکتبہ رضویہ، کراچی)

وَ اللہُ اَعْلَمُ عَزَّ وَ جَلَّ وَ رَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَ اٰلِہٖ وَ سَلَّم

مجیب: مفتی محمد قاسم عطاری
فتوی نمبر: FSD-10000
تاریخ اجراء: 03 ذو الحجۃ الحرام 1447ھ / 20 مئی 2026ء