logo logo
AI Search

مسلسل روزوں کی منت میں ناغہ ہوجانا

بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

ایک مہینا روزہ رکھنے کی منت مانی اور درمیان سے کچھ چھوٹ جائیں تو کیا نئے سرے سے رکھنے ہوں گے؟

دارالافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی)

سوال

کیا فرماتے ہیں علمائے دین و مفتیانِ شرع متین اس مسئلہ کے بارے میں کہ ایک شخص نے منت مانی تھی کہ اگر اُس کا فلاں کام ہو گیا،تو وہ ایک ماہ کے روزے رکھے گا اور نیت یہ تھی کہ یہ روزے مسلسل (بلا ناغہ) ہوں گے۔ جب اس کا کام پورا ہوگیا، تو اس نے مسلسل روزے رکھنا شروع کردیے، لیکن پانچ روزے رکھنے کے بعد وہ اپنی کچھ مصروفیات کے باعث چند دن روزے نہ رکھ سکا، تو کیا اب دوبارہ نئے سرے سے 30 روزے رکھنا لازم ہوں گے یا جتنے رکھ چکا، اس سےآگے شمار کرے گا؟

جواب

پوچھی گئی صورت میں اُس شخص پر لازم ہے کہ وہ دوبارہ نئے سرے سے مسلسل (بلا ناغہ) منت کے تیس روزے رکھے،کیونکہ اگر کوئی شخص ایک ماہ کے روزوں کی منت مانے اور ان روزوں کو مسلسل رکھنے کی شرط لگائے یا دل میں نیت ہو کہ مسلسل رکھے گا، تو ایسی صورت میں ان روزوں کو اکٹھے رکھنا ہی ضروری ہوتا ہے۔ اگر کسی ذاتی عذر، مثلاً مصروفیت یا طبیعت کی خرابی وغیرہ کے باعث کوئی ناغہ کرلیا یا شرعی عذر کی وجہ سے وقفہ آگیا، مثلاً منت کے ان مسلسل روزوں کے درمیان ایسے ایام آگئے کہ جن میں روزہ رکھنے کی شرعاً ممانعت ہو (جیسے عیدین اور ایام تشریق)، تو اب دوبارہ سے ایک ماہ کے مسلسل روزے رکھنا لازم ہوتا ہے۔

نوٹ: یاد رہے کہ ایک ماہ کے مسلسل روزوں کی منت میں عورت کے مخصوص ایام آجانے کی صورت میں حکم کی تفصیل کچھ مختلف ہے۔

مسلسل ایک ماہ کے روزوں کی منت ماننے سے متعلق ملک العلماءعلامہ کاسانی حنفی رَحْمَۃُاللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ (سالِ وفات: 587ھ / 1191ء) لکھتے ہیں:

إذا قال: للہ علي أن أصوم شهرا متتابعا، أو قال: أصوم شهرا و نوى التتابع فأفطر يوما أنه يستقبل؛ لأن هناك أوجب على نفسه صوما موصوفا بصفة التتابع، و صح الإيجاب؛ لأن صفة التتابع زيادة قربة۔۔۔ فيصح التزامه بالنذر، فيلزمه كما التزم، فإذا ترك فلم يأت بالملتزم؛ فيستقبل

ترجمہ: یوں کہا کہ اللہ کے لیے مجھ پر ایک ماہ کے لگاتار روزے لازم ہیں یا کہا کہ میں ایک ماہ کے روزے رکھوں گا اور نیت لگاتار رکھنے کی ہو، پھر اس نے ایک دن روزہ نہ رکھا، تو وہ نئے سرے سے روزے رکھے گا ، کیونکہ اس نے اپنے اوپر ایسے روزے لازم کیےتھے، جو لگاتار ہوں اور یوں (لگاتار روزے) لازم کرنا درست بھی ہے، کیونکہ لگاتار روزے رکھنا زیادہ نیکی کا کام ہے، تو اس لحاظ سے منت کے ذریعے لگاتار روزوں کا التزام کرنا بھی درست ہوگا۔ لہٰذا اُس پر اسی طرح (لگاتار روزے) لازم ہوں گے ، جیسے اُس نے التزام کیا۔ پھر اگر وہ لگاتار روزے نہیں رکھتا، تو اس نے لازم کردہ چیز کو پورا نہ کیا، اس لیے وہ نئے سرے سے روزے رکھے گا۔ (بدائع الصنائع، جلد 5، صفحہ 95، مطبوعہ دار الکتب العلمیۃ، بیروت)

علامہ ابن نجیم مصری حنفی رَحْمَۃُاللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ (سالِ وفات: 970ھ / 1562ء) لکھتے ہیں:

و لو أوجب على نفسه صوما متتابعا فصامه متفرقا لم يجز

ترجمہ: اگر اپنے اوپر ایک ماہ کے لگاتار روزے لازم کیے، تو اُنہیں وقفے سے رکھنا، جائز نہیں۔ (بحر الرائق، جلد 2، کتاب الصوم، فصل فی النذر، صفحہ 519، مطبوعہ دار الکتب العلمیۃ، بیروت)

صدر الشریعہ مفتی محمد امجد علی اعظمی رَحْمَۃُاللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ (سالِ وفات: 1367ھ / 1947ء) لکھتے ہیں: ایک مہینے کے روزے کی منت مانی،تو پورے تیس 30دن کے روزے واجب ہیں، اگرچہ جس مہینے میں رکھے وہ انتیس ہی کا ہو اور یہ بھی ضرور ہے کہ کوئی روزہ ایّامِ منہیّہ میں نہ ہو کہ اس صورت میں اگر ایّام منہیّہ میں روزے رکھے، تو گنہگار تو ہوا ہی، وہ روزے بھی ناکافی ہیں اور پے درپے کی شرط لگائی یا دل میں نیّت کی تو یہ بھی ضرور ہے کہ ناغہ نہ ہونے پائے، اگر ناغہ ہوا، اگرچہ ایّام منہیّہ میں، تو اب سے ایک مہینے کے علی الاتصال روزے رکھے یعنی یہ ضرور ہے کہ ان تیس دنوں میں کوئی دن ایسا نہ ہو، جس میں روزہ کی ممانعت ہے اور پے در پے کی نہ شرط لگائی، نہ نیّت میں ہے، تو متفرق طور پر تیس روزے رکھ لینے سے بھی منت پوری ہو جائے گی۔ اور اگر عورت نے ایک ماہ پے در پے روزے رکھنے کی منّت مانی تو اگر ایک مہینہ یا زیادہ طہارت کا زمانہ اُسے ملتا ہے، تو ضرور ہے کہ ایسے وقت شروع کرے کہ حیض آنے سے پیشتر تیس دن پورے ہو جائیں، ورنہ حیض آنے کے بعد اب سے تیس پورے کرنے ہوں گے اور اگر مہینہ پورا ہونے سے پہلے اُسے حیض آجایا کرتا ہے، تو حیض سے پہلے جتنے روزے رکھ چکی ہے، انہیں حساب کر لے جو باقی رہ گئے، انھیں حیض ختم ہونے کے بعد متصلاً بلاناغہ پورا کرلے۔ (بھار شریعت، جلد 1، حصہ 5، صفحہ 1017، مطبوعہ مکتبۃ المدینۃ)

وَاللہُ اَعْلَمُ عَزَّوَجَلَّ وَ رَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَ سَلَّم

مجیب: مفتی محمد قاسم عطاری
فتویٰ نمبر: FSD-9734
تاریخ اجراء: 23 رجب المرجب 1447ھ / 13 جنوری 2026ء