logo logo
AI Search

عورتوں کا مدرسے میں اعتکاف کرنا جائز ہے؟

بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

کیا عورتیں مدرسے میں اعتکاف کر سکتی ہیں ؟

دارالافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی)

سوال

کیا فرماتے ہیں علمائے دین ومفتیانِ شرعِ متین اس مسئلے کے بارے میں کہ کیا عورتیں مدرسے میں جمع ہو کر اعتکاف کرسکتی ہیں؟ کوئی جواز کی صورت ہے؟

جواب

عورتیں مدرسے میں اعتکاف نہیں کر سکتیں اگرچہ فقط عورتیں ہی جمع ہوں اور فتنے کا اندیشہ نہ ہو، پھر بھی اس کی اجازت نہیں ہے، کیونکہ اعتکاف صحیح ہونے کے لیے مسجد شرط ہے اور عورتوں کے حق میں گھر کی مسجد، جسے مسجدِ بیت کہا جاتا ہے، یہ ہونا ضروری ہے، یہاں تک کہ اگر اپنے گھر میں بھی مسجدِ بیت نہیں ہے تو اپنے گھر میں بھی اعتکاف نہیں کر سکتیں، جبکہ مدرسہ نہ مسجد ہے اور نہ ہی مسجدِ بیت، لہٰذا عورتیں اپنی مسجدِ بیت میں ہی اعتکاف کریں، مدرسے میں ہرگز اعتکاف نہیں کر سکتیں۔

اعتکاف کے لیے مسجد ہونا شرط ہے، چنانچہ تبیین الحقائق، مجمع الانہر اور بحر الرائق میں ہے:

واللفظ للآخر ”والكون في المسجد والنية شرطان للصحة“

ترجمہ: اعتکاف مسجد میں ہونا اور اس کی نیت ہونا، یہ دونوں چیزیں اعتکاف صحیح ہونے کے لیے شرط ہیں۔ (البحر الرائق، کتاب الصوم، باب الاعتکاف، جلد 2، صفحہ 322، دار الکتاب الاسلامی، بیروت)

عورت کے اعتکاف کے متعلق تحفۃ الفقہاء میں ہے:

”لا تعتكف المرأة إِلَّا فِي مَسجِد بيتهَا“

ترجمہ: عورت اپنے گھر کی مسجد (مسجدِ بیت) کے علاوہ کہیں بھی اعتکاف نہیں کر سکتی۔ (تحفۃ الفقھاء، کتاب الصوم، باب الاعتکاف، جلد 1، صفحہ 372، مطبوعہ بیروت)

مسجدِ بیت کے متعلق نور الایضاح میں ہے:

”وللمرأة الاعتكاف في مسجد بيتها وهو محل عَيَّنَتْهُ للصلاة فيه

ترجمہ: عورت کے لیے حکم ہے کہ اپنی مسجدِ بیت میں اعتکاف کرے اور مسجدِ بیت وہ جگہ ہے کہ جسے عورت نے اپنے گھر میں نماز کے لیے مختص کیا ہوتا ہے۔

اس کے تحت مراقی الفلاح میں ہے:

”فإن لم تعين لها محلا لا يصح لها الاعتكاف فيها“

ترجمہ: اگر عورت نے نماز کے لیے جگہ متعین نہ کی ہو، تو پھر وہاں عورت کا اعتکاف صحیح نہیں ہوگا۔ (مراقی الفلاح شرح نور الایضاح، باب الاعتکاف، صفحہ  265، بیروت )

گھر میں بھی عورت مسجدِ بیت کے علاوہ اعتکاف نہیں کر سکتی، چنانچہ بہارِ شریعت میں ہے: ”اگر عورت نے نماز کے لیے کوئی جگہ مقرر نہیں کر رکھی ہے، تو گھر میں اعتکاف نہیں کر سکتی، البتہ اگر اس وقت یعنی جبکہ اعتکاف کا ارادہ کیا کسی جگہ کو نماز کے لیے خاص کر لیا تو اس جگہ اعتکاف کر سکتی ہے۔“ (بھارِ شریعت، حصہ 5، جلد 1، صفحہ 1021، مکتبۃ المدینہ، کراچی)

مجلسِ افتاء کی طرف سے جاری ”خواتین کے اعتکاف کے مسائل“ نامی کتاب میں ہے: ”خواتین کو مسجدِ بیت میں اعتکاف کرنے کا حکم ہے، جبکہ مدرسہ مسجدِ بیت نہیں، لہٰذا فتنے کا اندیشہ نہ ہو، تب بھی خواتین مدرسہ کی بجائے مسجدِ بیت ہی میں اعتکاف کریں۔ “ (خواتین کے اعتکاف کے مسائل، صفحہ  28، مجلسِ افتاء، دعوتِ اسلامی)

وَ اللہُ اَعْلَمُ عَزَّ وَ جَلَّ وَ رَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَ اٰلِہٖ وَ سَلَّم

مجیب: مفتی محمد قاسم عطاری
فتویٰ نمبر: Aqs-2921
تاریخ اجراء: 21 رمضان المبارک 1447ھ/11 مارچ 2026ء