logo logo
AI Search

روزے کی حالت میں منہ میں الائچی رکھنا کیسا؟

بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

روزے کی حالت میں منہ میں الائچی رکھنے کا حکم

دارالافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی)

سوال

میرا سوال یہ ہے کہ روزے کی حالت میں منہ میں الائچی رکھنے سے روزہ ٹوٹ جائے گا یا نہیں ٹوٹے گا؟

جواب

الائچی منہ میں رکھی ہو اور اس کا کوئی جز حلق سے نیچے نہ جائے، تو روزہ نہیں ٹوٹے گا، لیکن بغیر ضرورت صحیحہ ایسا کرنا مکروہ ضرور ہے، کہ روزے میں بغیر عذرکے کوئی چیز چکھنا، چبانا مکروہ ہے۔

منفذ کے ذریعے جسم میں کسی چیز کے داخل ہونے کے بارے ردالمحتار میں ہے

المفطر انماھو الداخل من المنافذ

ترجمہ: روزہ صرف اس چیز سے ٹوٹتا ہے، جو منفذ کے ذریعے سے جسم میں داخل ہو۔ (رد المحتار علی الدر المختار، ج 3، ص 421، مطبوعہ: کوئٹہ)

فتاوی ہندیہ میں ہے

وكره ذوق شيء، و مضغه بلا عذر كذا في الكنز

ترجمہ: اور روزے کی حالت میں بغیر عذر کے کسی چیز کو چکھنا اور اس کوچبانا مکروہ ہے۔ (فتاوی ہندیہ، کتاب الصوم، الباب الثالث، ج 01، ص 199، مطبوعہ :کوئٹہ)

امامِ اہلِ سنت، امام احمد رضا خان رحمۃ اللہ تعالی علیہ روزے کی حالت میں منجن کرنے کے متعلق فرماتے ہیں: منجن ناجائز و حرام نہیں جب کہ اطمینان کافی ہو کہ اس کا کوئی جز حلق میں نہ جائے گا مگر بے ضرورت صحیحہ کراہت ضرور ہے۔ (فتاوی رضویہ ، ج 10، صفحہ 551، رضا فاؤنڈیشن، لاہور)

و اللہ اعلم عزوجل و رسولہ اعلم صلی اللہ تعالیٰ علیہ و آلہ و سلم

مجیب: مفتی محمد سجاد عطاری مدنی
فتویٰ نمبر: WAT-4865
تاریخ اجراء: 10 شوال المکرم 1447ھ / 30 مارچ 2026ء