logo logo
AI Search

روزے میں الکحل والی پرفیوم سونگھنا جائز ہے؟

بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

روزے کی حالت میں الکحل والی پرفیوم سونگھنا

دارالافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی)

سوال

روزے کی حالت میں کپڑے سے الکحل والی پرفیوم سونگھنا جبکہ ذرات اندر نہ جائیں، یہ کیسا ہے؟

جواب

روزے کی حالت میں کپڑے سے پرفیوم سونگھنے سے روزہ نہیں ٹوٹتا کہ اس طرح ذرات دماغ کے اندر نہیں جاتے۔

مراقی الفلاح میں ہے

”لا يكره للصائم شم رائحة المسك والورد ونحوه مما لا يكون جوهرا متصلا كالدخان“

ترجمہ: مشک اور پھول وغیرہ کی خوشبو جس میں دھوئیں کی مثل جوہر متصل نہ ہو، روزہ دار کے لئےاسے سونگھنا مکروہ نہیں۔ (نور الایضاح مع مراقی الفلاح، کتاب الصوم، صفحہ 329، مکتبۃ المدینہ، کراچی)

          امام اہل سنت الشاہ امام احمد رضا خان رحمۃ اللہ تعالی علیہ فرماتے ہیں: ”روزہ دار خوشبُو سُونگھ سکتاہے، سُونگھنے سے جس کے اجزاء دماغ میں نہ چڑھیں، بہ خلاف لوبان کے دُھوئیں کے کہ اسے سونگھ کر دماغ کو چڑ ھ جائے گا تو روزہ جاتا رہے گا۔“(فتاوی رضویہ، جلد 10، صفحہ 511، رضا فاؤنڈیشن، لاہور)

وَ اللہُ اَعْلَمُ عَزَّ وَ جَلَّ وَ رَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَ اٰلِہٖ وَ سَلَّم

مجیب: مفتی محمد حسان عطاری مدنی
فتویٰ نمبر: WAT-4827
تاریخ اجراء: 20 رمضان المبارک1447ھ/ 10 مارچ 2026ء