logo logo
AI Search

اعتکاف میں مسجد تبدیل کرسکتے ہیں؟

بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

اعتکاف میں مسجد تبدیل کرنے کا حکم

دارالافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی)

سوال

کیا اعتکاف کی حالت میں ایک جگہ سے دوسری جگہ اعتکاف ہوسکتا ہے، سفر 25 کلومیٹر کا ہے، آج بیٹھناہے، چار دن بعد وہاں جانا ہے؟

جواب

بلا عذر شرعی اعتکاف کی حالت میں مسجد تبدیل کرنے کی اجازت نہیں ہے، لہذا اگر آپ ایک مسجد میں اعتکاف بیٹھنے کے بعد، بلا عذر شرعی کسی دوسری مسجد جاتے ہیں، تو آپ کا اعتکاف ٹوٹ جائے گا، اور اس کی قضا کرنا لازم آئے گی، نیز آپ گناہ گار بھی ہونگے۔

اس مسئلہ کی مزید تفصیل یہ ہے کہ عموما معتکف کے لیے مسجد سے نکلنے کے دو اعذار ہیں:

(1) حاجتِ طبعی: کہ مسجد میں پوری نہ ہو سکے، جیسے پاخانہ، پیشاب، استنجا، نیز وضو اور ضرورت ہو تو غسل، بشرطیکہ وضو و غسل جائز طریقے سے مسجد کے اندر ممکن نہ ہوں، اگر مسجد میں وضو و غسل کے لیے جگہ بنی ہو، یا حوض ہو، تواب اس مقصدکے لیے باہر جانے کی اجازت نہیں۔

(2) حاجتِ شرعی: مثلاً جمعہ وغیرہ کی خاطر بقدرِ ضرورت نکلنا جائز ہے (یعنی جب اس مسجد میں جمعہ وغیرہ نہ ہوتا ہو)۔

ان کے علاوہ بغیر کسی شرعی عذر کے معتکف کو مسجد سے نکلنے کی اجازت نہیں ہے۔

در مختار میں ہے:

”(حرم علیہ)۔۔۔ الخروج الا لحاجۃ الانسان) طبیعیۃ کبول وغائط و غسل لو احتلم ولا یمکنہ الاغتسال فی المسجد، کذا فی النھر (او) شرعیۃ کعید واذان لو مؤذنا وباب المنارۃ خارج المسجد“

ترجمہ: معتکف پر مسجد سے باہر جانا حرام ہے مگر انسان کی حاجت طبعیہ کے لیے جیسا کہ پاخانہ، پیشاب، اور اگر احتلام ہو جائے تو غسل کے لیے بشرطیکہ مسجد میں غسل ممکن نہ ہو، اسی طرح نہر میں ہے، یا حاجت شرعیہ کے لیے جیسا کہ عید اور اذان کے لیے جبکہ وہ مؤذن ہو اور منارہ کا دروازہ مسجد سے باہر ہو۔ (الدر المختار مع رد المحتار، جلد 3، صفحہ 501، 502، مطبوعہ: کوئٹہ)

بہارِ شریعت میں ہے: ”معتکف کو مسجد سے نکلنے کے دو عذر ہیں۔ ایک حاجت طبعی کہ مسجد میں پوری نہ ہو سکے جیسے پاخانہ، پیشاب، استنجا، وضو اور غسل کی ضرورت ہو تو غسل، مگر غسل و وضو میں یہ شرط ہے کہ مسجد میں نہ ہو سکیں یعنی کوئی ایسی چیز نہ ہو جس میں وضو و غسل کا پانی لے سکے اس طرح کہ مسجد میں پانی کی کوئی بوند نہ گرے کہ وضو و غسل کا پانی مسجد میں گرانا، نا جائز ہے اور لگن وغیرہ موجود ہو کہ اس میں وضو اس طرح کر سکتا ہے کہ کوئی چھینٹ مسجد میں نہ گرے تو وضو کے لیے مسجد سے نکلنا جائز نہیں، نکلے گا تو اعتکاف جاتا رہے گا۔ یوہیں اگر مسجد میں وضو و غسل کے لیے جگہ بنی ہو یا حوض ہو تو باہر جانے کی اب اجازت نہیں۔ دوم حاجت شرعی مثلاً عید یا جمعہ کے لیے جانا یا اذان کہنے کے لیے منارہ پر جانا، جبکہ منارہ پر جانے کے لیے باہر ہی سے راستہ ہو اور اگر منارہ کا راستہ اندر سے ہو تو غیر مؤذن بھی منارہ پر جا سکتا ہے مؤذن کی تخصیص نہیں۔“ (بہارِ شریعت، جلد 1، حصہ 5، صفحہ 1023 -1024، مکتبۃ المدینہ، کراچی)

وَ اللہُ اَعْلَمُ عَزَّ وَ جَلَّ وَ رَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَ اٰلِہٖ وَ سَلَّم

مجیب: مولانا محمد نور المصطفیٰ عطاری مدنی
فتویٰ نمبر: WAT-4864
تاریخ اجراء:11 شوال المکرم 1447ھ/31 مارچ 2026ء