روزے میں ہمبستری کرنا کیسا؟
بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ
روزے کی حالت میں ہمبستری کا حکم
دارالافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی)
سوال
اگر کوئی شخص روزے کی حالت میں ہمبستری کرے، جب کہ اس کی نیت روزہ توڑنے کی نہ تھی، تو کیا صرف قضا لازم ہو گی یا کفارہ بھی لازم ہوگا؟
جواب
روزہ یاد ہوتے ہوئے، ہمبستری کرنے (یعنی کسی قابلِ جماع انسان کے اگلے یا پچھلے مقام میں جماع کرنے) سے روزہ ٹوٹ جاتا ہے، جس کی قضا بھی لازم ہوتی ہے۔ البتہ! کفارہ لازم ہونے کے لیے درج ذیل شرائط ہیں :
(1) رمضان میں ادائے رمضان کی نیت سےروزہ رکھا ہو۔ (2) روزے کی نیت صبح صادق سے پہلے(یعنی فجر کا وقت شروع ہونے سے پہلے) کرلی ہو۔ (3) ہمبستری کے وقت شرعی مسافر نہ ہو۔(4) ہمبستری کرنے پراکراہ شرعی نہ ہو۔ (5) بغیر خطا کے، جان بوجھ کر ہمبستری کی ہو۔ (6) روزہ توڑنے کے بعد اسی دن کوئی ایسا امر نہ پایا جائے، جو روزے کے منافی ہو۔ (جیسے حیض و نفاس)۔ (8) بلا اختیار ایسا امر بھی نہ پایا جائے، جس کی وجہ سے روزہ نہ رکھنے کی رخصت ہو جیسے سخت بیماری۔
تنویر الابصار و در مختار میں ہے
(إن جامع) المكلف آدميًّا مشتهى (في رمضان أداء)۔۔۔ ( أو جومع) و توارت الحشفة (في أحد السبيلين) أنزل أو لا۔۔۔ (قضی)۔۔۔ (و کفر)
ترجمہ: اگر مکلف شہوت والے شخص نے رمضان کے ادا روزے میں سبیلین میں سے کسی ایک میں جماع کیا یا اس کے ساتھ جماع کیا گیا اور حشفہ چھپ گیا تو انزال ہوا ہو یا نہیں، روزے کی قضا کرے اور کفارہ دے۔ (الدر المختار مع رد المحتار، جلد 3، صفحہ 442 ۔ 445، مطبوعہ: کوئٹہ)
مبسوطِ سرخسی میں ہے
و إذا جامع الرجل امرأته في الفرج فغابت الحشفة و لم ينزل فعليهما القضاء و الكفارة و الغسل۔۔۔ أما الكفارة فلحصول الفطر على وجه تتم الجناية به
ترجمہ: جب کسی شخص نے اپنی بیوی کی اگلی شرمگاہ میں جماع کیا اور حشفہ غائب ہوگیا، اور (اگرچہ) انزال نہیں ہوا، تو ان دونوں پر روزے کی قضا، کفارہ اور غسل لازم ہے۔۔۔ کفارہ لازم ہونے کی وجہ یہ ہے کہ روزہ توڑنے کا حصول ایسے طریقہ پر ہوا جس سے جنایت کامل ہوتی ہے۔ (المبسوط للسرخسی، جلد 3، صفحہ 79، مطبوعہ: بیروت)
بہارِ شریعت میں ہے ان صورتوں کا بیان جن میں کفارہ بھی لازم ہے: رمضان میں روزہ دار مکلّف مقیم نے کہ ادائے روزہ رمضان کی نیّت سے روزہ رکھا اور کسی آدمی کے ساتھ جو قابلِ شہوت ہے، اُس کے آگے یا پیچھے کے مقام میں جماع کیا، انزال ہوا ہو یا نہیں یا اس روزہ دار کے ساتھ جماع کیا گیا۔۔۔ (تو) روزہ کی قضا اور کفّارہ دونوں لازم ہیں۔ (بہارِ شریعت، جلد 1، حصہ 5، صفحہ 991، مکتبۃ المدینہ، کراچی)
روزے کے کفارے کی شرائط کے متعلق فتاوی رضویہ میں ہے کسی نے بلا عذر شرعی رمضان مبارک کا ادا روزہ جس کی نیت رات سے کی تھی بالقصد کسی غذا یا دوا یا نفع رساں شےسے توڑ ڈالا اور شام تک کوئی ایسا عارضہ لاحق نہ ہوا جس کے باعث شرعا آج روزہ رکھنا ضرور نہ ہوتا تو اس جرم کے جرمانے میں ساٹھ روزے پے درپے رکھنے ہوتے ہیں۔ (فتاوی رضویہ، جلد 10، صفحہ 519، رضا فاؤنڈیشن، لاہور)
روزے کےکفارے کی شرائط کےمتعلق مفتی امجدعلی اعظمی علیہ رحمۃاللہ القوی ارشاد فرماتے ہیں: رمضان میں روزہ دار مکلف مقیم نے کہ ادائے روزہ رمضان کی نیت سے روزہ رکھا اور کسی آدمی کے ساتھ جو قابل شہوت ہے اس کے آگے یا پیچھے کے مقام میں جماع کیا یا کوئی غذا یا دوا کھائی یا پانی پیا یا کوئی چیز لذت کے ليے کھائی تو ان سب صورتوں میں روزہ کی قضا اور کفارہ دونوں لازم ہیں۔ جس جگہ روزہ توڑنےسے کفارہ لازم آتا ہے اس میں شرط یہ ہے کہ رات ہی سے روزہ رمضان کی نیت کی ہو، اگر دن میں نیت کی اور توڑ دیا تو کفارہ لازم نہیں۔ کفارہ لازم ہونے کے لیے یہ بھی ضرور ہے کہ روزہ توڑنے کے بعد کوئی ایسا امر واقع نہ ہوا ہو، جوروزہ کے منافی ہو یا بغیر اختیار ایسا امر نہ پایا گیا ہو، جس کی وجہ سے روزہ افطار کرنے کی رخصت ہوتی، مثلا عورت کو اسی دن میں حیض یا نفاس آگیا یا روزہ توڑنے کے بعد اسی دن میں ایسا بیمار ہوگیا جس میں روزہ نہ رکھنے کی اجازت ہے تو کفارہ ساقط ہے، ملتقطاً (بہار شریعت، جلد 1، حصہ 5 صفحہ 991، مکتبۃ المدینہ، کراچی)
وَاللہُ اَعْلَمُ عَزَّوَجَلَّ وَ رَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَ سَلَّم
مجیب: مولانا محمد نوید چشتی عطاری مدنی
فتویٰ نمبر: WAT-4826
تاریخ اجراء: 19 رمضان المبارک 1447ھ / 09 مارچ 2026ء