عورت کا مدرسے میں اعتکاف کا حکم
بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ
عورتوں کا مدرسے میں اجتماعی طور پر اعتکاف بیٹھنا
دارالافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی)
سوال
کیا عورتیں مدرسے میں اجتماعی طور پر اعتکاف میں بیٹھ سکتی ہیں؟
جواب
عورت مدرسے میں اعتکاف نہیں کرسکتی، بلکہ مسجدِ بیت (یعنی گھر میں نماز پڑھنے کے لئے جو جگہ مختص کی ہو، اس) میں ہی اعتکاف کر ے گی۔ بدائع الصنائع میں ہے
”وأما المرأة فذكر في الأصل أنها لا تعتكف إلا في مسجد بيتها“
ترجمہ: بہرحال عورت کے اعتکاف کے متعلق کتاب الاصل میں ذکر کیا کہ وہ مسجدِ بیت کے علاوہ ( کسی بھی جگہ) اعتکاف نہیں کرسکتی۔ (بدائع الصنائع، جلد 2، صفحہ281، مطبوعہ: کوئٹہ)
بہارِ شریعت میں ہے ”عورت کو مسجد میں اعتکاف مکروہ ہے، بلکہ وہ گھر میں ہی اعتکاف کرے مگر اس جگہ کرے جو اُس نے نماز پڑھنے کے لیے مقرر کر رکھی ہے، جسے مسجدِ بیت کہتے ہیں اور عورت کے لیے یہ مستحب بھی ہے کہ گھر میں نماز پڑھنے کے لیے کوئی جگہ مقرر کر لے اور چاہیے کہ اس جگہ کو پاک صاف رکھے اور بہتر یہ کہ اس جگہ کو چبوترہ وغیرہ کی طرح بلند کرلے۔“ (بہارِ شریعت، جلد 1، حصہ 5، صفحہ 1021، مکتبۃ المدینہ، کراچی)
وَ اللہُ اَعْلَمُ عَزَّ وَ جَلَّ وَ رَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَ اٰلِہٖ وَ سَلَّم
مجیب: مفتی محمد حسان عطاری مدنی
فتویٰ نمبر: WAT-4814
تاریخ اجراء: 17 رمضان المبارک1447ھ/07 مارچ 2026ء