logo logo
AI Search

روزے میں ہیومیڈیفائر استعمال کرنا کیسا؟

بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

روزے کی حالت میں کمرے میں ہیومیڈیفائر (Humidifier) استعمال کرنے کا حکم

دارالافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی)

سوال

کیا روزے کی حالت میں کمرے میں ہیومیڈیفائر استعمال کر سکتے ہیں؟ ہیومیڈیفائر (Humidifier) ایک ایسی مشین ہے، جو ہوا میں نمی (humidity) کے تناسب کو بڑھانے کے لیے استعمال کی جاتی ہے۔ یہ مختلف طریقوں سے کام کرتے ہیں:

• الٹراسونک: (Ultrasonic) یہ سب سے عام قسم ہے۔ اس میں ایک چھوٹی سی پلیٹ بہت تیزی سے تھرتھراتی (vibrate) ہے، جس سے پانی کے قطرے باریک دھند یا بھاپ میں تبدیل ہو جاتے ہیں اور ایک پنکھا اس دھند کو کمرے میں پھیلا دیتا ہے۔

• ایواپوریٹو: (Evaporative) اس میں ایک گیلے فلٹر کے ذریعے ہوا گزاری جاتی ہے۔ جب پنکھا چلتا ہے تو پانی بخارات بن کر ہوا میں شامل ہو جاتا ہے۔

• سٹیم ویپورائزر: (Steam Vaporizer) یہ مشین پانی کو بجلی کے ذریعے گرم کر کے بھاپ بناتی ہے، جو پھر ٹھنڈی ہو کر ہوا میں نمی پیدا کرتی ہے۔

جواب

حالتِ روزہ میں کمرے کے اندر ہیومیڈیفائر کا استعمال جائز ہے، اس سے روزے پر کوئی فرق نہیں پڑے گا۔ البتہ! اگر روزہ دار قصداً اس کے قریب ہو کر اس سے نکلنے والی بھاپ، بخارات کو کھینچ کر حلق تک پہنچائے، اور کھینچتے وقت اسے اپنا روزہ دار ہونا بھی یاد ہو، تو اس صورت میں اس کا روزہ ٹوٹ جائے گا۔

درِ مختار میں ہے

(دخل حلقہ غبار او ذباب او دخان) و لو ذاکرا استحسانا لعدم امکان التحرز عنہ، و مفادہ انہ لو ادخل حلقہ الدخان افظر، ای دخان کان و لو عودا او عنبرا لو ذاکرا لامکان التحرز عنہ

ترجمہ: اگر غبار، مکھی یا دھواں کسی کے حلق میں چلا گیا تو استحساناً روزہ نہیں ٹوٹے گا، اگرچہ اسے روزہ دار ہونا یاد ہو، کیونکہ اس سے بچنا ممکن نہیں ہے، اور اس کا مفاد یہ ہے کہ اگر اس نے اپنے حلق میں دھواں خود داخل کیا، تو اس کا روزہ ٹوٹ جائے گا، جبکہ اس کو روزہ دار ہونا یاد ہو، چاہے وہ کیسا ہی دھواں ہو اگرچہ عود یا عنبر ہو، کیونکہ اس سے بچنا ممکن ہے۔ (الدر المختار مع رد المحتار، جلد 3، صفحہ 420 - 421، مطبوعہ: کوئٹہ)

بہارِ شریعت میں ہے مکّھی یا دُھواں یا غبار حلق میں جانے سے روزہ نہیں ٹوٹتا۔ خواہ وہ غبار آٹے کا ہو کہ چکّی پیسنے یا چھاننے میں اڑتا ہے یا غلّہ کا غبار ہو یا ہوا سے خاک اُڑی یا جانوروں کے کُھر یا ٹاپ سے غبار اُڑ کر حلق میں پہنچا، اگرچہ روزہ دار ہونا یاد تھا اور اگر خود قصداً دھواں پہنچایا تو فاسد ہوگیا جبکہ روزہ دار ہونا یاد ہو، خواہ وہ کسی چیز کا دھواں ہو اور کسی طرح پہنچایا ہو، یہاں تک کہ اگر کی بتی وغیرہ خوشبو سُلگتی تھی، اُس نے مونھ قریب کر کے دھوئیں کو ناک سے کھینچا روزہ جاتا رہا۔ (بہارِ شریعت، جلد 1، حصہ 5، صفحہ 982، مکتبۃ المدینہ، کراچی)

وَاللہُ اَعْلَمُ عَزَّوَجَلَّ وَ رَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَ سَلَّم

مجیب: مولانا محمد نوید چشتی عطاری مدنی
فتویٰ نمبر: WAT-4825
تاریخ اجراء: 19 رمضان المبارک 1447ھ / 09 مارچ 2026ء