روزے میں گالی دینے سے روزہ ٹوٹ جاتا ہے؟
بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ
روزے کی حالت میں گالی دینے کا حکم
دارالافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی)
سوال
کیا روزے میں گالی دینے سے روزہ ٹوٹ جاتا ہے؟ رہنمائی فرمائیں۔
جواب
کسی بھی مسلمان کو گالی دینا عام دنوں میں بھی ناجائز و حرام ہے، اور معاذ اللہ روزے کی حالت میں، اور بالخصوص رمضان کے مہینے میں گالی دینا بدتر گناہ ہے، کہ گناہ کرنا تو عام دنوں اور عام مہینوں میں بھی حرام، اور رب تعالی کی نافرمانی ہے، اور خود کو جہنم کا مستحق بنانا ہے، نیز گالی وغیرہ گناہوں سے روزے کی نورانیت بھی جاتی رہتی ہے، اور ان کی وجہ سے روزے میں کراہت بھی آتی ہے، لہذا روزے دار پر لازم ہے کہ حتی الامکان اپنے آپ کو گناہوں سے بچائے، تاکہ روزے کا جو اصل مقصد ہے، وہ حاصل ہوسکے۔ البتہ! گالی دینے سے روزہ نہیں ٹوٹے گا کہ گالی دینا مفسداتِ صوم (روزہ توڑنے والی چیزوں)میں داخل نہیں۔
ارشادِ باری تعالیٰ ہے
وَ لَا تَلْمِزُوْۤا اَنْفُسَكُمْ وَ لَا تَنَابَزُوْا بِالْاَلْقَابِؕ- بِئْسَ الِاسْمُ الْفُسُوْقُ بَعْدَ الْاِیْمَانِۚ-
ترجمہ کنز الایمان: اور ایک دوسرے کے بُرے نام نہ رکھو۔ کیا ہی بُرا نام ہے مسلمان ہوکر فاسق کہلانا۔ (القرآن، پارہ 26، سورۃ الحجرات، آیت: 11)
مفسر قرآن ابو عبد اللہ محمد بن عمر الرازی رحمۃ اللہ علیہ تفسیرِ رازی میں ایک مقام پر نقل فرماتے ہیں:
و ذهب بعضهم إلى أن المراد منه بعض الأنواع ثم ذكروا وجوهاً: الأول: المراد منه السباب
ترجمہ: بعض مفسرین کرام علیہم الرحمہ کے نزدیک اس آیتِ مبارک میں فسق سے مراد مخصوص قسم کے گناہ ہیں۔ پھر مفسرین نے کچھ گناہوں کو ذکر فرمایا ہے، ان میں سے پہلا یہ ہے کہ اس آیتِ مبارک میں فسق سے مراد گالی دینا ہے۔ (التفسير الكبير، جلد 5، صفحہ 317، دار إحياء التراث العربی، بیروت)
مسلمان کو گالی دینا فسق ہے۔ جیسا کہ صحیح بخاری شریف کی حدیث پاک میں ہے
أن النبي صلى اللہ عليه و سلم قال: سباب المسلم فسوق
ترجمہ: رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نےارشاد فرمایا: مسلمان کو گالی دینا گناہ ہے۔ (صحيح البخاري، کتاب الایمان، صفحہ 25، حدیث: 48، دار الکتب العلمیۃ، بیروت)
فتاوٰی رضویہ میں ہے کسی مسلمان جاہل کو بھی بے اذن شرعی گالی دیناحرام قطعی ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم فرماتے ہیں:
سباب المسلم فسوق۔ (فتاوٰی رضویہ، جلد 21، صفحہ 127 - 128، رضا فاؤنڈیشن، لاہور)
رمضان میں گناہ کرنے سے متعلق المعجم الصغیر میں ہے
عن أم هانئ بنت أبي طالب قالت: قال رسول اللہ صلى اللہ عليه وآله و سلم: «إن أمتي لم تخز ما أقاموا شهر رمضان» قيل: يا رسول اللہ, وما خزيهم في إضاعة شهر رمضان؟ قال: (انتهاك المحارم فيه: من زنا فيه , أو شرب فيه خمرا لعنه اللہ و من في السماوات إلى مثله من الحول , فإن مات قبل أن يدرك رمضان فليست له عند اللہ حسنة يتقي بها النار, فاتقوا شهر رمضان؛ فإن الحسنات تضاعف فيه ما لا تضاعف فيما سواه و كذلك السيئات)
ترجمہ: سیدہ ام ھانی رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ نبی پاک صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: میری اُمت ذلیل و رُسوا نہ ہوگی جب تک وہ ماہِ رَمضان کا حق ادا کرتی رہے گی۔ عرض کی گئی: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم! رَمضان کے حق کو ضائع کرنے میں ان کا ذلیل و رسوا ہونا کیا ہے؟ فرمایا: اِس ماہ میں ان کا حرا م کاموں کو کرنا۔ پھر فرمایا: جس نے اِس ماہ میں زِنا کیا یا شراب پی تو اگلے رَمضان تک اللہ پاک اور جتنے آسمانی فرشتے ہیں سب اُس پر لعنت کرتے رہیں گے، پس اگر یہ شخص اگلا ماہ رَمضان پانے سے پہلے ہی مرگیا، تو اس کے پاس کوئی ایسی نیکی نہ ہوگی، جو اسے جہنم کی آگ سے بچا سکے۔ پس تم ماہِ رَمضان کےمعاملے میں ڈرو کیونکہ جس طرح اِس ماہ میں اور مہینوں کے مقابلے میں نیکیاں بڑھا دی جا تی ہیں، اِسی طرح گناہوں کا بھی مُعامَلہ ہے۔ (المعجم الصغیر للطبرانی، جلد 2، صفحہ 16، حدیث: 697، المكتب الإسلامي، بيروت)
صحیح بخاری میں ہے
عن أبي هريرة رضي اللہ عنه، قال: قال رسول اللہ صلى اللہ عليه وسلم: «من لم يدع قول الزور و العمل به، فليس لله حاجة في أن يدع طعامه و شرابه
ترجمہ: جو جھوٹی (بُری) بات کہنا اور اُس پر عمل کرنا نہ چھوڑے، تو اللہ کو اس کے بھوکا پیاسا رہنے کی کوئی حاجت نہیں۔ (صحیح البخاری، صفحہ 345، حدیث: 1903، دار الکتب العلمیۃ، بیروت)
حکیم الامت مفتی احمد یار خان علیہ رحمۃ الرَّحمٰن فرماتے ہیں: یہاں جھوٹی بات سے مراد ہر ناجائز گفتگو ہے، جھوٹ، بہتان، غیبت، چغلی، تہمت، گالی، لعن طعن وغیرہ جن سے بچنا فرض ہے اور بُرے کام سے مُراد ہر ناجائز کام ہے آنکھ کان کا ہو، یا ہاتھ پاؤں وغیرہ کا، چونکہ زبان کے گناہ دیگر اعضاء کے گناہوں سے زیادہ ہیں، اس لئے ان کا علیحدہ ذکر فرمایا، یہ حدیث بہت جامع ہے۔ دو جملہ میں ساری چیزیں بیان فرمادیں اگرچہ بُرے کام ہر حالت میں اور ہمیشہ ہی بُرے ہیں مگر روزے کی حالت میں زیادہ بُرے کہ ان کے کرنے میں روزے کی بے حرمتی اورماہِ رمضان کی بے ادبی ہے، اس لئے خصوصیت سے روزے کا ذکر فرمایا، ہر جگہ ایک گناہ کا عذاب ایک، مگر مکہ مکرمہ میں ایک گناہ کا عذاب ایک لاکھ ہے، کیوں؟ اس زمین پاک کی بے ادبی کی وجہ سے۔یہاں حاجت بمعنی ضرورت نہیں کیونکہ اللہ تعالیٰ ضرورتوں سے پاک ہے بلکہ بمعنی توجہ، التفات پرواہ یعنی اللہ تعالیٰ ایسے شخص کا روزہ قبول نہیں فرماتا قبول نہ ہونے سے روزہ گویا فاقہ بن جاتا ہے۔ اس میں اشارۃً فرمایا گیا کہ یہ روزہ شرعًا تو درست ہوجائے گا کہ فرض ادا ہوجائے گا مگر قبول نہ ہوگا شرائطِ جواز تو صرف نیت ہے اور کھانا پینا،صحبت چھوڑدینا، مگر شرائط قبول میں باتیں چھوڑنا ہے جو روزہ کا اصل مقصود ہے۔ روزے کا منشاء نفس کا زور توڑنا ہے جس کا انجام گناہ چھوڑنا ہے، جب روزے میں گناہ نہ چھوٹے تو معلوم ہوا نفس نہ مرا۔ صوفیائے کرام فرماتے ہیں کہ روزہ ہر عضو کا ہونا چاہئے، صرف حلال چیزوں یعنی کھانے پینے کو نہ چھوڑو بلکہ حرام چیزوں یعنی جھوٹ و غیبت کو بھی چھوڑو۔ مرقات نے فرمایا کہ ایسے بے باک روزے دارکو اصل روزہ کا ثواب ملے گا اور ان چیزوں کا گناہ۔ (مراۃ المناجیح، جلد 3، صفحہ 158، 159، نعیمی کتب خانہ، گجرات)
بہارِ شریعت میں ہے جھوٹ، چغلی، غیبت، گالی دینا، بیہودہ بات، کسی کو تکلیف دینا کہ یہ چیزیں ویسے بھی ناجائز و حرام ہیں، روزہ میں اور زیادہ حرام اور ان کی وجہ سے روزہ میں کراہت آتی ہے۔ (بہارِ شریعت، جلد 1، حصہ 5، صفحہ 996، مکتبۃ المدینہ، کراچی)
وَاللہُ اَعْلَمُ عَزَّوَجَلَّ وَ رَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَ سَلَّم
مجیب: مولانا محمد شفیق عطاری مدنی
فتویٰ نمبر: WAT-4808
تاریخ اجراء: 16رمضان المبارک1447ھ / 06مارچ2026ء