روزہ نہ ہونے کے باوجود روزے دار کی طرح رہنا ضروری ہے؟
بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ
کن افراد پر روزہ نہ ہونے کے باوجود روزہ دار کی طرح رہنا لازم ہے؟
دارالافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی)
سوال
کیا فرماتے ہیں علمائے دین و مفتیانِ شرع متین اس مسئلے کےبارے میں کہ مدنی چینل پر مختلف سلسلوں میں یہ بات سنی ہے کہ فلاں شخص پر فلاں صورت میں رمضان کے دن کا بقیہ حصہ روزے داروں کی طرح رہنا واجب ہے۔ آپ اُن تمام افراد کی مکمل فہرست بتا دیں کہ وہ کون سے لوگ ہیں، جنہوں نے روزہ نہ ہونے کے باوجود روزے داروں کی طرح رہنا ہوتا ہے اور اُن پر بقیہ حصہ روزے داروں کی طرح رہنا واجب کیوں ہوتا ہے؟
جواب
چند افراد کہ جن کے متعلق شریعت کا حکم ہے کہ روزہ نہ ہونے کے باوجود اُنہیں دن میں روزہ داروں کی طرح رہنا واجب ہے، یعنی کچھ کھانا پینا نہیں ہے۔ وہ لوگ یہ ہیں: (1) جس شخص نے دن کے کسی بھی حصے میں اسلام قبول کیا ہو۔ (2) جو بچہ دن کے کسی حصے میں بالغ ہو گیا ہو۔ (3) وہ عورت جو حیض یا نفاس سے پاک ہو گئی ہو۔ (4) جو مجنون تھا، مگر اسے افاقہ ہو گیا۔ (5) جو مسافر تھا اور سفر سے واپس آ گیا۔ (6) جو بیمار تھا اور صحت یاب ہو گیا ہو۔ (7) وہ شخص جو غلطی سے روزہ توڑ بیٹھا ہو۔ (8) وہ شخص جس نے جان بوجھ کر روزہ توڑا ہو۔
اِن تمام طرح کے افراد کو دن کا بقیہ حصہ روزے داروں کی طرح رہنا واجب ہے اور روزے داروں کی طرح وقت گزارنے کی وجہ یہ ہے کہ اگرچہ یہ افراد اب روزہ تو نہیں رکھ سکتے، لیکن اِس وقت کی حرمت اور روزے کی تعظیم کا حق اب بھی اُن پر باقی ہے، اس لیے کم از کم اس دن کے احترام میں روزے داروں کے ساتھ مشابہت اختیار کرتے ہوئے کھانے پینے سے رکا رہنا ضروری ہے۔
جن افراد پر دن کا بقیہ حصہ روزے داروں کی طرح رہنا ضروری ہے، اُن کی تفصیل بیان کرتے ہوئے منحۃ السلوک میں ہے:
من أسلم، أو بلغ، أو طهرت الحائض، أو أفاق، أو قدم من سفر، أو بريء من مرض، أو أفطر خطأ، أو عمدًا، أمسك بقية يومه؛ تشبهًا بالصائمين
ترجمہ: جس شخص نے دن کے کسی حصے میں اسلام قبول کیا، یا نابالغ تھا تو بالغ ہو گیا یا حائضہ عورت پاک ہو گئی یا مجنون کو افاقہ ہو گیا یا سفر سے وطن واپس آیا یا بیماری سے صحت یاب ہوا یا کسی نے غلطی سے یا جان بوجھ کر روزہ توڑ لیا، تو اِن سب پر لازم ہے کہ وہ روزے داروں سے مشابہت کرتے ہوئے دن کے بقیہ حصے میں کھانے پینے سے رکے رہیں ۔ (منحة السلوك في شرح تحفة الملوك، جلد 3، صفحہ 186، مطبوعہ قطر)
کس پر روزے دار کی طرح رہنا واجب اور کس پر واجب نہیں، اِس کے متعلق ایک جامع ضابطہ بیان کرتے ہوئے العناية شرح الهداية میں ہے:
الأصل في هذا أن كل من صار في آخر النهار بصفة لو كان عليها في أوله لزمه الصوم فعليه الإمساك۔۔۔ و من لم يكن كذلك لم يجب عليه الإمساك كما في حالة الحيض و النفاس
ترجمہ: اس کا بنیادی اصول یہ ہے کہ جو شخص دن کے آخری حصے میں ایسی حالت کو پہنچ جائے کہ اگر وہی حالت اس کے دن کے شروع یعنی صبحِ صادق کے وقت ہوتی تو اس پر روزہ رکھنا لازم ہوتا، تو اب اس پر باقی دن کے لیے کھانے پینے سے رک جانا لازم ہے۔ اور جس کی یہ کیفیت نہ ہو، اس پر کھانے پینے سے رکنا بھی لازم نہیں ہے، جیسا کہ حیض و نفاس کی حالت میں ہوتا ہے کہ اگر دن کے بیچ میں حیض آجائے تو رکنا لازم نہیں ہوتا۔ (کیونکہ دن کا آخر اُس کیفیت پر ہوتا ہے کہ اگر صبح صادق کے وقت یہ کیفیت ہوتی تو روزہ ہی فرض نہ ہوتا۔) (العناية شرح الهدايہ، جلد 2، صفحہ 363، مطبوعہ مصر)
روزے داروں کی طرح دن گزارنے کی حکمت بیان کرتے ہوئے شيخ مخدوم ہاشم ٹھٹھوی حنفی رَحْمَۃُاللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ (وِصال: 1174ھ / 1760ء) نے لکھا:
و اما وجوب الامساک فللتشبہ بالصائمین قضاء لحق الوقت بالقدر الممکن، اعني بالتشبہ عند فوات قضائہ بالصوم، فان ھذا الوقت واجب التعظیم بالصوم و لا یمکنہ ذلک فیعظمہ بالتشبہ رعایة لحقہ بقدر الامکان، کذا في الھدایة و شروحھا
ترجمہ: رہا دن کے بقیہ حصے میں کھانے پینے سے رک جانے کا وجوب، تو اِس کی وجہ یہ ہے کہ روزہ داروں کے ساتھ مشابہت اختیار کی جائے تاکہ اس وقت کا حق ادا ہو سکے، یعنی جب روزہ فوت ہو گیا، تو اب وہ روزہ تو نہیں رکھ سکتا، لیکن اس وقت کی تعظیم اور روزے کا احترام بہرحال واجب ہے، اس لیے وہ روزے داروں کے ساتھ مشابہت اختیار کرے تاکہ اپنی استطاعت کے مطابق اس وقت کا حق ادا کر سکے، جیساکہ الھدایۃ اور اس کی شروحات میں مذکور ہے۔ (مظھر الانوار فی مسائل الصیام، صفحہ 448، دار النعیمی للنشر و التوزیع)
روزے داروں کی مشابہت واجب ہے یا مستحب؛ اِس پر فقہائےاحناف کا اختلاف ہے۔ قولِ صحیح و مختار یہ ہے کہ یہ مشابہت رکھنا واجب ہے، چنانچہ امام کمال الدین ابنِ ہُمَّام رَحْمَۃُاللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ (وِصال:861ھ / 1456ء) نے اختلاف نقل کرنے کے بعد نے لکھا:
و الصحيح الوجوب لأن محمدا قال فليصم، و قال في الحائض فلتدع و قول الإمام لا يحسن تعليل للوجوب: أي لا يحسن بل يقبح
ترجمہ:صحیح قول یہی ہے کہ ایسی صورت میں باقی دن رکنا واجب ہے، کیونکہ امام محمد رَحْمَۃُاللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ نے فرمایا ہے کہ اسے روزہ رکھنا چاہیے اور حائضہ عورت کے بارے میں آپ نے فرمایا ہے کہ وہ اسے چھوڑ دے۔ عبارت میں موجود قول لا یحسن وجوب کی علت کے طور پر ہے، یعنی مطلب یہ ہے کہ اس صورت میں کھانا پینا اچھا نہیں، بلکہ برا اور قبیح عمل ہے۔ (فتح القدیر، جلد 02، صفحہ 363، مطبوعہ مصر)
وَاللہُ اَعْلَمُ عَزَّوَجَلَّ وَ رَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَ سَلَّم
مجیب: مفتی محمد قاسم عطاری
فتویٰ نمبر: FSD-9844
تاریخ اجراء: 15 رمضان المبارک 1447ھ / 05 مارچ 2026ء