روزے دار کو کھاتے پیتے دیکھ کر یاد دلانا ضروری ہے؟
بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ
روزے دار کو کھاتے پیتے دیکھا تو یاد دلانا ضروری ہے؟
دارالافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی)
سوال
کیا فرماتے ہیں علمائے دین و مفتیانِ شرع متین اس مسئلے کے بارے میں کہ اگر کوئی بوڑھا روزے کی حالت میں کچھ کھا پی رہا ہو،تو اُسے یاد نہ کروایا جائے، البتہ جوان کھا پی رہا ہو تو ضرور خبردار کریں۔ اِس پر دو سوال ہیں۔ (1) اگر جوان کو یاد نہ کروایا، تو کیا گناہ بھی ملے گا؟ (2) اگر کوئی جوان ہو، مگر کمزور بہت زیادہ ہو، یعنی کسی شدید مرض میں مبتلا رہا ہو اور اب حال میں ہی تندرستی نصیب ہوئی ہو، مگر بدن بہت جلدی نقاہت یا کمزوری محسوس کرتا ہو، اگر ایسا جوان کھا یا پی رہا ہو، تو کیا اُسے یاد کروانا بھی منع ہے؟
جواب
حکم شرعی یہ ہے کہ اگر کوئی روزہ دار کھاتا پیتا نظر آئے اور وہ روزہ دار ایسا کمزور ہو کہ اگر یہ یاد دلائے گا، تووہ کھانا پینا چھوڑ دے گا، لیکن کھانا پینا چھوڑنے کے سبب کمزوری اتنی بڑھ جائے گی کہ روزہ مکمل کرنا نہایت دشوار ہو جائے گا اور اگر کھا پی لے گا، تو روزہ آسانی سے مکمل کر سکے گا، تو ایسے کمزور شخص کو اُس کا روزے سے ہونا یاد نہ کروانا بہتر ہے، بلکہ اُسے کھانے پینے میں مشغول رہنے دینا چاہیے۔ البتہ اگر کوئی صحت مند ہے، یعنی اُس کی بیان کردہ کیفیت نہیں ہے، اگر ایسا شخص کھا پی رہا ہو، تو اُسے خبردار کرنا اور روزہ یاد کروانا واجب ہے۔ اگر دیکھنے والا یاد نہیں کروائے گا تو گنہگار ہو گا۔
یاد رکھیں کہ فقہائے کرام نے اِس مسئلےمیں جوان اور بوڑھے کی تقسیم اکثری کیفیت کے اعتبار سے کی ہے، کیونکہ عموماً کمزوری والی کیفیت بوڑھے اور صحت مندی کی حالت جوان کی ہوتی ہے، لہذا اِس مسئلہ میں حقیقی دار و مدار کسی شخص کی صحت مندی یا کمزوری پر ہے۔ ممکن ہے کہ کوئی جواں عمر ہی ایسا کمزور ہو کہ اُسے یاد کروا کر کھانے پینے سے روکنا اُس کے بقیہ دن کے لیے سخت آزمائش اور تکلیف کا سبب بن جائے۔ لہذا صورتِ مسئولہ میں اگر جوان شخص ایسی کمزوری کی کیفیت میں ہے کہ جسے اوپر بیان کیا جا چکا، تو اُسے یاد نہ کروانا بہتر ہے۔
روزہ یاد کروانے یا نہ کروانے کا دارومدار اُس شخص کی صحت مندی یا کمزوری پر ہوتا ہے، چنانچہ شيخ مخدوم ہاشم ٹھٹھوی حنفی رَحْمَۃُاللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ (وِصال: 1174ھ / 1760ء) نے لکھا:
و إن کان شابا یقوی علی الصوم یکرہ أن لایخبرہ، و الظاھر أنھا تحریمۃ، کذا فی البحر الرائق، و المدار فی ذلک علی الضعف، و لا فرق بین أن یکون شیخا أو شابا، و التقیید بالشیخوخۃ و الشباب فی بعض العبارات لیس احترازیا بل اتفاقیا، و لذا ترکہ المحقق ابن الھمام رحمہ اللہ
ترجمہ: اگر وہ شخص جوان ہو اور روزے کی قوت وطاقت بھی رکھتا ہو، تو اُس کو مطلع نہ کرنا مکروہ ہے اور ظاہر یہی ہے کہ یہ مکروہِ تحریمی ہے، جیسا کہ بحر الرائق میں ہے۔ اس مسئلے کا دارو مدارکمزوری پر ہے۔ اس میں بوڑھے اور جوان ہونے کا کوئی فرق نہیں ہے۔ بعض عباراتِ فقہاء میں جو بڑھاپے اور جوانی کی قید لگائی گئی ہے، وہ احترازی نہیں، بلکہ اتفاقی ہے، اسی لیے علامہ ابن ہمام رَحْمَۃُاللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ نے اس قید کو چھوڑ دیا ہے۔ (مظھر الانوار فی مسائل الصیام، صفحہ 309، دار النعیمی للنشر والتوزیع)
صدر الشریعہ مفتی محمد امجد علی اعظمی رَحْمَۃُاللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ (وِصال: 1367ھ / 1947ء) لکھتے ہیں: کسی روزہ دارکو اِن افعال (کھانا، پینا، جماع) میں دیکھے تو یاد دلانا واجب ہے، یاد نہ دلایا تو گنہگار ہوا، مگر جب کہ وہ روزہ دار بہت کمزور ہو کہ یاد دلائے گا، تو وہ کھانا چھوڑ دے گا اور کمزوری اتنی بڑھ جائے گی کہ روزہ رکھنا دشوار ہوگا اور کھا لے گا تو روزہ بھی اچھی طرح پورا کر لے گا اور دیگر عبادتیں بھی بخوبی ادا کر لے گا ،تو اس صورت میں یاد نہ دلانا بہتر ہے۔ بعض مشائخ نے کہا: جوان کو دیکھے تو یاد دلادے اور بوڑھے کو دیکھے تو یاد نہ دلانے میں حرج نہیں۔ مگر یہ حکم اکثر کے لحاظ سے ہے کہ جوان اکثر قوی ہوتے ہیں اور بوڑھے اکثر کمزور اور اصل حکم یہ ہے کہ جوانی اور بڑھاپے کو کوئی دخل نہیں، بلکہ قوت و ضعف کا لحاظ ہے، لہٰذا اگر جوان اس قدر کمزور ہو تو یاد نہ دلانے میں حرج نہیں اوربوڑھا قوی ہو تو یاد دلانا واجب۔ (بھار شریعت، جلد 1، حصہ 5، صفحہ 981، مکتبۃ المدینہ،کراچی)
وَاللہُ اَعْلَمُ عَزَّوَجَلَّ وَ رَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَ سَلَّم
مجیب: مفتی محمد قاسم عطاری
فتویٰ نمبر: FSD-9843
تاریخ اجراء: 15 رمضان المبارک 1447ھ / 05 مارچ 2026ء