logo logo
AI Search

اعتکاف میں ناجائز زیور پہننے سے اعتکاف کا حکم

بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

کیا اعتکاف کی حالت میں ناجائز زیور پہننے سے اعتکاف ٹوٹ جائے گا؟

دارالافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی)

سوال

کیا فرماتے ہیں علمائے دین و مفتیان شرع متین اس مسئلے کے بارے میں کہ اگر مرد معتکف نے اعتکاف میں ناجائز زیور پہنا ہوا ہو، جیسے چاندی کی ایک سے زائد انگوٹھیاں پہنی ہوں یا گلے میں چین پہنی ہو یا ہاتھ میں پیتل، لوہے یا کسی بھی قسم کے کڑے پہنے ہوں، تو کیا اس سے اعتکاف ٹوٹ جاتا ہے؟

جواب

پوچھی گئی صورت میں ان چیزوں کے استعمال سے اعتکاف فاسد نہیں ہوگا، کیونکہ ناجائز زیور پہننا اگرچہ گناہ ہے، لیکن اس کا حرام ہونا اعتکاف کی وجہ سے نہیں ہے، بلکہ اعتکاف کے علاوہ مواقع پر بھی یہ حرام ہے، جیسا کہ فقہائے کرام رحمہم اللہ السلام فرماتے ہیں کہ گالی گلوچ یا جھگڑا کرنے سے اعتکاف فاسد نہیں ہوتا، یونہی کسی نے اعتکاف میں رات میں نشہ کیا، توا س سے بھی اعتکاف فاسد نہیں ہوگا، کیونکہ گالی گلوچ، لڑائی جھگڑا، نشہ وغیرہ اگرچہ حرام ہے، لیکن خاص اعتکاف کی وجہ سے حرام نہیں۔

واضح رہے کہ سوال میں جن صورتوں کا ذکر کیا گیا یا ان کے علاوہ زیورات کی وہ صورتیں جن کا اختیار کرنا مرد کے لئے جائز نہیں، تو جب یہ عام حالات اور مسجد سے باہر اور اعتکاف کے علاوہ جائز نہیں، تو کس قدر بد قسمتی کی بات ہے کہ مسجد میں بیٹھ کر اعتکاف کی حالت میں مرد یہ حالت اپنائے۔ اگرچہ اس سے اعتکاف فاسد نہیں ہوتا، مگر بے نور و بے برکت ضرور ہوجاتا ہے، خاص کر جو نماز اس حالت میں پڑھی جائے گی وہ مکروہ تحریمی ہو گی اور دیگر تمام واجب اللحاظ خرابیوں سے بچتے ہوئے اس نماز کا اعادہ یعنی دوبارہ پڑھنا واجب ہوگا۔

اعتکاف میں گالی گلوچ، لڑائی جھگڑا کرنے سےاعتکاف فاسد نہیں ہوتا، جیساکہ شمس الائمہ ابو بکر محمد بن ابو سہل سرخسی رحمۃ اللہ علیہ (متوفی: 483ھ) فرماتے ہیں:

”(قال: ولا يفسد الاعتكاف سباب ولا جدال) فان حرمة هذه الاشياء ليس لاجل الاعتكاف الا ترى انه كان محرما قبل الاعتكاف ولا يفوت به ركن الاعتكاف وهو اللبث ولا شرطه وهو الصوم “

یعنی گالی گلوچ اور جھگڑا کرنے سے اعتکاف فاسد نہیں ہوتا، کیونکہ ان چیزوں کا حرام ہونا اعتکاف کی وجہ سے نہیں ہے، غور کریں کہ یہ چیزیں اعتکاف سے پہلے بھی حرام ہیں نیز ان سے اعتکاف کا رکن یعنی جائے اعتکاف میں ٹھہرے رہنا فوت نہیں ہوتا، نہ ہی اعتکاف کی شرط یعنی روزہ رکھنے کی شرط فوت ہوتی ہے۔ (المبسوط للسرخسی، باب الاعتکاف، ج3، ص126، مطبوعہ دار الکتب العلمیہ، بیروت)

فقیہ النفس امام فخر الدین حسن بن منصوراوزجندی المعروف امام قاضی خان رحمۃ اللہ علیہ (متوفی: 593ھ)اپنےفتاوی میں فرماتے ہیں:

”اذا سكر المعتكف ليلاً لم يفسد اعتكافه لانه تناول محظور الدين لا محظور الاعتكاف فلا يفسد اعتكافه كما لو اكل مال الغير “

یعنی معتکف نے رات میں نشہ کیا، تو اعتکاف فاسد نہ ہوا، کیونکہ یہ دین میں ممنوع کام کا ارتکاب ہے، خاص اعتکاف کا ممنوع نہیں، لہذا اعتکاف فاسد نہیں ہوگا، جیسے اگر کوئی دوسرے کا مال ناحق طور پر کھا جائے(تو اعتکاف فاسد نہیں ہوگا)۔ (فتاوی قاضی خان، ج1، ص199، مطبوعہ کراچی)

کراہتِ تحریمی کے ساتھ ادا کی جانے والی نماز کا اعادہ واجب ہے، جیساکہ در مختار میں ہے: ”کل صلاۃ ادیت مع کراھۃ التحریم تجب اعادتھا“یعنی ہر وہ نماز جو کراہتِ تحریمی کے ساتھ ادا کی جائے، اس کودوبارہ پڑھناواجب ہے۔ (الدرّ المختار مع رد المحتار، ج02، ص182-183، مطبوعہ کوئٹہ)

ناجائز لباس یا زیور پہن کرپڑھی جانے والی نمازمکروہِ تحریمی ہوجاتی ہے، جیساکہ امام اہلسنت اعلی حضرت امام احمد رضا خان رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں: ”فی الواقع ریشمیں کپڑا پہن کر نماز مرد کے لئے مکروہ تحریمی ہے کہ اسے اتار کر پھر سے پڑھنا واجب۔۔۔بعینہ یہی حکم ان سب چیزوں کا ہے جن کا پہننا ناجائز ہے، جیسے ریشمیں کمر بندیا مغرق ٹوپی یا وہ کپڑا جس پرریشم یا چاندی یا سونے کے کام کاکوئی بیل بوٹاچار اُنگل سے زیادہ عرض کا ہو یا ہاتھ خواہ پاؤں میں تانبے، سونے، چاندی، پیتل، لوہے کے چھلے یا کان میں بالی یا بندا یاسونے خواہ تانبے پیتل لوہے کی انگوٹھی اگرچہ ایک تار کی ہو یا ساڑھے چار ماشے چاندی یا کئی نگ کی انگوٹھی یا کئی انگوٹھیاں اگرچہ سب مل کر ایک ہی ماشہ کی ہوں کہ یہ سب چیزیں مردوں کو حرام و ناجائز ہیں اور ان سے نماز مکروہِ تحریمی۔“ (فتاوی رضویہ، ج07، ص306-307، مطبوعہ رضا فاؤنڈیشن لاہور، ملتقطاً)

صدر الشریعہ مفتی امجد علی اعظمی رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں: ”گالی گلوچ یا جھگڑا کرنے سے اعتکاف فاسد نہیں ہوتا، مگر بےنور وبےبرکت ہوتا ہے۔۔۔معتکف نے حرام مال یا نشہ کی چیز رات میں کھائی، تو اعتکاف فاسد نہ ہوا۔مگر اس حرام کا گناہ ہوا، توبہ کرے۔“ (بھارشریعت، ج01، حصہ05، ص1026، مطبوعہ مکتبۃ المدینہ، ملتقطاً)

وَ اللہُ اَعْلَمُ عَزَّ وَ جَلَّ وَ رَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَ اٰلِہٖ وَ سَلَّم

مجیب:ابو الحسن رضا محمد عطاری مدنی

مصدق:مفتی ابو محمد علی اصغر عطاری مدنی
فتویٰ نمبر: Nor-13762
تاریخ اجراء: 23 رمضان المبارک 1446 ھ/24 مارچ 2025 ء