logo logo
AI Search

سفر کی وجہ سے روزہ توڑنے کا حکم

بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

سفر کی وجہ سے روزہ توڑ دیا تو کیا حکم ہے ؟

دارالافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی)

سوال

میں کراچی سے اکیسویں روزے کو عمرے کیلئے روانہ ہوا، چونکہ میری فلائٹ 11 بجے صبح کی تھی، اس لئے میں نے اس دن کا روزہ رکھ لیا اور ساتھ ہی میری زوجہ اور والدہ نے بھی روزہ رکھا،  جب ہم سب کا سفر شروع ہوا تو ہم نے روزہ توڑدیا ، کیونکہ ہمارا یہ خیال تھا کہ مسافر بننے کی وجہ سے  اب ہمارے لئے روزہ ضروری نہیں رہا، اب قافلہ نگران نے بتایا ہے کہ اس طرح روزہ توڑنا جائز نہیں! رہنمائی فرمائیں کہ کیا سفر کی وجہ سے روزہ توڑنا جائز نہیں تھا ؟ اب قضا و کفارہ کا کیا حکم ہے ؟

جواب

اگر کوئی شخص صبحِ صادق کے وقت شرعی مسافر نہ ہو بلکہ اپنے شہر یا گاؤں کی حدود میں موجود ہو اور اسے سحری کا وقت ختم ہونے کے بعد دن میں شرعی سفر کرنا ہو، تو یہ سفر اس دن کا روزہ چھوڑنے کے لیے عذر نہیں مانا جاتا اور اس پر اس دن کا روزہ لازم ہوجاتا ہے اور جب اس نے روزہ رکھ لیا  تو اب اس پر اس روزے کو پورا کرنابھی لازم ہے، محض سفر شروع ہوجانے کی وجہ سے روزہ توڑنا حرام اور گناہ ہے، ہاں اس صورت میں کفارہ نہیں، صرف قضا لازم ہوتی ہے۔

مصنف عبد الرزاق میں امام حسن بصری علیہ الرحمۃ سے ہے:

”إذا أصبح الرجل صائما في شهر رمضان، ثم خرج مسافرا نهارا، فلا يفطر ذلك اليوم إلا أن يخاف العطش على نفسه، فإن تخوفه أفطر، والقضاء عليه، فإن شاء بعد أفطر، وإن شاء صام“

ترجمہ: جب کسی شخص نے ماہِ رمضان میں روزہ دار ہونے کی حالت میں صبح کی پھر اس نے دن میں سفر کیا تو وہ اس دن کا روزہ نہ توڑے  الا یہ کہ اس کو اپنی جان پر پیاس کا خوف ہو  تو اگر ایسا خوف ہو تو روزہ توڑدے اور اس پر قضا لازم ہے، پھر مسافر بن جانے کے بعد اب اگر چاہے تو بقیہ ایام کے روزے رکھے اور چاہے تو نہ رکھے۔ (مصنف عبد الرزاق ، باب السفر فی شھر رمضان، ج 04، ص 270، مجلس العلمي )

مبسوط سرخسی اور فتح القدیر میں ہے، :

بالفاظ متقاربۃ ”رجل أصبح في أهله صائما ثم سافر لم يفطر؛ لأنه حين أصبح مقيما وجب عليه أداء الصوم في هذا اليوم حقا لله تعالى وإنما أنشأ السفر باختياره فلا يسقط به ما تقرر وجوبه عليه، وإن أفطر فلا كفارة عليه لتمكن الشبهة بسبب اقتران المبيح للفطر فإن السفر مبيح للفطر في الجملة وكفارة الفطر تسقط بالشبهة “

ترجمہ: ایک شخص نے گھر میں روزے کی حالت میں صبح کی پھر اس نے سفر کیا تو وہ روزہ نہیں توڑسکتا ، کیونکہ جب اس نے مقیم ہونے کی حالت میں صبح کو پایا تو اس پر اس دن میں اللہ تعالیٰ کے حق کی وجہ سے روزہ رکھنا واجب ہو گیا اور اب اس نے جو سفر شروع کیا وہ اپنے اختیار سے کیا، لہٰذا اس کی وجہ سے وہ واجب ساقط نہ ہوگا جو اس پر مقرر ہو چکا اور اگر اس نے روزہ توڑا تو اس پر کفارہ لازم نہیں، کیونکہ روزہ نہ رکھنے کو مباح کرنے والا سبب مل جانے کی وجہ سے  شبہ پیدا ہو گیا ہے، اس لئے کہ سفر فی الجملہ روزہ نہ رکھنے کو مباح کر دیتا ہے اور روزہ توڑنے کا کفارہ شبہ کی وجہ سے ساقط ہو جاتا ہے۔ (المبسوط للامام السرخسی، ج 03، ص 68، دار المعرفة - بيروت)(فتح القدیر، ج02 ، ص 365، دار الفکر)

فتاوٰی عالمگیری اور درمختار میں ہے،

واللفظ للآخر : ”يجب على مقيم إتمام صوم يوم منه أي رمضان سافر فيه أي في ذلك اليوم و لكن لا كفارة عليه لو أفطر للشبهة“

ترجمہ: رمضان کے جس دن میں مقیم نے سفر شروع کیا تو اس دن کا رکھا ہوا روزہ مقیم پر پورا کرنا واجب ہے لیکن اگر اس نے روزہ توڑدیا تو اس پر  شبہ کی وجہ سے کفارہ لازم نہیں۔ (الفتاوی الھندیۃ، ج 01، ص 206، دار الفکر ) (الدر المختار مع رد المحتار، ج 02، ص 431، دار الفکر)

علامہ ابن عابدین شامی علیہ الرحمۃ درمختار کی عبارت ”يجب على مقيم“ کے تحت لکھتے ہیں:

”أن السفر لا يبيح الفطر، وإنما يبيح عدم الشروع في الصوم، فلو سافر بعد الفجر لا يحل الفطر قال في البحر: وكذا لو نوى المسافر الصوم ليلا وأصبح من غير أن ينقض عزيمته قبل الفجر ثم أصبح صائما لا يحل فطره في ذلك اليوم، ولو أفطر لا كفارة عليه“

ترجمہ: سفر روزہ توڑنے کو مباح نہیں کرتا، یہ تو ابتداءہی سے روزہ نہ رکھنے کو مباح کرتا ہے تو اگر کسی نے صبح صادق کے بعد سفر کیا تو اب روزہ توڑنا مباح نہیں، بحر میں فرمایا کہ اسی طرح اگر کسی مسافر نے رات میں روزے کی نیت کرلی اور اس نے صبح اس حال میں کی کہ صبح صادق سے پہلے والا اس کا عزم نہ ٹوٹا پھر اس نے روزہ رکھ لیا تو اب اس کیلئے اس دن میں اس روزے کو توڑنا جائز نہیں اور اگر توڑا تو اس پر کفارہ لازم نہیں۔ (الدر المختار مع رد المحتار، ج 02، ص 431، دار الفکر)

وَ اللہُ اَعْلَمُ عَزَّ وَ جَلَّ وَ رَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَ اٰلِہٖ وَ سَلَّم

مجیب: مفتی محمد قاسم عطاری
فتویٰ نمبر: HAB-0546
تاریخ اجراء: 26 رمضان المبارک 1446ھ/27 مارچ 2025ء