logo logo
AI Search

اعتکاف کے دوران مسجد سے باہر جانا

بسم اللہ الرحمن الرحیم

اعتکاف کے دوران مسجد سے باہر جانے کی صورتیں

دارالافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی)

سوال

اعتکاف کے دوران کن کن ضروریات کے لئے مسجد سے باہر جانا جائز ہے؟

جواب

عمومی شرعی مسئلہ یہ ہے کہ معتکف کے لیے مسجد سے نکلنے کے دو اعذار ہیں:

(1) حاجتِ طبعی: کہ مسجد میں پوری نہ ہو سکے، جیسے پاخانہ، پیشاب، استنجا، نیز وضو اور ضرورت ہو تو غسل، بشرطیکہ وضو و غسل جائز طریقے سے مسجد کے اندر ممکن نہ ہوں، یونہی اگر مسجد میں وضو و غسل کے لیے جگہ بنی ہو یا حوض ہو تو باہر جانے کی اب اجازت نہیں۔

(2) حاجتِ شرعی: مثلاً جمعہ وغیرہ کی خاطر بقدرِ ضرورت نکلنا جائز ہے (یعنی جب اس مسجد میں جمعہ وغیرہ نہ ہوتا ہو)۔

یہ مختصر اور عمومی جواب ہے، جس میں مزید تفصیلات موجود ہیں، لہٰذا اگر کسی کو دورانِ اعتکاف ان اعذار کی وجہ سے مسجد سے نکلنے کی حاجت ہو، تو وہ اپنی صورت حال کی مکمل تفصیل سے آگاہ کرکے کسی مستند مفتی صاحب سے شرعی رہنمائی لے کر اس کے مطابق عمل کرے۔

در مختار میں ہے

(حرم علیہ)۔۔۔ (الخروج الا لحاجۃ الانسان) طبیعیۃ کبول وغائط و غسل لو احتلم ولا یمکنہ الاغتسال فی المسجد، کذا فی النھر (او) شرعیۃ کعید واذان لو مؤذنا وباب المنارۃ خارج المسجد

ترجمہ: معتکف پر مسجد سے باہر جانا حرام ہے مگر انسان کی حاجت طبعیہ کے لیے جیسا کہ پاخانہ، پیشاب، اور اگر احتلام ہو جائے تو غسل کے لیے بشرطیکہ مسجد میں غسل ممکن نہ ہو، اسی طرح نہر میں ہے، یا حاجت شرعیہ کے لیے جیسا کہ عید اور اذان کے لیے جبکہ وہ مؤذن ہو اور منار کا دروازہ مسجد سے باہر ہو۔ (الدر المختار مع رد المحتار، جلد3، صفحہ 501، مطبوعہ: کوئٹہ)

بہارِ شریعت میں ہے معتکف کو مسجد سے نکلنے کے دو عذر ہیں۔ ایک حاجت طبعی کہ مسجد میں پوری نہ ہو سکے جیسے پاخانہ، پیشاب، استنجا، وضو اور غسل کی ضرورت ہو تو غسل، مگر غسل و وضو میں یہ شرط ہے کہ مسجد میں نہ ہو سکیں یعنی کوئی ایسی چیز نہ ہو جس میں وضو و غسل کا پانی لے سکے اس طرح کہ مسجد میں پانی کی کوئی بوند نہ گرے کہ وضو و غسل کا پانی مسجد میں گرانا، ناجائز ہے اور لگن وغیرہ موجود ہو کہ اس میں وضو اس طرح کر سکتا ہے کہ کوئی چھینٹ مسجد میں نہ گرے تو وضو کے لیے مسجد سے نکلنا جائز نہیں، نکلے گا تو اعتکاف جاتا رہے گا۔ یوہیں اگر مسجد میں وضو و غسل کے لیے جگہ بنی ہو یا حوض ہو تو باہر جانے کی اب اجازت نہیں۔ دوم حاجت شرعی مثلاً عید یا جمعہ کے لیے جانا یا اذان کہنے کے لیے منارہ پر جانا، جبکہ منارہ پر جانے کے لیے باہر ہی سے راستہ ہو اور اگر منارہ کا راستہ اندر سے ہو تو غیر مؤذن بھی منارہ پر جا سکتا ہے مؤذن کی تخصیص نہیں۔ (بہارِ شریعت، جلد 1، حصہ 5، صفحہ 1023 -1024، مکتبۃ المدینہ، کراچی)

وَاللہُ اَعْلَمُ عَزَّوَجَلَّ وَ رَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَ سَلَّم

مجیب: مولانا عبدالرب شاکر عطاری مدنی

فتوی نمبر: WAT-4629

تاریخ اجراء: 22رجب المرجب1447ھ/12جنوری2026ء