logo logo
AI Search

خون نکلنے سے روزہ ٹوٹتا ہے یا نہیں؟

بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

خون نکلنے سے روزے پر اثر پڑتا ہے یا نہیں؟

دارالافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی)

سوال

بواسیر کی بیماری کی وجہ سے جو پچھلے مقام سے خون آتا ہے، کیا اس سے روزہ ٹوٹ جاتا ہے؟

جواب

پچھلے مقام یا جسم کے کسی بھی حصے سے خون کے محض نکلنے سے روزہ نہیں ٹوٹتا۔ بدائع الصنائع میں ہے

”قال النبي صلى اللہ عليه وسلم: الفطر مما يدخل، والوضوء مما يخرج“

ترجمہ: نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: روزہ اُن چیزوں سے ٹوٹتا ہے جو (جسم کے اندر) داخل ہوں، اور وضو اُن چیزوں سے ٹوٹتا ہے جو (جسم سے) خارج ہوں۔ (بدائع الصنائع، کتاب الصوم، جلد 2، صفحہ 242، مطبوعہ: کوئٹہ)

عنایہ شرح ہدایہ میں ہے

”فإن الحجامة كالفصد في خروج الدم من العروق والفصد لا يفسد، فكذا الحجامة“

ترجمہ: حجامہ فصد کی طرح ہی ہے رگوں سے خون نکلنے کے اعتبار سے اور فصد سے روزہ نہیں ٹوٹتا، تو یونہی حجامہ سے بھی نہیں ٹوٹتا۔ (عنایہ شرح ہدایہ، ج 2، ص 376، دار الفكر)

وَ اللہُ اَعْلَمُ عَزَّ وَ جَلَّ وَ رَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَ اٰلِہٖ وَ سَلَّم

مجیب: مفتی محمد سجاد عطاری مدنی
فتویٰ نمبر: WAT-4794
تاریخ اجراء: 06 رمضان المبارک1447ھ/24 فروری 2026ء