مہینے کے اعتکاف میں پہلے 20 دنوں میں مسجد سے باہر جانا
بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ
مہینے کا اعتکاف کرنے والے کا پہلے 20 دنوں میں مسجد سے باہر جانا
دارالافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی)
سوال
کیا ایک ماہ کا اعتکاف کرنے والا پہلے 20 دنوں میں مسجد سے باہر جاسکتا ہے؟
جواب
رمضان شریف کے ایک ماہ کے اعتکاف میں پہلے بیس دن کا اعتکاف نفلی اعتکاف کہلاتا ہے، جبکہ اعتکاف کی منت نہ مانی ہو، اور نفل اعتکاف میں مسجد سے باہر جانا جائز ہے، لیکن باہر جانے سے نفلی اعتکاف بھی ختم ہو جاتا ہے، اور مسجد میں آ کر اعتکاف کا ثواب حاصل کرنے کے لیے دوبارہ سے اعتکاف کی نیت کرنا ضروری ہے، لیکن اس کی قضا کے وہ احکام نہیں جو سنت اعتکاف کے ہیں، یعنی نفلی اعتکاف کی قضا لازم نہیں۔ ہاں یہ یادرہے کہ ! اس صورت میں وہ پورے مہینے کا اعتکاف کرنے والا شمار نہیں ہوگا، لہذا پورے مہینے کے اعتکاف کی فضیلت بھی نہیں ملے گی۔
فتاوی عالمگیری میں ہے
”وينقسم إلى واجب، وهو المنذور تنجيزا أو تعليقا، وإلى سنة مؤكدة، وهو في العشر الأخير من رمضان، وإلى مستحب، وهو ما سواهما۔۔۔ إن الصوم ليس بشرط في التطوع، وليس لأقله تقدير على الظاهر حتى لو دخل المسجد ونوى الاعتكاف إلى أن يخرج منه صح“
ترجمہ: اعتکاف کی تین اقسام ہیں: واجب، وہ جس کی منت مانی ہو، منت چاہے معلق ہو یا منجز۔ سنت مؤکدہ، وہ جو رمضان کے آخری عشرے میں ہوتا ہے۔ مستحب، وہ اعتکاف جو ان دونوں کے علاوہ ہو۔ نفلی اعتکاف کے لیے روزہ شرط نہیں اور ظاہر قول کے مطابق اس کی کم سے کم کوئی مقدار نہیں، یہاں تک کہ مسجد میں داخل ہو کر باہر نکلنے تک اعتکاف کی نیت کی تو اعتکاف صحیح ہے۔ (فتاویٰ عالمگیری، جلد 1، صفحہ 211، مطبوعہ: کوئٹہ)
ماہِ رمضان میں پہلے بیس دن کا اعتکاف نفل ہوتا ہے۔ چنانچہ صدر الشریعہ بدر الطریقہ مفتی محمد امجد علی اعظمی رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں: ”اعتکاف تین قسم ہے: (1) واجب، کہ اعتکاف کی منّت مانی یعنی زبان سے کہا، محض دل میں ارادہ سے واجب نہ ہوگا۔ (2) سنت مؤکدہ، کہ رمضان کے پورے عشرہ اخیرہ یعنی آخر کے دس دن میں اعتکاف کیا جائے یعنی بیسویں رمضان کو سورج ڈوبتے وقت بہ نیّت اعتکاف مسجد میں ہو اور تیسویں کے غروب کے بعد یا انتیس کو چاند ہونے کے بعد نکلے۔ اگر بیسویں تاریخ کو بعد نماز مغرب نیّت اعتکاف کی تو سنت مؤکدہ ادا نہ ہوئی اور یہ اعتکاف سنت کفایہ ہے کہ اگر سب ترک کریں تو سب سے مطالبہ ہوگا اور شہر میں ایک نے کر لیا تو سب بری الذمہ۔ (3) ان دو (واجب و سنت اعتکاف) کے علاوہ اور جو اعتکاف کیا جائے وہ مستحب و سنت غیر مؤکدہ ہے۔ اعتکافِ مستحب کے لیے نہ روزہ شرط ہے، نہ اس کے لیے کوئی خاص وقت مقرر، بلکہ جب مسجد میں اعتکاف کی نیّت کی، جب تک مسجد میں ہے معتکف ہے، چلا آیا اعتکاف ختم ہوگیا۔“ (بہارِ شریعت، جلد 1، حصہ5، صفحہ 1021، مکتبۃ المدینہ، کراچی)
نفل اعتکاف کی قضا نہیں، چنانچہ بہارِ شریعت میں ہی ہے ”اعتکاف نفل اگر چھوڑ دے تو اس کی قضا نہیں کہ وہیں تک ختم ہو گیا۔“ (بہارِ شریعت، جلد 1، حصہ5، صفحہ 1021، مکتبۃ المدینہ، کراچی)
وَ اللہُ اَعْلَمُ عَزَّ وَ جَلَّ وَ رَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَ اٰلِہٖ وَ سَلَّم
مجیب: مولانا محمد فرحان افضل عطاری مدنی
فتویٰ نمبر: WAT-4782
تاریخ اجراء: 08 رمضان المبارک1447ھ/26 فروری 2026ء