روزے کی حالت میں لینس لگانا کیسا؟
بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ
روزے کی حالت میں آنکھوں میں لینس لگانا کیسا؟
دارالافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی)
سوال
کیا فرماتے ہیں علمائے دین و مفتیانِ شرع متین اس مسئلہ کے بارے میں کہ بعض لوگ آنکھوں میں لینس لگاتے ہیں، تو کیا روزے کی حالت میں لینس لگا سکتے ہیں؟
جواب
اولا یہ سمجھ لیجیے کہ دورِ حاضر کی تحقیق کے مطابق جید فقہائے کرام کا موقف یہ ہے کہ آنکھ اور حلق کے درمیان ایک ایسا منفذ یعنی راستہ موجود ہے کہ جس کے ذریعے آنکھ میں ڈالی جانے والی کوئی چیز براہِ راست حلق میں اور وہاں سے معدے میں داخل ہو جاتی ہے اور جدید میڈیکل سائنس کی تحقیق سے بھی یہی ثابت ہے کہ دونوں آنکھوں کے پپوٹوں پر ناک کی جانب اوپر نیچے باقاعدہ دو نالیاں ہیں، جو حلق تک جاتی ہیں، انہیں (Punctum) کہا جاتا ہے، انہیں عام حالت میں آنکھوں سے بآسانی دیکھا جا سکتا ہے، جیسا کہ ذیل میں دئیے گئے لنک سے اس منفذکو واضح طور پر دیکھا جا سکتا ہے۔
اور حکمِ شرعی یہ ہے کہ جب کوئی چیز ایسے منفذ (راستے) میں داخل کر دی جائے، جس کا تعلق براہِ راست معدے یا دماغ سے ہو، تو روزہ ٹوٹ جاتا ہے اور چونکہ لینس عموما ایک خاص قسم کے پانی (Liquid) میں رکھے جاتے ہیں اور انہیں اسی تَر حالت میں لیکوئیڈ سے نکال کر آنکھوں میں لگایا جاتا ہے، اگرچہ وہ تری بالکل معمولی ہوتی ہے، لیکن روزے میں کم یا زیادہ کا اعتبار نہیں ہوتا، کوئی معمولی چیز بھی حلق سے نیچے اتار لی، تو روزہ ٹوٹ جائے گا، لہٰذا روزے کی حالت میں لینس لگانے کی اجازت نہیں کہ اگر انہیں تر حالت میں لگایا، تو روزہ ٹوٹ جائے گا، جس کی قضا لازم ہوگی، کفارہ لازم نہیں ہوگا۔ اور اگر کوئی شخص لینس لگانے کا عادی ہو، تو وہ سحری کے وقت میں ہی لگا لے یا افطار کے بعد لگائے۔
کسی چیز کے پیٹ، دماغ یا ان تک جانے والے راستوں میں پہنچنے سے روزہ ٹوٹ جاتا ہے، چنانچہ ملک العلماء علامہ کاسانی حنفی رَحْمَۃُ اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ (سالِ وفات: 587ھ / 1191ء) لکھتے ہیں:
ما وصل إلى الجوف أو إلى الدماغ عن المخارق الأصلية كالأنف و الأذن و الدبر بأن استعط أو احتقن أو أقطر في أذنه فوصل إلى الجوف أو إلى الدماغ فسد صومه وأما ما وصل إلى الجوف أو إلى الدماغ عن غير المخارق الأصلية بأن داوى الجائفة، و الآمة، فإن داواها بدواء يابس لا يفسد لأنه لم يصل إلى الجوف و لا إلى الدماغ و لو علم أنه وصل يفسد
ترجمہ: کوئی چیز کسی اصلی یا مصنوعی راستے، مثلاً ناک، کان یا مقعد کے ذریعے معدہ یا دماغ تک پہنچ جائے، تو روزہ ٹوٹ گیا، یعنی روزہ دار نے ناک میں اوپر تک پانی چڑھایا یا حقنہ لیا یا کان میں پانی ڈالا، جو کہ معدہ (یا معدہ تک جانے والے اندرونی راستوں) یا دماغ تک پہنچ گیا، تو روزہ ٹوٹ گیا، بہرحال وہ چیز جو پیٹ یا دماغ تک قدرتی بنے ہوئے راستوں سے نہ پہنچے، جیسا کہ سر یا معدہ میں گہرا زخم ہوا اور روزہ دار نے وہاں خشک دوا ڈالی، تو روزہ نہیں ٹوٹے گا، کیونکہ وہ دوا معدہ یا دماغ میں نہیں گئی اور اگر یہ معلوم ہو جائے کہ معدہ یا دماغ تک پہنچ گئی ہے، تو روزہ ٹوٹ جائے گا۔ (بدا ئع الصنائع، کتاب الصیام،فصل فی ارکان الصیام، جلد 2، صفحہ 603، مطبوعہ کوئٹہ)
بدن میں کوئی چیز پہنچنے سے روزہ کب ٹوٹے گا، اس کے متعلق اصلِ کلی بیان کرتے ہوئے امام کمال الدین ابنِ ہمام رَحْمَۃُاللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ (سالِ وفات: 861ھ / 1456ء) لکھتے ہیں:
و المفطر الداخل من المنافذ كالمدخل و المخرج لا من المسام الذي هو خلل البدن للاتفاق
ترجمہ: اور روزہ توڑنے والی چیز وہ ہے جو منافذ (داخل ہونے یا نکلنے کے عام راستے) کے ذریعے جائے، نہ کہ مسام کے ذریعے جو بدن کے خلل میں شمار ہوتے ہیں، اس پر فقہاء کا اتفاق ہے۔ (فتح القدیر، جلد 2، صفحہ 330، مطبوعہ دار الفکر، لبنان)
یہی مفہوم نہر الفائق اور ردالمحتار میں بھی بیان کیا گیا ہے۔ فقیہ اعظم پاکستان مفتی محمد نور اللہ نعیمی رَحْمَۃُاللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ (سالِ وفات: 1403ھ / 1982ء) لکھتے ہیں: جوف تک پہنچنے والے کسی اصلی راستے (حلق، کان، ناک وغیرہ) کے اندرونی حصہ میں یا دماغ میں حسبِ دستور سوئی کے خود ساختہ راستہ سے دوائی پہنچانا بھی مفسد ہے، کیونکہ دماغ اور اصلی راستوں کے اندرونی حصے بھی جوف ہی کے حکم میں ہیں، اس لیے کہ ان راستوں کے خلا، خلاءِ پیٹ سے ملے ہوئے ہیں اور دماغ و جوف کے مابین بھی چونکہ قدرتی راستہ ہے، توجو چیز دماغ میں پہنچے وہ جوف میں پہنچ جاتی ہے، لہٰذا دماغ اور اصلی راستوں کے اندرونی حصے جوف کے کونوں کی طرح ہیں۔ (فتاویٰ نوریہ، جلد 2، صفحہ 219، مطبوعہ دار العلوم حنفیہ فریدیہ، بصیر پور)
روزہ میں لینس لگائے، تو صرف قضا لازم ہوگی، کفارہ نہیں، چنانچہ ناک وغیرہ میں دوا چڑھانے کے متعلق تنویر الابصار ودرمختار مع رد المحتار میں ہے:
(احتقن أو استعط) في أنفه شيئا...فوصل الدواء حقيقة إلى جوفه و دماغه... (قضى) في الصور كلها (فقط) أي: بدون كفارة
ترجمہ: حقنہ لیا یا ناک میں کوئی دوا چڑھائی پھر وہ حقیقۃً جوف یا دماغ تک پہنچ گئی، تو ان تمام صورتوں میں فقط روزہ قضا کرے گا، یعنی کفارہ لازم نہیں ہوگا۔ (تنویر الابصار و در مختار مع رد المحتار، جلد 3، صفحہ 432، 439، مطبوعہ کوئٹہ)
وَاللہُ اَعْلَمُ عَزَّوَجَلَّ وَ رَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَ سَلَّم
مجیب: مفتی محمد قاسم عطاری
فتویٰ نمبر: FSD-9795
تاریخ اجراء: 25 شعبان المعظم 1447ھ / 14 فروری 2026 ء