نفلی روزے میں نیت سے پہلے بھول کر پانی پینا
بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ
سحری کا وقت ختم ہونے کے بعد کچھ کھا پی لیا تو نفل روزے کی نیت کا حکم
دارالافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی)
سوال
کیا فرماتے ہیں علمائے دین ومفتیانِ شرعِ متین اس مسئلے کے بارے میں کہ ہم گھر والوں کی رجب و شعبان کے اکثر دنوں میں نفل روزے رکھنے کی عادت ہے اور یہ شرعی مسئلہ بھی معلوم ہے کہ اگر رات میں نفل روزے کی نیت نہیں کی اور سحری کا وقت ختم ہو گیا، تو دن میں کچھ کھائے پیے بغیر ضحوۂ کبری سے پہلے پہلے نفل روزے کی نیت کر سکتے ہیں۔ ایک رات ایسا ہوا کہ میری سحری میں آنکھ نہیں کھلی اور فجر کے وقت جاگا، تو بھی نفل روزے کی نیت کرنا یاد نہ رہا اور بھول کر پانی پی لیا۔ پھر یاد آیا کہ مجھے تو نفل روزہ رکھنا تھا، تو یہ بھول کر پانی پینے کے بعد میں نے نفل روزے کی نیت کر لی۔ سوال یہ ہے کہ اگر کسی نے سحری کا وقت ختم ہونے سے پہلے پہلے نفل روزے کی نیت نہ کی ہو، پھر وہ سحری کا وقت ختم ہونے کے بعد بھول کر کچھ کھا یا پی بھی لے، تو اب کیا وہ نفل روزے کی نیت کر سکتا ہے اور اس کا نفل روزہ ہو جائے گا یا اب روزہ نہیں ہو گا؟ اور میرا اس دن کا وہ روزہ ہوا یا نہیں ہوا؟
جواب
پوچھی گئی صورت میں جب روزے کی نیت کیے بغیر سحری کا وقت ختم ہو گیا تھا، پھر آپ کو نفل روزے کی نیت کرنا یاد نہیں رہا اور بھول کر پانی پی لیا، تو اس کے بعد نفل روزے کی نیت درست نہیں ہوئی اور آپ کا روزہ نہیں ہوا، کیونکہ سحری کا وقت ختم ہو جانے کے بعد اور نفل روزے کی نیت کرنے سے پہلے بھول کر روزے کے خلاف کوئی کام کر لیا جائے، تو اب نفل روزے کی نیت نہیں ہو سکتی۔
اس مسئلے کی تفصیل یہ ہے کہ فقہائے کِرام نے جو یہ حکم بیان فرمایا ہے کہ روزے کی نیت سے پہلے بھول کر کھانے پینے یا روزے کے خلاف کوئی کام کرنے کا وہی حکم ہے، جو حکم نیت کے بعد بھول کر ایسا کام کرنے کا ہے، اس کا تعلق صرف تین قِسم کے روزوں سے ہے۔ پہلا رمضان کریم کے جاری مہینے کا فرض روزہ۔ دوسرا نذرِ معین کا روزہ یعنی کسی نے خاص اِسی دن کو مقرر کر کے روزے کی منت مانی تھی، جس کی وجہ سے شرعا یہ اس کے لیے نذرِ معین کا دن قرار پا چکا تھا۔ تیسرا 29 شعبان کے بعد والے دن یومِ شک کا روزہ کہ جب رات میں آسمان پر بادل تھے، جس کی وجہ سے رات میں معلوم نہیں ہوا تھا کہ آج 30 شعبان ہے یا 01 رمضان، اور بھول کر کھانے والے اسی تعیین کے انتظار میں ہو کہ ایسی شک والی صورت میں حکم یہ ہے کہ روزے کی نیت نہ کریں، لیکن سحری کا وقت ختم ہونے کے بعد سے ضحوۂ کبرٰی یعنی آدھا شرعی دن گزرنے تک (جس کے بعد سے زوال یعنی سورج ڈھلنے تک نماز و سجدہ ناجائز ہوتا ہے) کچھ نہ کھائیں پئیں، پھر اگر ضحوۂ کبرٰی تک شرعی اعتبار سے ثابت ہو جائے کہ آج 01رمضان ہے ، تو فرض روزے کی اس طرح نیت کر لیں کہ میں صبح روزے کے وقت ہی سے روزہ دار ہوں۔ ان تین روزوں میں اگر کسی نے دن کے وقت میں بھول کر روزے کے خلاف کوئی کام کر لیا اور اس وقت تک روزے کی نیت نہیں کی تھی، تو اس بھول کے بعد بھی ان روزوں کی نیت درست ہو جاتی اور روزہ ہو جاتا ہے، کیونکہ شریعت کی طرف سے یہ دن ان روزوں کے لیے مقرر تھے، اور یوم الشک بغیر کھائے انتظارِ روزہ کے لئے تھا تو ان میں یہ کہا جا سکتا ہے کہ انسان بھول گیا تھا کہ آج روزے کا دن ہے اور اس نے بھول کر کھا پی لیا ہے، لہٰذا یہ بھول معاف ہے، لیکن ان تین کے علاوہ چار قِسم یعنی نفل، قضا، کفارہ اور نذرغیر معین (دن مقرر کیے بغیر جس روزے کی منت مانی تھی، اس) کے روزوں میں نیت درست نہیں ہو سکتی، کیونکہ ان روزوں کے لیے شریعت کی طرف سے کوئی خاص دن مقرر نہیں ہے بلکہ یہ روزے کسی بھی دن رکھے جا سکتے ہیں، لہٰذا ان میں یہ کہنا کہ انسان روزہ بھول گیا تھا، یہ اس کی ظاہری حالت و صورت کے مطابق نہیں، اس لیے ضروری ہے کہ ان کی نیت سے پہلے بھول کر بھی روزے کے خلاف کوئی کام نہ کیا ہو اور اگر نیت سے پہلے بھول کر ایسا کوئی کام کر لیا، تو اب کسی بھی روزے کی نیت نہیں کر سکتا اور نیت کرنے سے روزہ نہیں ہو گا، لہٰذا کسی دوسرے دن روزہ رکھے۔
تنویر الابصار ودرمختار میں ہے:
(اذا اکل الصائم او شرب او جامع) حال کونہ (ناسیا) فی الفرض و النفل قبل النیۃ او بعدھا علی الصحیح، بحر عن القنیۃ۔۔۔ (لم یفطر)، ملخصا
ترجمہ: بحر میں قنیہ کے حوالے سے ہے کہ جب روزہ دار نے فرض اور نفل روزے میں نیت کرنے سے پہلے یا نیت کرنے کے بعد بھول کر کھا یا پی لیا یا جماع کر لیا، تو صحیح قول کے مطابق اس کا روزہ نہیں ٹوٹے گا۔(الدر المختار مع رد المحتار، ج 3، ص 419۔ 428، مطبوعہ کوئٹہ)
اس کے تحت حاشیۃ الطحطاوی علی الدر المختار میں ہے:
(قولہ: قبل النیۃ او بعدھا) نقلہ فی النھر عن القنیۃ ایضا، قال ابو السعود: و فیہ نظر لان کلام المصنف لیس بمطلق لتقییدہ بقولہ: فان اکل الصائم، و اسم الفاعل حقیقۃ فی المتلبس بالفعل، و من ھنا جزم فی الشرنبلالیۃ عن القدوری بانہ اذا اکل ناسیا قبل النیۃ ثم نوی الصوم لا یجوز صومہ اھ وقد تقدم عن الھندیۃ ان شرط صحۃ النیۃ قبل الضحوۃ ان لا یاکل و لا یشرب قبلھا، و الاکل ناسیا قبل النیۃ فی النفل غیر ظاھر، و الذی یقتضیہ النظر التعویل علی ما فی الھندیۃ و الشرنبلالیۃ و انفراد القنیۃ بحکمٍ مخالفٍ لا یعتبر
ترجمہ: درِ مختار کی عبارت (نیت سے پہلے یا نیت کے بعد) اسے قنیہ کے حوالے سے نہر الفائق میں بھی نقل کیا ہے۔ علامہ ابو سعود نے فرمایا: یہ قابلِ غور ہے ، کیونکہ مصنف رحمۃ اللہ علیہ کی عبارت مطلق نہیں ہے بلکہ انہوں نے اس میں اپنے اس قول سے قید لگائی ہے کہ ”اگر روزہ دار نے کچھ کھا لیا“ اور اسمِ فاعل حقیقت میں ایسے شخص کے لیے استعمال ہوتا ہے، جو اس فعل (کام) کو کر رہا ہو۔ اسی وجہ سے قدوری کے حوالے سے شرنبلالیہ نے جزم کیا کہ جب اس نے روزے کی نیت سے پہلے بھول کر کچھ کھا لیا، پھر روزے کی نیت کی، تو اس کا روزہ درست نہیں ہو گا اور پیچھے فتاوی عالمگیری کے حوالے سے گزرا کہ ضحوۂ کبرٰی سے پہلے نیت درست ہونے کی شرط یہ ہے کہ نیت سے پہلے کچھ کھایا پیا نہ ہو اور نفل روزے میں نیت سے پہلے بھول کر کچھ کھا لینا ظاہر کے مطابق نہیں ہے اور غور و فکر کا تقاضا یہ ہے کہ اعتماد اس حکم پر کیا جائے، جو عالمگیری اور شرنبلالیہ میں ہے اور قنیہ کا کسی مسئلے میں مخالف حکم کا کوئی اعتبار نہیں ہوتا۔ (حاشیۃ الطحطاوی علی الدر المختار، ج 1، ص 449، مطبوعہ کوئٹہ)
درِ مختار کی عبارت میں فرض و نفل روزے سے رمضان کے جاری مہینے کا فرض روزہ، 29 شعبان کے بعد والے دن یومِ شک کا روزہ اور نذرِ معین کا روزہ مراد ہونے، جبکہ عام نفل روزے، یونہی قضا، کفارہ، نذرِ غیر معین کے روزے مراد نہ ہونے کے متعلق رد المحتار میں ہے:
(قوله: قبل النية أو بعدها) قدم الشارح هذه المسألة عن شرح الوهبانية قبيل قوله رأى مكلف هلال رمضان إلخ و صورها في المتلوم تبعا للوهبانية و شرحها لكونه في معنى الصائم إذا ظهرت رمضانية اليوم بعدما أكل ناسيا ثم نوى فيتصور منه النسيان ای : نسیان تلوّمہ لاجل الصوم، بخلاف المتنفل فإنه لو أكل قبل النية لا يسمى ناسيا وكذا في صوم القضاء و الكفارة، نعم يتصور النسيان في أداء رمضان و المنذور المعين
ترجمہ: درِ مختار کی عبارت (نیت سے پہلے یا نیت کے بعد) شارح نے یہ مسئلہ اپنی اس عبارت (جب کسی مکلف نے رمضان کا چاند دیکھا) سے کچھ پہلے شرح وہبانیہ کے حوالے سے ذکر کیا ہے اور وہبانیہ و شرح وہبانیہ کی پیروی کرتے ہوئے اس کی وضاحت متلوم (یومِ شک میں روزے کا انتظار کرنے والے شخص) سے کی ہے، کیونکہ وہ روزہ دار ہی کے حکم میں ہوتا ہے، تو جب اس کے بھول کر کھا لینے کے بعد آج رمضان کا دن ہونا ظاہر ہو گیا، پھر اس نے روزے کی نیت کی، تو (ایسی صورت میں) اس سے روزے کی خاطر سے اپنے انتظار کو بھول جانے کا تصور کیا جا سکتا ہے۔ اس کے برخلاف نفل روزہ رکھنے والے کے لیے بھول جانے کا تصور نہیں ہو سکتا، کیونکہ اگر اس نے نفل روزے کی نیت کرنے سے پہلے کچھ کھا لیا، تو اسے بھول جانے والا نہیں کہا جاتا اور اسی طرح قضا اور کفارہ کے روزے میں بھی یہی حکم ہے۔ البتہ رمضان کریم کے ادا روزے اور نذرِ معین کے روزے میں بھول جانے کا تصور ہو سکتا ہے۔ (رد المحتار علی الدر المختار، ج 3، ص 419 ۔ 420، مطبوعہ کوئٹہ)
یومِ شک میں رمضان کے روزے کا انتظار کرنے والا بھول کر کچھ کھا پی لے، تو اس میں حرج نہیں۔ چنانچہ تنویر الابصار و درِ مختار میں ہے:
(و لا یصام یوم الشک) ھو یوم الثلاثین من شعبان، و۔۔۔ أكل المتلوم ناسيا قبل النية كأكله بعدها و هو الصحيح، شرح وهبانية، ملخصا
ترجمہ: اور شک کے دن روزہ نہ رکھا جائے، یہ شعبان کی تیس تاریخ ہے اور روزے کا انتظار کرنے والے کا بھول کر نیت سے پہلے کچھ کھا لینا نیت کے بعد کھا لینے کی طرح ہے اور یہی صحیح ہے۔ یہ شرح وہبانیہ میں ہے۔
رد المحتار میں ہے:
(قوله: كأكله بعدها) فلو ظهرت رمضانيته و نوى الصوم بعد الأكل جاز، لأن أكل الناسي لا يفطره
ترجمہ: (درِ مختار کی عبارت: نیت کے بعد کھا لینے کی طرح ہے) لہٰذا اگر اس دن کا رمضان ہونا ظاہر ہو گیا اور اس نے (بھول کر) کھانے کے بعد روزے کی نیت کی، تو روزہ درست ہے، کیونکہ بھول کر کھانے والے کا روزہ نہیں ٹوٹتا۔ (رد المحتار علی الدر المختار، ج 3، ص 399۔ 404، مطبوعہ کوئٹہ)
صدر الشریعہ مفتی محمد امجد علی اعظمی رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں: یوم الشّک یعنی شعبان کی تیسویں تاریخ کو۔۔۔ عوام کے لیے یہ حکم ہے کہ ضحوہ کبریٰ تک روزہ کے مثل رہیں، اگر اس وقت تک چاند کا ثبوت ہو جائے، تو رمضان کے روزے کی نیّت کر لیں، ورنہ کھا پی لیں۔۔۔ عوام کو جو یہ حکم دیا گیا کہ ضحوہ کبریٰ تک انتظار کریں، جس نے اس پر عمل کیا، مگر بھول کر کھا لیا، پھر اُس دن کا رمضان ہونا ظاہر ہوا، تو روزہ کی نیت کر لے، ہو جائے گا کہ انتظار کرنے والا روزہ دار کے حکم میں ہے اور بھول کر کھانے سے روزہ نہیں ٹوٹتا۔ ملخصا (بھار شریعت، حصہ 5، ج 1، ص 972 ۔ 973، مکتبۃ المدینہ، کراچی)
وَاللہُ اَعْلَمُ عَزَّوَجَلَّ وَ رَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَ سَلَّم
مجیب: مفتی محمد قاسم عطاری
فتویٰ نمبر: Aqs-2901
تاریخ اجراء: 22 شعبان المعظم 1447ھ / 11 فروری 2026ء