logo logo
AI Search

روزے میں نزلہ حلق میں اتر جانے سے روزہ کا حکم

بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

روزے کی حالت میں نزلہ حلق میں اتر جائے تو روزے کا حکم

دارالافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی)

سوال

کیا اگر نزلہ رک جائے، ناک سے نہ بہے، اور روزے کی حالت میں ہر گھنٹے بعد حلق سے کچھ اترتا محسوس ہو، تو ایسی صورت میں روزہ رکھنا چاہئے یا نہیں؟ اور کیا روزہ ٹوٹ جاتا ہے یا نہیں؟

جواب

پوچھی گئی صورت میں اگر کوئی شرعی عذر نہ ہو، تو نزلے کے محض حلق سے اترنے کی وجہ سے روزہ چھوڑنا ہر گز جائز نہیں، اس صورت میں روزہ رکھنا فرض و لازم ہے، کہ یہ کوئی ایسا عذر نہیں ہے، جس کی وجہ سے روزہ چھوڑنے کی اجازت مل جائے، اور اگر کسی نے روزہ رکھا، اور روزے کی حالت میں دماغ سے حلق کی طرف نزلہ اترتا محسوس ہوا، یا یقینی طورپرنزلہ اتر کر معدے میں چلا گیا، تب بھی اس سے روزہ نہیں ٹوٹے گا۔ فتاوی عالمگیری میں ہے

”لو دخل المخاط انفہ من راسہ ثم اشتشمہ فادخل حلقہ عمدا لم یفطرہ“

ترجمہ: اگر سر سے ناک میں رینٹھ آئی پھر اس کو کھینچا، اور جان بوجھ کر حلق میں لے گیا، تو بھی اس سے روزہ نہیں ٹوٹے گا۔ (فتاوی عالمگیری، جلد 1، صفحہ 203، مطبوعہ: کوئٹہ)

بہار شریعت میں ہے "ناک میں رینٹھ آگئی بلکہ ناک سے باہر ہوگئی مگر منقطع نہ ہوئی تھی کہ اُسے چڑھا کر نگل گیا یا کھنکار مونھ میں آیا اور کھا گیا اگرچہ کتنا ہی ہو، روزہ نہ جائے گا مگر ان باتوں سے احتیاط چاہیے۔" (بہارِ شریعت، جلد 1، حصہ5، صفحہ983، مکتبۃ المدینہ، کراچی)

بہارِ شریعت میں ہے ”مریض کو مرض بڑھ جانے یا دیر میں اچھا ہونے یا تندرست کو بیمار ہو جانے کا گمان غالب ہو۔۔۔ تو ان سب کو اجازت ہے کہ اس دن روزہ نہ رکھیں۔ ان صورتوں میں غالب گمان کی قید ہے، محض وہم نا کافی ہے۔ غالب گمان کی تین صورتیں ہیں: (1) ا س کی ظاہر نشانی پائی جاتی ہے یا (2) اس شخص کا ذاتی تجربہ ہے یا (3) کسی مسلمان طبیب حاذق مستور یعنی غیر فاسق نے اُس کی خبر دی ہو۔“ (بہارِ شریعت، جلد 1، حصہ5، صفحہ 1003، مکتبۃ المدینہ، کراچی)

وَ اللہُ اَعْلَمُ عَزَّ وَ جَلَّ وَ رَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَ اٰلِہٖ وَ سَلَّم

مجیب: مفتی محمد حسان عطاری مدنی
فتویٰ نمبر: WAT-4796
تاریخ اجراء: 06 رمضان المبارک1447ھ/24 فروری 2026ء